حدیث نمبر: 4253
وَنا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا بُنْدَارٌ ، نَا مُحَمَّدٌ ، نَا شُعْبَةُ بِهَذَا ، قَالَ : " كُنَّا نَبِيعُ أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ام ولد کو فروخت کر دیا کرتے تھے۔“
حدیث نمبر: 4254
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ النَّقَّاشُ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، نَا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَفْرِيقِيِّ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَعْتَقَ أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ ، وَقَالَ عُمَرُ : أَعْتَقَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
محمد محی الدین
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ام ولد کنیزوں کو آزاد قرار دیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی تھی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انہیں آزاد قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 4255
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ ، نَا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّالانِيِّ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلامُ ، " أَنَّهُ فَرَّقَ بَيْنَ جَارِيَةٍ وَوَلَدِهَا ، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَرَدَّ الْبَيْعَ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ایک مرتبہ انہوں نے ایک کنیز اور اس کے بچے کے درمیان علیحدگی کر دی تھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس بات سے منع کیا تھا اور اس سودے کو ختم کر دیا تھا۔
حدیث نمبر: 4256
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، نَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، فَأَتَاهُ فَتًى مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : إِنَّ ابْنَةَ عَمٍّ لِي وَأَنَا وَلِيُّهَا أَعْتَقَتْ جَارِيَةً عَنْ دُبُرٍ لَيْسَ لَهَا مَالٌ غَيْرَهَا ، قَالَ زَيْدٌ : " فَلْتَأْخُذْ مِنْ رَحِمِهَا مَا دَامَتْ حَيَّةً " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
محمد محی الدین
سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس انصار کا ایک نوجوان آیا اور اس نے بتایا: میری ایک چچا زاد ہے، جس کا میں ولی ہوں، اس نے مدبر کے طور پر اپنی کنیز کو آزاد کر دیا ہے، اس (چچا زاد) کے پاس اس کنیز کے علاوہ اور کوئی مال نہیں ہے، تو سیدنا زید نے فرمایا: جب تک (تمہارا وہ چچا زاد) زندہ ہے، اس وقت تک تم اس کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ ابوبکر نامی راوی نے یہ کہا ہے: یہ حدیث ”غریب“ ہے۔
حدیث نمبر: 4257
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، وَالْمَيْمُونِيُّ ، قَالا : نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " وَلَدُ الْمُدَبَّرَةِ يُعْتَقُونَ بِعِتْقِهَا ، وَيُرَقُّونَ بِرِقِّهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں: مدبرہ کنیزوں کی اولاد، ان کی آزادی کے ساتھ آزاد شمار ہو گی اور ان کی غلامی کے ساتھ غلام شمار ہو گی۔
حدیث نمبر: 4258
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْغَفَّارِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، قَالَ : ذُكِرَ عِنْدَهُ أَنَّ عَطَاءً ، وَطَاوُسًا يَقُولانِ عَنْ جَابِرٍ " فِي الَّذِي أَعْتَقَهُ مَوْلاهُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ أَعْتَقَهُ عَنْ دُبُرٍ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَبِيعَهُ وَيَقْضِي دَيْنَهُ ، فَبَاعَهُ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ " ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ : شَهِدْتُ الْحَدِيثَ مِنْ جَابِرٍ : إِنَّمَا أَذِنَ فِي بَيْعِ خِدْمَتِهِ ، عَبْدُ الْغَفَّارِ ، ضَعِيفٌ ، وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، مُرْسَلا.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص نے اپنے غلام کو آزاد کر دیا، اس نے مدبر کے طور پر اسے آزاد کیا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو یہ ہدایت کی کہ وہ اس غلام کو فروخت کر کے اپنے قرض کو ادا کر لے، تو اس شخص نے اس غلام کو آٹھ سو درہم میں فروخت کیا تھا۔ ابوجعفر نامی راوی بیان کرتے ہیں: جس وقت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی، اس وقت میں بھی وہاں موجود تھا، انہوں نے اس بات کی اجازت دی تھی کہ اس کی خدمات کو فروخت کیا جا سکتا ہے۔ اس روایت کا راوی عبدالغفار ”ضعیف“ ہے، دیگر راویوں نے اسے ابوجعفر نامی راوی کے حوالے سے ”مرسل“ روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 4259
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، قَالَ : " بَاعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِدْمَةَ الْمُدَبَّرَةِ " .
محمد محی الدین
ابوجعفر نامی راوی (شاید یہ امام باقر رضی اللہ عنہ ہیں) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبرہ کنیز کی خدمات کو فروخت کیا تھا۔
حدیث نمبر: 4260
نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، وَهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، قَالا : نَا شَرِيكٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، قَالَ : " إِنَّمَا بَاعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِدْمَةَ الْمُدَبَّرَةِ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : لَمْ أَجِدْ فِيهِ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا ، وَأَبُو جَعْفَرٍ وَإِنْ كَانَ مِنَ الثِّقَاتِ فَإِنَّ حَدِيثَهُ مُرْسَلٌ.
محمد محی الدین
ابوجعفر نامی راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبرہ کنیز کی خدمات کو فروخت کیا تھا۔ ابوبکر نامی راوی بیان کرتے ہیں: مجھے اس بارے میں صرف یہی حدیث مل سکی ہے اور ابوجعفر نامی راوی اگرچہ ثقہ ہیں، لیکن ان کی روایت ”مرسل“ ہے۔
حدیث نمبر: 4261
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ، نَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ ، نَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا بَأْسَ بِبَيْعِ خَدَمَةِ الْمُدَبَّرِ إِذَا احْتَاجَ " ، هَذَا خَطَأٌ مِنِ ابْنِ طَرِيفٍ ، وَالصَّوَابُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، مُرْسَلا وَقَدْ تَقَدَّمَ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مدبر کی خدمات فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، جبکہ وہ ضرورت مند ہو۔“ ابن طریف نامی راوی کے حوالے سے منقول ہونے کے اعتبار سے یہ روایت غلط ہے، صحیح روایت یہ ہے کہ اسے عبدالملک نامی راوی نے ابوجعفر نامی راوی سے ”مرسل“ روایت کے طور پر نقل کیا ہے اور یہ روایت پہلے گزر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 4262
نَا أَبُو عَمْرٍو يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمُقَوِّمُ ، ثنا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعِ الْمُدَبَّرِ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر کو فروخت کرنے کا حکم دیا ہے۔
حدیث نمبر: 4263
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، قَالا : نَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ ظَبْيَانَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُدَبَّرُ مِنَ الثُّلُثِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مدبر (کی آزادی کا فیصلہ میت کے) ایک تہائی مال میں سے ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4264
نَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلاءِ الْكَاتِبُ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، وَجَمَاعَةٌ ، قَالُوا : نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ أَبُو مُعَاوِيَةَ الْجَزَرِيُّ ، عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدَةَ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُدَبَّرُ لا يُبَاعُ ، وَلا يُوهَبُ ، وَهُوَ حُرٌّ مِنَ الثُّلُثِ " ، لَمْ يُسْنِدْهُ غَيْرُ عُبَيْدَةَ بْنِ حَسَّانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَإِنَّمَا هُوَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، مَوْقُوفٌ مِنْ قَوْلِهِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مدبر غلام کو فروخت نہیں کیا جا سکتا، اسے ہبہ نہیں کیا جا سکتا، (میت کے) ایک تہائی مال میں سے وہ آزاد شمار ہو گا۔“ اس روایت کو صرف عبیدہ بن حسان نامی راوی نے سند کے ساتھ نقل کیا ہے اور یہ راوی ضعیف ہے۔ یہ روایت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ”موقوف“ روایت کے طور پر، یعنی ان کے اپنے قول کے طور پر منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4265
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا أَبُو النُّعْمَانِ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّهُ كَرِهَ بَيْعَ الْمُدَبَّرِ " ، هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ ، وَمَا قَبْلَهُ لا يُثْبَتُ مَرْفُوعًا ، وَرُوَاتُهُ ضُعَفَاءُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ مدبر کو فروخت کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔ یہی روایت مستند ہے اور یہ روایت ”موقوف“ ہے۔ اس سے پہلے کی روایت، جو ”مرفوع“ حدیث کے طور پر منقول ہے، وہ ثابت نہیں ہے اور اس کے راوی ضعیف ہیں۔
حدیث نمبر: 4266
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، قَالُوا : نَا أَبُو نُعَيْمٍ ، نَا شَرِيكٌ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلا مَاتَ وَتَرَكَ مُدَبَّرًا وَدَيْنًا ، " فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ فِي دَيْنِهِ " ، فَبَاعُوهُ بِثَمَانِمِائَةٍ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : قَوْلُ شَرِيكٍ : إِنَّ رَجُلا مَاتَ خَطَأٌ مِنْهُ ، لأَنَّ فِي حَدِيثِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ : وَدَفَعَ ثَمَنَهُ إِلَيْهِ ، وَقَالَ : اقْضِ دَيْنَكَ كَذَلِكَ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ سَيِّدًا لِمُدَبَّرٍ كَانَ حَيًّا يَوْمَ بَيْعِ الْمُدَبَّرِ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص فوت ہو گیا، اس نے ایک مدبر غلام کو بھی چھوڑا اور کچھ قرض بھی چھوڑا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ورثاء کو یہ حکم دیا کہ وہ اس قرض کی ادائیگی کے لیے اس مدبر غلام کو فروخت کر دیں، تو ان لوگوں نے اس غلام کو آٹھ سو (درہم) کے عوض میں فروخت کیا۔ ابوبکر نامی محدث نے یہ بات بیان کی ہے کہ روایت کے یہ الفاظ: ایک شخص فوت ہو گیا، اس میں راوی کو غلطی ہوئی ہے، کیونکہ دیگر راویوں نے یہ بات نقل کی ہے: (اس کے آقا نے خود اس غلام کو آزاد کیا تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کی قیمت اس کے آقا کو ادا کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اس کے ذریعے تم اپنا قرض ادا کر لو۔ اسی طرح دیگر راویوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ جس دن اس غلام کو فروخت کیا گیا تھا، اس وقت اس کا آقا زندہ تھا۔
حدیث نمبر: 4267
نَا نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي ابْنُ عَمْرَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَارِثَةَ وَهُوَ أَبُو الرِّجَالِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَصَابَهَا مَرَضٌ وَأَنَّ بَعْضَ بَنِي أَخِيهَا ذَكَرُوا شَكْوَاهَا لِرَجُلٍ مِنَ الزُّطِّ يَتَطَبَّبُ ، وَأَنَّهُ قَالَ لَهُمْ : إِنَّكُمْ لَتَذْكُرُونَ امْرَأَةً مَسْحُورَةً سَحَرَتْهَا جَارِيَةٌ لَهَا فِي حِجْرِ الْجَارِيَةِ الآنَ صَبِيُّ قَدْ بَالَ فِي حِجْرِهَا ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِعَائِشَةَ ، فَقَالَتِ : " ادْعُوا لِي فُلانَةَ ، لَجَارِيَةٍ لَهَا ، فَقَالُوا فِي حِجْرِهَا فُلانٌ صَبِيُّ لَهُمْ قَدْ بَالَ فِي حِجْرِهَا ، فَقَالَتِ : ائْتُونِي بِهَا ، فَأُتِيَتْ بِهَا ، فَقَالَتْ : سَحَرْتِينِي ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَتْ : لِمَهْ ؟ ، قَالَتْ : أَرَدْتُ أَنْ أُعْتَقَ ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ أَعْتَقَتْهَا عَنْ دُبُرٍ مِنْهَا ، فَقَالَتْ : إِنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ أَنْ لا تُعْتَقِي أَبَدًا ، انْظُرُوا أَسْوَأَ الْعَرَبِ مَلَكَةً فَبِيعُوهَا مِنْهُمْ ، وَاشْتَرَتْ بِثَمَنِهَا جَارِيَةً فَأَعْتَقَتْهَا " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ وہ بیمار ہو گئیں، تو ان کے کسی بھتیجے نے ان کی بیماری کا تذکرہ ”زط“ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کسی شخص سے کیا، جو طبیب تھا، تو وہ شخص بولا: تم جن کے بارے میں بتا رہے ہو، اس خاتون پر جادو کیا گیا ہے اور یہ جادو اس کی کسی کنیز نے کیا ہے، جس کی گود میں اس وقت بچہ بھی موجود ہے اور اس بچے نے اس عورت کی گود میں پیشاب کیا تھا۔ ان بھتیجوں نے اس بات کا تذکرہ سیدہ عائشہ سے کیا، تو سیدہ عائشہ نے فرمایا کہ فلاں کنیز کو میرے پاس لے کر آؤ، انہوں نے اپنی ایک کنیز کے بارے میں کہا: تو ان لوگوں نے بتایا کہ اس کی گود میں اس کا ایک بچہ ہے، جس نے سیدہ عائشہ کی گود میں پیشاب کیا تھا، تو سیدہ عائشہ نے کہا: کہ اسے میرے پاس لے کر آؤ۔ اس کنیز کو لایا گیا، تو سیدہ عائشہ نے دریافت کیا: ”تم نے مجھ پر جادو کیا تھا؟“ تو اس نے جواب دیا: جی ہاں! سیدہ عائشہ نے دریافت کیا: ”وہ کیوں؟“ اس نے جواب دیا: ”میں یہ چاہتی تھی کہ آپ مجھے آزاد کر دیں۔“ تو سیدہ عائشہ نے مدبر کے طور پر اس کنیز کو آزاد کر دیا، پھر سیدہ عائشہ نے فرمایا: ”اب اللہ کے نام پر یہ بات مجھ پر لازم ہے کہ تم کبھی آزاد نہیں ہو سکتی۔“ (پھر انہوں نے لوگوں سے فرمایا:) ”کوئی ایسا شخص ڈھونڈو، جو بہت برا مالک ہو اور اس کنیز کو اس سے فروخت کر دو۔“ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کی قیمت کے عوض میں ایک اور کنیز خرید لی اور اسے آزاد کر دیا۔