الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَأَنَّهَا مُكَفِّرَةٌ لِلذُّنُوبِ باب: پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
عَنْ حُمْرَانَ قَالَ: كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً مِنْ مُنْذُ أَسْلَمَ فَوَضَعْتُ وَضُوءًا لَهُ ذَاتَ يَوْمٍ لِلصَّلَاةِ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ قَالَ: إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: بَدَا لِي أَنْ لَا أُحَدِّثَكُمُوهُ، فَقَالَ الْحَكْمُ بْنُ الْعَاصِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! إِنْ كَانَ خَيْرًا فَنَأْخُذُ بِهِ أَوْ شَرًّا فَنَتَّقِيهِ، قَالَ: فَقَالَ: فَإِنِّي مُحَدِّثُكُمْ بِهِ، تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَٰذَا الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ: ((مَنْ تَوَضَّأَ هَٰذَا الْوُضُوءَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَتَمَّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا كَفَّرَتْ عَنْهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصَّلَةِ الْأُخْرَى مَالَمْ يُصِبْ مَقْتَلَةً)) يَعْنِي كَبِيرَةًحمران کہتے ہیں: سیدنا عثمان ؓقبولیت ِ اسلام کے بعد ہر روز غسل کرتے تھے، ایک دن میں نے ان کے لیے نماز کے لیے وضو کا پانی رکھا، پس جب انھوں نے وضو کیا تو کہا: میں نے تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان کرنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ میں وہ تم کو بیان نہیں کروں گا۔ حکم بن عاص نے کہا: اے امیر المؤمنین! اگر وہ بھلائی پر مشتمل ہو گی تو ہم اس پر عمل کریں گے اور اگر اس میں کسی شرّ کا تعین کیا گیا تو ہم اس سے بچیں گے، یہ سن کر سیدنا عثمان ؓ نے کہا: ٹھیک ہے، میں تم لوگوں کو بیان کر دیتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وضو کی طرف وضو کیا اور پھر فرمایا: جس نے اس وضو کے مطابق وضو کیا اور اچھا وضو کیا، پھر نماز کے لیے کھڑا ہوا اور رکوع و سجود کو مکمل کیا، تو یہ نماز اپنے اور سابقہ نماز کے درمیان والے گناہوں کا کفارہ بن جائے گی، جب تک تباہ کرنے والے (یعنی کبیرہ) گناہ سے بچا جائے گا۔