حدیث نمبر: 1012
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ زَمَنَ الشِّتَاءِ وَالْوَرَقُ يَتَهَافَتُ فَأَخَذَ بِغُصْنَيْنِ مِنْ شَجَرَةٍ، قَالَ: فَجَعَلَ ذَلِكَ الْوَرَقُ يَتَهَافَتُ، قَالَ: فَقَالَ: ((يَا أَبَا ذَرٍّ!)) قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ لَيُصَلِّي الصَّلَاةَ يُرِيدُ بِهَا وَجْهَ اللَّهِ تَعَالَى فَتَهَافَتْ عَنْهُ ذُنُوبُهُ كَمَا يَتَهَافَتُ هَٰذَا الْوَرَقُ عَنْ هَٰذِهِ الشَّجَرَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابوذرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سردیوں کے موسم میں نکلے، جبکہ پتے گر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک درخت کی دو شاخیں پکڑیں اور ان سے پتے جھڑنا شروع ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر!)) میں نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک مسلمان بندہ جب نماز ادا کرتا ہے، جبکہ اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہو تو اس سے اس کے گناہ اس طرح گرتے ہیں، جیسے اس درخت سے یہ پتے گر رہے ہیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1012
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21556 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21889»