حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، نَا الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبَرَاءُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : " كَانَ لا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ عَلَى نَفْسِهِ " .
محمد محی الدین
ابن سیرین کے بارے میں یہ بات منقول ہے، وہ اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ آدمی اپنی بیوی کی کنیز کی قیمت خود ادا کر دے۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَوِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " لا بَأْسَ تُفْطِرُ الْحُبْلَى وَالْمُرْضِعُ فِي رَمَضَانَ الْيَوْمَ بَيْنَ الأَيَّامِ ، وَلا قَضَاءَ عَلَيْهِمَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یا شاید سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ فرماتے ہیں: اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ حاملہ عورت یا دودھ پلانے والی عورت رمضان کے مہینے میں ایک دن یا چند دن روزے نہ رکھے، اس پر قضاء لازم نہیں ہو گی۔
نَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ هَارُونَ بْنِ رُسْتُمَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا بَقِيَّةُ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ مَالِكٍ الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى أَحَدٍ بِيَمِينٍ ، وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ سَيَبِرُّهُ فَلَمْ يَفْعَلْ ، فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِي لَمْ يَبِرَّهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کسی قسم کے بارے میں حلف اٹھائے اور وہ یہ سمجھتا ہو کہ وہ اس کو پورا کر دے گا اور پھر وہ ایسا نہ کر سکے، تو اس کا گناہ اس شخص کے ذمے ہو گا، جس نے اسے پورا نہ کرنے دیا ہو۔“
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا الصَّغَانِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الطَّيِّبِ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، وَرَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةٌ طَبَقًا فِيهِ تَمْرٌ فَأَكَلْتُ مِنْهُ عَائِشَةُ ، وَأَلْقَتْ مِنْهُ تَمَرَاتٍ ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : أَقْسَمْتُ عَلَيْكِ إِلا أَكَلْتِيهِ كُلَّهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِرِّيهَا ، فَإِنَّ الإِثْمَ عَلَى الْمُحَنِّثِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک خاتون نے انہیں تھال بھیجا، جس میں کھجوریں تھیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس میں سے کچھ کھجوریں کھا لیں اور کچھ کھجوریں رہنے دیں، اس عورت نے کہا: کہ میں آپ کو یہ قسم دیتی ہوں کہ آپ یہ سب کھائیں گی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کو پورا کرو، کیونکہ قسم توڑنے والے کو گناہ ہوتا ہے۔“
نَا نَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا جَدِّي ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، أَنَّ حُذَيْفَةَ بَدَا لَهُ الصَّوْمُ بَعْدَمَا زَالَتِ الشَّمْسُ فَصَامَ " .
محمد محی الدین
ابوعبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سورج ڈھل جانے کے بعد سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ مناسب سمجھا کہ وہ روزہ رکھ لیں، تو انہوں نے روزہ رکھ لیا۔
نَا نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْوَرَّاقُ ، نَا أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ . ح وَنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الأَزْرَقُ ، نَا حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، قَالا : نَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " بَدَا لَهُ بَعْدَ أَنْ زَالَتِ الشَّمْسُ فَصَامَ " .
محمد محی الدین
ابوعبدالرحمن بیان کرتے ہیں: سورج ڈھل جانے کے بعد سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے روزہ رکھنے کا ارادہ کیا اور روزہ رکھ لیا۔
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، نَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى الشُّونِيزِيُّ وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَجَمَاعَةَ ، قَالُوا : نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ أَنَّ رَجُلا اطَّلَعَ عَلَى جَارِهِ ، فَخَذَفَ عَيْنَهُ بِحَصَاةٍ فَلا دِيَةَ ، وَلا قِصَاصَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اگر کوئی شخص اپنے پڑوس میں (یا کسی کے گھر میں) جھانک کر دیکھے اور دوسرا شخص کنکری مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دے، تو اس کی کوئی دیت اور کوئی قصاص نہیں ہو گا۔“
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدِ بْنِ حَفْصٍ ، إِمْلاءً مِنْ كِتَابِهِ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ بَزِيعٍ ، سَنَةَ تِسْعٍ وَخَمْسِينَ وَمِائَتَيْنِ ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ عَطِيَّةَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ ، وَاخْتُصِرَ لِي الْحَدِيثُ اخْتِصَارًا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مجھے جامع ترین کلمات عطا کیے گئے ہیں، اس لیے میں مختصر الفاظ میں بات پوری کرتا ہوں۔“
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ : وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْقُرْآنُ ذَلُولٌ ذُو وُجُوهٍ فَاحْمِلُوهُ عَلَى أَحْسَنِ وُجُوهِهِ " .
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”قرآن بہت نرم ہے، جس میں کئی پہلو پائے جاتے ہیں، تو اسے تم اسی صورت حال پر محمول کرو، جو سب سے بہتر ہو۔“
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَد ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْقَنْطَرِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ الْكَبِير ُ نَا جَبْرُونُ بْنُ وَاقِد ٍ ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَة َ عَنْ أَبِي الزُّبَيْر ِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّه ِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَلامِي لا ينسخ كَلامَ اللَّهِ ، وَكَلامُ اللَّهِ ينسخ كَلامِي ، وَكَلامُ اللَّهِ ينسخ بَعْضُهُ بَعْضًا " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”میرا کلام، اللہ کے کلام کو نسخ نہیں کر سکتا، لیکن اللہ تعالیٰ کا کلام میرے کلام کو نسخ کر سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلام کا ایک حصہ دوسرے کو نسخ کر سکتا ہے۔“
نَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْمَاطِيُّ ، نَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحَادِيثَنَا ينسخ بَعْضُهَا بَعْضًا كَنَسْخِ الْقُرْآنِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”قرآن کے منسوخ کرنے کی طرح ہماری احادیث بھی ایک دوسرے کو منسوخ کر دیتی ہیں۔“
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَزَّازُ ، نَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ ، نَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى أَبِي يُحَدِّثُنِي : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقُولُ الْقَوْلَ ، ثُمَّ يَلْبَثُ حِينًا ، ثُمَّ يَنْسَخَهُ بِقَوْلٍ آخَرَ ، كَمَا ينسخ الْقُرْآنُ بَعْضُهُ بَعْضًا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے والد کے بارے میں قسم اٹھا کر یہ بات بیان کرتا ہوں، انہوں نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات فرما دیتے تھے، پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اسے منسوخ کر دیا کرتے تھے، یہ بالکل اسی طرح تھا، جس طرح قرآن کا ایک حصہ دوسرے کو منسوخ کر دیتا ہے۔
نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَرِيكٍ ، نَا أَبِي ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَأَصْحَابَ الرَّأْيِ ، فَإِنَّهُمْ أَعْدَاءَ السُّنَنِ ، أَعْيَتْهُمُ الأَحَادِيثُ أَنْ يَحْفَظُوهَا ، فَقَالُوا بِالرَّأْيِ ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا " .
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ”تم اپنی رائے کی پیروی کرنے والوں سے بچنا، کیونکہ وہ لوگ سنت کے دشمن ہوں گے، وہ احادیث کو یاد نہیں رکھ سکیں گے اور اپنی رائے کے ذریعے حکم بیان کریں گے، وہ گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔“
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْجَمَالُ ، نَا هَاشِمُ بْنُ الْجُنَيْدِ أَبُو صَالِحٍ ، نَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، نَا مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ ، حِينَ حَدَّثَ فِيهِمُ الْمُوَلَّدُونَ أَبْنَاءُ سَبَايَا الأُمَمِ ، فَوَضَعُوا الرَّأْيَ فَضَلُّوا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”بنی اسرائیل اس وقت ہلاکت کا شکار ہو گئے، جب قیدی عورتوں کے بچوں نے ان میں نئی باتیں پیدا کرنی شروع کر دیں، ان لوگوں نے اپنی رائے پیش کرنا شروع کی اور وہ گمراہی کا شکار ہو گئے۔“
حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِنَحْوِ حَدِيثِ السَّهْمِىِّ عَنْ مَالِكٍ وَقَالَ فِيهِ إِنِّى لاَ أُصَافِحُ النِّسَاءَ إِنَّمَا قَوْلِى لاِمْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ كَقَوْلِى لِمِائَةِ امْرَأَةٍ .
محمد محی الدین
سیدہ امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی کی مانند حدیث نقل کرتی ہیں، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں عورتوں کے ساتھ مصافحہ نہیں کرتا اور ایک عورت کے ساتھ بھی میں اس طرح بات کرتا ہوں، جس طرح ایک سو خواتین کے ساتھ کرتا ہوں۔“
نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَ حَدِيثِ السَّهْمِيِّ ، عَنْ مَالِكٍ ، وَقَالَ فِيهِ : " إِنِّي لا أُصَافِحُ النِّسَاءَ ، إِنَّمَا قَوْلِي لامْرَأَةٍ كَقَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ " .
محمد محی الدین
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خالہ سیدہ امیمہ بنت رقیقہ بیان کرتی ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی، اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے۔
نَا عَلِيٌّ ، نَا أَحْمَدُ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا وَرْقَاءُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ ، وَكَانَتْ خَالَةَ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ . نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السَّهْمِيُّ ، نَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُبَايِعُهُ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " نُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ لا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلا نَسْرِقَ وَلا نَزْنِيَ ، وَلا نَقْتُلَ أَوْلادَنَا ، وَلا نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا ، وَلا نَعْصِيَكَ فِي مَعْرُوفٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ ، قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا ، هَلُمَّ نُبَايِعُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لا أُصَافِحُ النِّسَاءَ ، إِنَّ قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ كَقَوْلِي لامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ ، أَوْ مثل قَوْلِي لامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ " .
محمد محی الدین
سیدہ امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم لوگ بیعت کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، ہم نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ہم آپ کے دست اقدس پر اس بات کی بیعت کرتی ہیں کہ ہم کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہرائیں گی، ہم چوری نہیں کریں گی، ہم زنا نہیں کریں گی اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی اور اپنی طرف سے بنا کر کسی پر جھوٹا الزام نہیں لگائیں گی اور کسی بھی نیکی کے کام میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس حد تک، جس کی تمہیں استطاعت ہو اور جس کی تمہیں طاقت ہو۔“ ہم نے عرض کی: ”اللہ اور اس کے رسول ہمارے بارے میں ہماری اپنی ذات سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں، یا رسول اللہ! اپنا دست اقدس آگے کیجیے، تاکہ ہم آپ کی بیعت کر لیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں خواتین کے ساتھ مصافحہ نہیں کرتا، ایک سو خواتین کے ساتھ بھی میں اس طرح کلام کرتا ہوں، جس طرح ایک عورت کے ساتھ کرتا ہوں (یہاں پر ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو أُمَيَّةَ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، وَعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالُوا : نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ بَكَّارِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ إِذَا جَاءَهُ أَمْرٌ يَسُرُّهُ خَرَّ سَاجِدًا لِلَّهِ " .
محمد محی الدین
بکار بن عبدالعزیز اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی خوشی کی خبر ملتی تھی، تو آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں چلے جاتے تھے (یعنی سجدہ شکر کرتے تھے)۔
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ، نَا نُعَيْمٌ ، نَا رِشْدِينُ ، نَا عَقِيلٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُقَاتِلَ عَنْ أَحَدٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، إِلا عَنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم مشرکین کی طرف سے جنگ کریں، البتہ اہل ذمہ کی طرف سے ہم لڑائی کریں گے۔