حدیث نمبر: 1011
عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَحْتَ شَجَرَةٍ وَأَخَذَ مِنْهَا غُصْنًا يَابِسًا فَهَزَّهُ حَتَّى تَحَاتَّ وَرَقُهُ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا عُثْمَانَ! أَلَا تَسْأَلُنِي لِمَ أَفْعَلُ هَٰذَا؟ قُلْتُ: وَلِمَ تَفْعَلُهُ؟ قَالَ: هَٰكَذَا فَعَلَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَأَخَذَ مِنْهَا غُصْنًا يَابِسًا فَهَزَّهُ حَتَّى تَحَاتَّ وَرَقُهُ، فَقَالَ: يَا سَلْمَانُ! أَلَا تَسْأَلُنِي لِمَ أَفْعَلُ هَٰذَا؟ قُلْتُ: وَلِمَ تَفْعَلُهُ؟ قَالَ: ((إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ تَحَاتَّ خَطَايَاهُ كَمَا يَتَحَاتُّ هَٰذَا الْوَرَقُ، وَقَالَ: {وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ، إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ، ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ}))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو عثمان کہتے ہیں: میں سیدنا سلمان فارسی ؓ کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھا، انھوں نے اس کی خشک ٹہنی کو پکڑا اور اس کو ہلایا، یہاں تک کہ اس کے پتے گر گئے، پھر کہا: اے ابو عثمان! کیا تم مجھ سے یہ سوال نہیں کرتے کہ میں نے ایسے کیوں کیاہے؟ میں نے کہا: جی آپ نے ایسے کیوں کیا ہے؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے ساتھ ایسے کیا تھا، جبکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خشک شاخ کو پکڑ کر ہلایا، یہاں تک کہ اس کے پتے گرگئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: سلمان! کیا تم مجھ سے سوال نہیں کرو گے کہ میں نے ایسے کیوں کیا ہے؟ میں نے کہا: جی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے کیوں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک مسلمان جب وضو کرتا ہے اور اچھا وضو کرتا ہے، پھر پانچ نمازیں ادا کرتا ہے تو اس کے گناہ اس طرح گر جاتے ہیں، جیسے یہ پتے گر جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: دن کے دونوں کناروں میں نماز قائم کر اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی، یقینا نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لیے۔ (سورۂ ہود: ۱۱۴)

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1011
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه بتمامه ومختصرا الطيالسي: 652، وابن ابي شيبة: 1/ 7، والدارمي: 719، والطبراني في الكبير : 6151 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23707 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24108»