حدیث نمبر: 4287
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْمُقْرِئُ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي الْعَنْبَسِ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أنا الْمُبَارَكُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، يَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ اثْنَتَانِ لَمْ تَكُنْ لَكَ ، وَاحِدَةٌ مِنْهُمَا جَعَلْتُ لَكَ نَصِيبًا مِنْ مَالِكَ حِينَ أَخَذْتُ بِكَظَمِكَ لأُطَهِّرَكَ بِهِ وَلأُزَكِّيَكَ ، وَصَلاةُ عِبَادِي عَلَيْكَ بَعْدَ انْقِضَاءِ أَجَلِكَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”اے آدم کے بیٹے! تمہارے اندر دو خصوصیات ہیں، جو پہلے تم میں نہیں تھیں، ایک یہ کہ جب تم اپنے غصے پر قابوپاؤ گے، تو میں تمہارے مال میں اضافہ کر دوں گا، تاکہ اس طرح تمہیں پاک و صاف کروں اور دوسری یہ کہ جب تمہاری زندگی پوری ہو جائے گی، تو میرے بندے تمہارے لیے دعا کرتے رہیں گے (یا نماز ادا کریں گے)۔“
حدیث نمبر: 4288
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ ، نَا بَقِيَّة ُ عَنْ خُلَيْدِ بْنِ أَبِي خُلَيْدٍ ، أَبِي حَلْبَسٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيه ِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ فَأَوْصَى ، وَكَانَتْ وَصِيَّةً عَلَى كِتَابِ اللَّهِ ، كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا تَرَكَ مِنْ زَكَاتِهِ ".
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن قرہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص کی موت کا وقت قریب آ جائے اور وہ کوئی وصیت کرے، تو اللہ تعالیٰ کی کتاب کے حکم کے مطابق، اگر اس کی وصیت ہو، تو یہ اس چیز کے لیے کفارہ بن جائے گی، جو وہ زکوٰة ادا نہیں کر سکا تھا۔“
حدیث نمبر: 4289
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَنْصُورٍ الْفَقِيهُ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِنْتِ شُرَحْبِيلَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، نَا عُتْبَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ تَصَدَّقَ عَلَيْكُمْ بِثُلُثِ أَمْوَالِكُمْ عِنْدَ وَفَاتِكُمْ زِيَادَةً فِي حَسَنَاتِكُمْ ، لِيَجْعَلَهَا لَكُمْ زَكَاةً فِي أَعْمَالِكُمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے موت کے قریب تمہیں تمہارے مال کا ایک تہائی حصہ، صدقے کے طور پر عطا کر دیا ہے، تاکہ تم اپنی نیکیوں میں اضافہ کر لو، تاکہ وہ تمہارے اعمال میں پاکیزگی کا باعث بن جائے۔“
حدیث نمبر: 4290
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى الشُّونِيزِيُّ ، نَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا حَقُّ امْرِئٍ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ مَالٌ يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ ، إِلا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کسی بھی شخص کو اس بات کا حق حاصل نہیں ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسا مال موجود ہو، جس میں اس نے وصیت کرنی ہو اور پھر دو راتیں ایسی گزر جائیں (کہ اس نے وہ وصیت تحریر نہ کی ہو)، اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہونی چاہیے۔“
حدیث نمبر: 4291
نَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الدَّرَنِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْقُرَشِيُّ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ مَالٌ يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ ، وَيَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ ، إِلا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”کسی بھی مسلمان شخص کو اس بات کا حق حاصل نہیں ہے کہ اس کے پاس مال موجود ہو، جس کے بارے میں اس نے وصیت کرنی ہو اور پھر دو راتیں ایسی گزر جائیں (کہ اس نے وصیت نہ کی ہو)، اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہونی چاہیے۔“
حدیث نمبر: 4292
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ لَقْلُوقٌ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ تَمَامٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا يَنْبَغِي لِرَجُلٍ أَتَى عَلَيْهِ ثَلاثَةٌ ، وَلَهُ مَالٌ يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ ، إِلا أَوْصَى فِيهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”کسی بھی شخص کے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ اس پر تین دن ایسے گزر جائیں کہ اس کے پاس ایسا مال موجود ہو کہ جس کے بارے میں اس نے وصیت کرنی ہو (اور اس نے وصیت نہ کی ہو)، اسے اس بارے میں وصیت کر دینی چاہیے۔“
حدیث نمبر: 4293
نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي بِاللَّهِ ، نَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، نَا عُمَرُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، نَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الإِضْرَارُ فِي الْوَصِيَّةِ مِنَ الْكَبَائِرِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”وصیت کرتے ہوئے کسی (وارث) کو نقصان پہنچانا کبیرہ گناہ ہے۔“
حدیث نمبر: 4294
نَا نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، نَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لِيَكْتُبِ الرَّجُلُ فِي وَصِيَّتِهِ : إِنْ حَدَثَ بِي حَدَثُ مَوْتٍ قَبْلَ أَنْ أُغَيِّرَ وَصِيَّتِي هَذِهِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”آدمی کو اپنی وصیت میں یہ تحریر کرنا چاہیے کہ اگر میں اپنی وصیت کو تبدیل کیے بغیر فوت ہو گیا (تو یوں ہو گا)۔“
حدیث نمبر: 4295
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَجُوزُ الْوَصِيَّةُ لِوَارِثٍ ، إِلا أَنْ يَشَاءَ الْوَرَثَةُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر دیگر ورثاء چاہیں (تو حکم مختلف ہو گا)۔“
حدیث نمبر: 4296
نَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عِيسَى ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَاسَرْجِسِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، نَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ ، إِلا أَنْ يَشَاءَ الْوَرَثَةُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”وصیت، وارث کے لیے نہیں ہوتی، البتہ اگر دیگر ورثاء چاہیں (تو ہو سکتی ہے)۔“
حدیث نمبر: 4297
نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ، نَا أَبِي ، عَنْ يُونُسَ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ ، إِلا أَنْ يَشَاءَ الْوَرَثَةُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر دیگر ورثاء چاہیں (تو ایسا ہو سکتا ہے)۔“
حدیث نمبر: 4298
نَا أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ ، نَا عُبَيْدُ بْنُ كَثِيرٍ ، نَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ، نَا نُوحُ بْنُ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ وَلا إِقْرَارَ بِدَيْنٍ " .
محمد محی الدین
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”وارث کے لیے وصیت نہیں ہو گی اور نہ ہی (وراثت کے مال میں) قرض کا اقرار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4299
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَرْزُوقٍ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أنا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ، قَالَ : " خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَسَمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ ، فَلا تَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ إِلا مِنَ الثُّلُثِ " ، .
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں ہمیں خطبہ دیتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی: ”اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ہر ایک شخص کا وراثت میں حصہ مقرر کر دیا ہے، اس لیے وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے، البتہ ایک تہائی مال میں (وصیت کی جا سکتی ہے)۔“
حدیث نمبر: 4300
قَالَ : وَنا سَعِيدُ بْنُ مَطَرٍ ، عَنْ شَهْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
اختلاف سند کے ساتھ اسی (گزشتہ) حدیث کے ہی مثل ہے۔
حدیث نمبر: 4301
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، نَا عِمْرَانُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ ، نَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ مَعَهُ بَعْضُ نِسَائِهِ يَنْتَظِرُونَ طُعَيِّمًا ، قَالَ : فَسَبَقَتْهَا قَالَ عِمْرَانُ : أَكْبَرُ ظَنِّي ، أَنَّهُ قَالَ : حَفْصَةُ بِصَحْفَةٍ فِيهَا ثَرِيدٌ ، قَالَ : فَوَضَعَتْهَا فَخَرَجَتْ عَائِشَةُ فَأَخَذَتِ الصَّحْفَةَ ، قَالَ : وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُحْجَبْنَ ، قَالَ : فَضَرَبَتْ بِهَا فَانْكَسَرَتْ فَأَخَذَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، قَالَ : فَضَمَّهَا ، وَقَالَ : بِكَفِّهِ يَصِفُ ذَلِكَ عِمْرَانُ ، وَقَالَ : " غَارَتْ أُمُّكُمْ " ، فَلَمَّا فَرَغَ أَرْسَلَ بِالصَّحْفَةِ إِلَى حَفْصَةَ وَأَرْسَلَ بِالْمَكْسُورَةِ إِلَى عَائِشَةَ فَصَارَتْ قَضِيَّةُ مَنْ كَسَرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ وَعَلَيْهِ مِثْلُهُ .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں اپنی بعض دیگر ازواج مطہرات کے ساتھ موجود تھے، یہ سب لوگ کھانے کا انتظار کر رہے تھے، سب سے پہلے وہ (راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے سیدہ حفصہ کا ذکر کیا تھا) سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اپنے پیالے میں ثرید لے کر آئیں اور اسے وہاں رکھا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا باہر آئیں، انہوں نے اس پیالے کو پکڑ کر (توڑ دیا)۔ راوی کہتے ہیں: یہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ سیدہ عائشہ نے اسے پکڑ کر توڑ دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے پکڑا اور اسے ملاتے ہوئے فرمایا (یہاں عمران نامی راوی نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے یہ بات بتائی تھی کہ اس طرح ملایا): ”تمہاری امی کو غصہ آ گیا تھا۔“ جب آپ کھا کر فارغ ہوئے، تو آپ نے ایک صحیح پیالہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو بھجوایا اور ٹوٹا ہوا پیالہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیا، گویا فیصلہ یہ ہوا کہ جو شخص کوئی چیز توڑ دے گا، وہ اس کو ملے گی اور اس پر اسی کی مانند چیز کی ادائیگی لازم ہو گی۔
حدیث نمبر: 4302
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ ، نَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : " وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا سورة التحريم آية 3 ، قَالَ : اطَّلَعَتْ حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَعَ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَقَالَ : لا تُخْبِرِي عَائِشَةَ، وَقَالَ لَهَا : إِنَّ أَبَاكِ وَأَبَاهَا سَيَمْلُكَانِ ، أَوْ سَيَلِيَانِ بَعْدِي فَلا تُخْبِرِي عَائِشَةَ ، فَانْطَلَقَتْ حَفْصَةُ فَأَخْبَرَتْ عَائِشَةَ فَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ فَعَرَّفَ بَعْضَهُ وَأَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ ، قَالَ : أَعْرَضَ عَنْ قَوْلِهِ : إِنَّ أَبَاكِ وَأَبَاهَا يَكُونَانِ بَعْدِي ، كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْشُرَ ذَلِكَ فِي النَّاسِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں: ”اور جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے سرگوشی میں کوئی بات کہی۔“ وہ فرماتے ہیں: سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اس وقت سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ (سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا) کے ساتھ موجود تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس بارے میں عائشہ کو نہ بتانا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ بھی فرمایا: ”تمہارے والد اور اس کے والد عنقریب حکمران بن جائیں گے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) میرے بعد حکومت کریں گے، تم عائشہ کو یہ بات نہ بتانا۔“ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا گئیں اور انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات بتا دی تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں آگاہ کر دیا تو سمجھ بات بتا دی اور کچھ بات بیان نہیں کی، انہوں نے اس بارے میں یہ بات بیان کی: ”تمہارے والد اور اس کے والد میرے بعد (حکومت کریں گے)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات اس لیے ناپسند ہوئی کہ یہ بات لوگوں میں پھیل نہ جائے، اسی لیے آپ نے یہ بات بیان نہیں کی۔
حدیث نمبر: 4303
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ ، نَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانُوا يَكْتُبُونَ فِي صُدُورِ وَصَايَاهُمْ : هَذَا مَا أَوْصَى فُلانُ بْنُ فُلانٍ ، أَوْصَى أَنْ يَشْهَدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لا رَيْبَ فِيهَا ، وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ ، وَأَوْصَى مَنْ تَرَكَ بَعْدَهُ مِنْ أَهْلِهِ أَنْ يَتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ ، وَأَنْ يُصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِهِمْ ، وَيُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنَّ كَانُوا مُؤْمِنِينَ ، وَأَوْصَاهُمْ بِمَا أَوْصَى بِهِ إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ " .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے لوگ اپنی وصیت کے آغاز میں یہ لکھوایا کرتے تھے: یہ وہ وصیت ہے، جو فلاں بن فلاں نے کی ہے، وہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہ ایک معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خاص بندے اور اس کے رسول ہیں، قیامت آنے والی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ قبروں میں موجود سب لوگوں کو زندہ کرے گا۔ پھر وہ اپنے پس ماندگان کو یہ تلقین کرتا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیں اور آپس میں صلح سے کام لیں، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کریں، اگر وہ ایمان رکھتے ہیں اور وہ ان کو یہ وصیت کر رہا ہے، جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو کی تھی کہ ”اے میرے بیٹو! بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ایک دین کو اختیار کر لیا ہے، تو جب تم مرنے لگو، تو مسلمان ہونا۔“