حدیث نمبر: 4213
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ ، نَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، نَا هَمَّامٌ ، نَا عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلا عَشَرَةَ أَوَاقٍ فَهُوَ عَبْدٌ ، وَأَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ دِينَارٍ فَأَدَّاهَا إِلا عَشَرَةَ دَنَانِيرَ فَهُوَ عَبْدٌ " ، وَقَالَ الْمُقْرِئُ ، وَعَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ.
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص ایک سو اوقیہ کے عوض میں کتابت کا معاہدہ کرتا ہے اور دس اوقیہ کے علاوہ باقی سب ادائیگی کر دیتا ہے، تو وہ شخص غلام شمار ہو گا اور جو غلام ایک سو دینار کے عوض میں کتابت کا معاہدہ کرتا ہے اور دس دینار کے علاوہ باقی سب ادائیگی کر دیتا ہے، تو وہ بھی غلام شمار ہو گا (یعنی پوری ادائیگی سے پہلے وہ آزاد نہیں ہو گا)۔“
حدیث نمبر: 4214
نَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى الْعَطَّارُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي مَذْعُورٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَصَابَ الْمُكَاتَبُ حَدًّا أَوْ مِيرَاثًا ، وَرِثَ بِحِسَابِ مَا عُتِقَ مِنْهُ ، وَأُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ بِحِسَابِ مَا عُتِقَ مِنْهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کتابت کا معاہدہ کرنے والا شخص کسی قابل حد جرم کا ارتکاب کرے یا وراثت میں حصہ دار بن رہا ہو، تو جتنا حصہ اس کا آزاد ہوا ہے، اسی حساب سے وہ وراثت کا حق دار بنے گا اور جتنا حصہ اس کا آزاد ہوا ہے، اسی حساب سے اس پر حد جاری کی جائے گی۔“
حدیث نمبر: 4215
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ، نَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " اشْتَرَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ بِسَبْعِمِائَةِ دِرْهَمٍ ، ثُمَّ قَدِمْتُ فَكَاتَبَتْنِي عَلَى أَرْبَعِينَ أَلْفِ دِرْهَمٍ فَأَدَّيْتُ إِلَيْهَا عَامَّةَ الْمَالِ ، ثُمَّ حَمَلْتُ مَا بَقِيَ إِلَيْهَا ، فَقُلْتُ : هَذَا مَالُكِ فَاقْبِضِيهِ ، قَالَتْ : لا وَاللَّهِ حَتَّى أَجِدَهُ مِنْكَ شَهْرًا بِشَهْرٍ وَسَنَةً بِسَنَةٍ ، فَخَرَجْتُ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : ارْفَعْهُ إِلَى بَيْتِ الْمَالِ ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْهَا ، فَقَالَ : هَذَا مَالُكِ فِي بَيْتِ الْمَالِ ، وَقَدْ عُتِقَ أَبُو سَعِيدٍ ، فَإِنْ شِئْتِ فَخِذِي شَهْرًا بِشَهْرٍ ، أَوْ سَنَةً بِسَنَةٍ ، قَالَ : فَأَرْسَلَتْ فَأَخَذَتْهُ " .
محمد محی الدین
سعید بن ابوسعید مقبری اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: بنو لیث سے تعلق رکھنے والی ایک عورت نے ذوالمجاز کے بازار سے مجھے سات سو درہم کے عوض میں خرید لیا، پھر جب میں آیا، تو اس نے چالیس ہزار درہم کے عوض میں میرے ساتھ کتابت کا معاہدہ کر لیا، میں نے اس کی اکثر ادائیگی کر دی، جب کچھ ادائیگی باقی رہ گئی اور میں وہ لے کر اس کے پاس پہنچا اور اس سے کہا: ”تم اپنی یہ رقم لے لو۔“ تو وہ بولی: ”اللہ کی قسم! میں اسے یوں نہیں لوں گی، بلکہ ہر مہینے لیا کروں گی یا ہر سال لیا کروں گی۔“ میں اسے ساتھ لے کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم اسے بیت المال میں جمع کروا دو۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو بلوایا اور بولے: ”تمہارا مال بیت المال میں جمع ہے، ابوسعید آزاد ہو گیا ہے، اب تمہاری مرضی ہے، اگر تم چاہو، تو ہر مہینے اور ہر سال کے حساب سے بیت المال میں سے وصولی کر لیا کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: وہ اسے بھجوایا گیا، تو اس نے وصول کر لیا۔
حدیث نمبر: 4216
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، نَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ ، نَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، نَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُودِي الْمُكَاتَبُ بِقَدْرِ مَا عُتِقَ مِنْهُ دِيَةَ الْحُرِّ ، وَبِقَدْرِ مَا رُقَّ مِنْهُ دِيَةَ الْعَبْدِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”کتابت کا معاہدہ کرنے والا شخص جتنا آزاد ہو چکا ہو، اسی حساب سے آزاد شخص کی دیت ادا کرے گا اور جتنا حصہ اس کا غلام ہے، اس حساب سے غلام کی دیت ادا کرے گا۔“
حدیث نمبر: 4217
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الرَّبِيعِ ، نَا أَبُو فَرْوَةَ ، نَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، نَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُكَاتَبِ يَقْتُلُ يُودِي مَا أَدَّى مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِيَةَ الْحُرِّ ، وَمَا بَقِيَ دِيَةَ الْعَبْدِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکاتب شخص کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا، جسے قتل کر دیا گیا ہو کہ اس نے اپنی مکاتبت کے معاہدے میں سے جتنی ادائیگی کی تھی، اس حساب سے اس کی دیت آزاد شخص کی دیت ہو گی اور جو ادائیگی باقی رہ گئی تھی، اس کے حساب سے اس کی دیت غلام کی دیت ہو گی۔
حدیث نمبر: 4218
نَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ أَبُو نَشِيطٍ ، نَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ تَمِيمٍ ، نَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ فَأَعْتَقَ نَصِيبَهُ ، فَإِنَّ عَلَيْهِ عِتْقَ مَا بَقِيَ فِي الْعَبْدِ وَالأَمَةِ مِنْ حِصَصِ شُرَكَائِهِ ، يُقَامُ قِيمَةُ عَدْلٍ ، وَيُودِي إِلَى شُرَكَائِهِ قِيمَةَ حِصَصِهِمْ ، وَيَعْتِقُ الْعَبْدَ وَالأَمَةَ إِنْ كَانَ فِي مَالِ الْمُعْتَقِ بِقِيمَةِ حِصَصِ شُرَكَائِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص کا کسی غلام یا کنیز میں کوئی حصہ ہو اور وہ اپنے حصے کو آزاد کر دے، تو اب اس پر لازم ہے کہ وہ غلام یا کنیز کے بقیہ مالکان کے حصوں میں سے بھی اسے آزاد کر دے، انصاف کے مطابق اس کی قیمت لگائی جائے گی اور وہ اپنے شراکت داروں کی طرف سے اس کی ادائیگی کر دے گا، جو ان کے حصوں کی قیمت کے مطابق ہو گی، وہ اس غلام یا کنیز کو آزاد کر دے گا، لیکن یہ اس وقت ہے کہ جب آزاد کرنے والے شخص کے مال میں اتنا مال موجود ہو، جو اس کے شراکت داروں کے حصے کی قیمت کے برابر ہو۔“
حدیث نمبر: 4219
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْكَعْبِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ أُقِيمَ عَلَيْهِ قِيمَةُ عَدْلٍ فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ ، وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ ، إِنْ كَانَ مُوسِرًا ، وَإِلا عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ ، وَرَقَّ مَا بَقِيَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص کسی مشترکہ غلام میں سے اپنے حصے کو آزاد کر دیتا ہے، تو اس غلام کی انصاف کے مطابق قیمت کا اندازہ لگایا جائے گا اور پھر وہ شخص اپنے دیگر شراکت داروں کو ادائیگی کر دے گا اور غلام اس شخص کی طرف سے آزاد سمجھا جائے گا، اگر وہ شخص خوشحال ہو، ورنہ اس کی طرف سے وہ حصہ آزاد ہو گا، جو آزاد کیا تھا اور غلام کا بقیہ حصہ غلام رہے گا۔“
حدیث نمبر: 4220
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ ، نَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ " فِي الْمَمْلُوكِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ يُعْتِقُ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ ، قَالَ : يَضْمَنُ " ، وَافَقَهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ فَلَمْ يَذْكُرِ الاسْتِسْعَاءَ ، وَشُعْبَةُ وَهِشَامٌ أَحْفَظُ مَنْ رَوَاهُ ، عَنْ قَتَادَةَ . وَرَوَاهُ هَمَّامٌ فَجَعَلَ الاسْتِسْعَاءَ مِنْ قَوْلِ قَتَادَةَ ، وَفَصَلَهُ مِنْ كَلامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، فَجَعَلَ الاسْتِسْعَاءَ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَأَحْسَبُهُمَا وَهِمَا فِيهِ لِمُخَالَفَةِ شُعْبَةَ ، وَهِشَامٍ ، وَهَمَّامٍ إِيَّاهُمَا .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو غلام دو آدمیوں کی مشترکہ ملکیت ہو، ان میں سے ایک اپنے حصے کو آزاد کر دیتا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’وہ شخص ضامن ہو گا۔‘“ ہشام نامی راوی نے اس کی موافقت کی ہے اور انہوں نے اس بات کا تذکرہ نہیں کیا کہ اس غلام سے مزدوری کروائی جائے گی۔ شعبہ اور ہشام، قتادہ کے حوالے سے روایات نقل کرنے میں دیگر راویوں سے زیادہ حافظ ہیں۔ ہمام نامی راوی نے اس روایت کو نقل کرتے ہوئے اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ قتادہ نے یہ کہا: ”ایسے غلام سے مزدوری کروائی جائے گی۔“ انہوں نے قتادہ کے اس قول کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے الگ طور پر ذکر کیا ہے، جبکہ دیگر راویوں نے قتادہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ مزدوری کروانے کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس بارے میں ان راویوں کو وہم ہوا ہے، کیونکہ یہ روایت شعبہ اور ہشام کی نقل کردہ روایت کے مقابلے میں مختلف ہے۔
حدیث نمبر: 4221
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، نَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مثل قَوْلِ شُعْبَةَ ، وَلَمْ يَذْكُرِ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی کی مانند نقل کرتے ہیں کہ یہ وہی روایت ہے، جس طرح شعبہ نے نقل کی ہے، انہوں نے اس کی سند میں نضر بن انس کا تذکرہ نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 4222
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، نَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَجُلا أَعْتَقَ شِقْصًا مِنْ مَمْلُوكٍ ، فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهُ ، وَغَرَّمَهُ بَقِيَّةَ ثَمَنِهِ " ، قَالَ قَتَادَةُ : إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتَسْعَى الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ . سَمِعْتُ النَّيْسَابُورِيَّ ، يَقُولُ : مَا أَحْسَنَ مَا رَوَاهُ هَمَّامٌ وَضَبَطَهُ ، وَفَصْلَ بَيْنَ قَوْلِ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبَيْنَ قَوْلِ قَتَادَةَ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے ایک غلام میں سے اپنے حصے کو آزاد کر دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے آزاد کرنے کو درست قرار دیا اور اسے اس غلام کی بقیہ قیمت بطور تاوان ادا کرنے کا حکم دیا۔ قتادہ کہتے ہیں: اگر شخص کے پاس مال موجود نہ ہو، تو اس غلام سے مزدوری کروائی جائے گی، تاہم اس بارے میں اسے مشقت کا شکار نہیں کیا جائے گا۔ نیشاپوری نے یہ بات بیان کی ہے کہ بہترین روایت وہ ہے، جسے ہمام نے نقل کیا ہے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان اور قتادہ کے قول کے درمیان فرق واضح کیا ہے۔
حدیث نمبر: 4223
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْمُقْرِئُ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، نَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سُئِلَ " عَنِ الْعَبْدِ يَكُونُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ ، يُعْتِقُ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ ، قَالَ : قَدْ عُتِقَ الْعَبْدُ يُقَوَّمُ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ قِيمَةَ عَدْلٍ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ ، اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے غلام کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو دو آدمیوں کی مشترکہ ملکیت ہوتا ہے، ان میں سے ایک شخص اپنے حصے کو آزاد کر دیتا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”غلام کا وہ حصہ آزاد ہو جائے گا اور اسے آزاد کرنے والے کے مال میں سے مناسب قیمت لگا کر اس کی قیمت ادا کی جائے گی، اگر آزاد کرنے والے شخص کے پاس وہ مال موجود نہ ہو، تو غلام سے مزدوری کروائی جائے گی، تاہم اس بارے میں اسے مشقت کا شکار نہیں کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 4224
نَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قَحْطَبَةَ ، نَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدٍ . ح وَنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا ، أَوْ شِقْصًا مِنْ مَمْلُوكِهِ ، فَخَلاصُ مَا بَقِيَ مِنْهُ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ ، إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ ، وَإِلا قُوِّمَ الْمَمْلُوكُ قِيمَةَ عَدْلٍ ، فَاسْتُسْعِيَ فِيهَا غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص اپنے غلام میں سے اپنے حصے کو آزاد کر دے، تو اس غلام کا باقی رہ جانے والا حصہ بھی اس شخص کے مال میں سے آزاد کیا جائے، اگر اس شخص کے پاس اتنا مال موجود ہوتا ہے، ورنہ اس غلام کی انصاف کے مطابق قیمت لگائی جائے گی اور پھر اس بارے میں اس سے مزدوری کروائی جائے گی، تاہم اسے مشقت کا شکار نہیں کیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 4225
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ الرَّبِيعِ الزِّيَادِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، عَنْ صَخْرِ بْنِ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ " فِي الْعَبْدِ وَالأَمَةِ : إِذَا كَانَا بَيْنَ شُرَكَاءَ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمْ نَصِيبَهُ مِنْهُ ، فَإِنَّهُ يَجِبُ عَلَى الَّذِي أَعْتَقَهُ عِتْقُ نَصِيبَهُ مِنْهُ ، إِذَا كَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ دَفَعَ بَقِيَّةَ ثَمَنِهِ إِلَى شُرَكَائِهِ ، وَيُخَلَّى سَبِيلُ الْمُعْتَقِ " ، قَالَ ابْنُ صَاعِدٍ : هَذَا فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، وَالأَمَةُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں، جو ایسے غلام یا کنیز کے بارے میں ہے، جو مشترکہ طور پر کچھ لوگوں کی ملکیت ہیں اور ان میں سے کوئی ایک شخص اپنے حصے کو آزاد کر دیتا ہے، تو جس شخص نے اسے آزاد کیا ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ بقیہ حصے کو بھی آزاد کرے، اگر اس شخص کے پاس اتنا مال موجود ہوتا ہے، جو اس غلام کی قیمت کے برابر ہو، تو وہ اس کی قیمت کی بقیہ رقم اپنے دیگر حصہ داروں کو دے دے گا اور وہ غلام اس شخص کی طرف سے آزاد شمار ہو گا۔ ایک راوی نے اس روایت میں کنیز کا بھی تذکرہ کیا ہے۔
حدیث نمبر: 4226
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلانِسِيُّ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ ، فَقَدْ ضَمِنَ عِتْقَهُ ، يُقَوِّمُ عَلَيْهِ بِقِيمَةِ عَدْلٍ فَيَضْمَنُ لِشُرَكَائِهِ أَنْصِبَاءَهُمْ ، وَيَعْتِقُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کسی غلام میں اپنے حصے کو آزاد کرتا ہے، تو وہ اس کی آزادی کا ضامن ہو گا، انصاف کے مطابق اس غلام کی قیمت لگائی جائے گی اور وہ شخص دیگر حصہ داروں کو تاوان کی رقم ادا کرے گا، جو ان کے حصے کے مطابق ہو گی اور پھر اس غلام کو آزاد کر دے گا۔“
حدیث نمبر: 4227
نَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، نَا أَشْعَثُ بْنُ عَطَّافٍ ، نَا الْعَرْزَمِيُّ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ صَالِحٌ بِأَخِيهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُعْتِقَ أَخِي هَذَا ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ أَعْتَقَهُ حِينَ مَلَكْتَهُ " ، الْعَرْزَمِيُّ تَرَكَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَيَحْيَى الْقَطَّانُ ، وَابْنُ مَهْدِيٍّ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ الْمَتْرُوكُ ، أَيْضًا هُوَ الْقَائِلُ : كُلَّمَا حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ كَذَبَ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص آیا، اس کا نام صالح تھا، وہ اپنے بھائی کو لے کر آیا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے اس بھائی کو آزاد کر دوں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم اس کے مالک ہوئے تھے، تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے اسے آزاد کر دیا تھا۔“ عزرمی نامی راوی کو عبداللہ بن مبارک، یحییٰ بن سعید القطان، ابن مہدی نے متروک قرار دیا ہے، جبکہ ابونضر نامی راوی محمد بن سائب کلبی متروک ہے، یہ وہی شخص ہے، جس نے یہ کہا تھا کہ جب میں ابوصالح نامی راوی کے حوالے سے کوئی روایت نقل کروں، تو وہ جھوٹ ہو گی۔
حدیث نمبر: 4228
نَا نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، نَا وُهَيْبٌ ، نَا أَبُو مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيِّ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : " إِذَا اشْتَرَيْتُ مُحَرَّرًا فَلا تَشْتَرِطَنَّ لأَحَدٍ فِيهِ عِتْقًا فَإِنَّهَا عُقْدَةٌ مِنَ الرِّقِّ " .
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب تم کسی ایسے غلام کو خریدتے ہو، جسے آزاد کر دیا گیا ہے، تو یہ شرط عائد نہ کرو کہ وہ اسے آزاد کر دے گا، کیونکہ یہ غلامی کی گرہ ہے۔“
حدیث نمبر: 4229
نَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا شَرِيكٌ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ وَلَدَتْ مِنْهُ أَمَةٌ فَهِيَ حُرَّةٌ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص کی کنیز اس کے بچے کو جنم دے، تو اس شخص کی موت کے بعد وہ کنیز آزاد شمار ہو گی۔“
حدیث نمبر: 4230
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ الصَّيْدَلانِيُّ ، نَا شُعَيْبٌ ، نَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، نَا شَرِيكٌ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَلَدَتْ أَمَةُ الرَّجُلِ مِنْهُ ، فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کسی کی کنیز اس کے بچے کو جنم دے، تو وہ اس شخص کے مرنے کے بعد آزاد شمار ہو گی۔“
حدیث نمبر: 4231
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْبَغَوِيُّ ، نَا أَبُو زَيْدِ بْنُ طَرِيفٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى الْحَنَفِيُّ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمُّ الْوَلَدِ حُرَّةٌ ، وَإِنْ كَانَ سَقْطًا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”بچے کو جنم دینے والی کنیز آزاد شمار ہو گی، خواہ وہ بچہ نامکمل پیدا ہو۔“
حدیث نمبر: 4232
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ تَمِيمِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَرْوَزِيُّ ، نَا حَامِدُ بْنُ آدَمَ ، نَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا جَارِيَةٍ وَلَدَتْ لِسَيِّدِهَا ، فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو کنیز اپنے آقا کے بچے کو جنم دیتی ہے، وہ اس آقا کے (فوت ہو جانے کے) بعد خود بخود آزاد ہو جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 4233
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْقَافْلانِيُّ ، نَا أَبُو يَحْيَى الْعَطَّارُ ، نَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا وَلَدَتْ أُمُّ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ نے انہیں جنم دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کے بچے نے اسے آزاد کر دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 4234
نَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْجَوْهَرِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْهَمْدَانِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجَعْفَرِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمُّ إِبْرَاهِيمَ أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”ابراہیم کی والدہ کو اس کے بچے نے آزاد کر دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 4235
نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْمَدَايِنِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَارَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْحُسَيْنِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا وَلَدَتْ مَارِيَةُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا " ، تَفَرَّدَ بِحَدِيثِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَزِيَادٌ ثِقَةٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کو) جنم دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کے بچے نے اسے آزادی دلا دی ہے۔“
حدیث نمبر: 4236
نَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ الْبَلَدِيُّ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الرَّهَاوِيُّ ، وَأَبُو الْعَبَّاسِ الْمُخْتَارُ ، نَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا أَمَةٍ وَلَدَتْ مِنْ سَيِّدُهَا ، فَإِنَّهَا إِذَا مَاتَ حُرَّةٌ إِلا أَنْ يُعْتِقَهَا قَبْلَ مَوْتِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کوئی کنیز اپنے آقا کے بچے کو جنم دیتی ہے، تو جب وہ آقا فوت ہو جائے، تو وہ کنیز آزاد ہوتی ہے، البتہ اگر آقا اپنے انتقال سے پہلے اسے آزاد کر دے (تو حکم مختلف ہو گا)۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کو جنم دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کے بچے نے اسے آزاد کروا دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 4237
قَالَ : وَنا قَالَ : وَنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ، قَالَ : لَمَّا وَلَدَتْ مَارِيَةُ الْقِبْطِيَّةُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا " ، .
محمد محی الدین
۔
حدیث نمبر: 4238
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ ، نَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4239
ثنا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا شَبَابَةُ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ بِنَحْوِهِ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4240
حَدَّثَنِي أَبِي ، نَا أَحْمَدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ بْنِ مُوسَى ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے، اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔
حدیث نمبر: 4241
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ بْنِ رِشْدِينَ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْعَسْقَلانِيُّ ، قَالَ : وَسَمِعَهُ مِنِّي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، يُحَدِّثُنِي رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ الْمَهْرِيُّ ، نَا طَلْحَةُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الأَشَجُّ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ رَجُلا أَوْصَى إِلَيْهِ وَكَانَ مِمَّا تَرَكَ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ وَامْرَأَةً حُرَّةً فَوَقَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وبين أُمِّ الْوَلَدِ بَعْضُ الشَّيْءِ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهَا الْحُرَّةُ لَتُبَاعَنَّ رَقَبَتُكِ يَا لُكَعُ ، فَرَفَعَ ذَلِكَ خَوَّاتُ بْنُ جُبَيْرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لا تُبَاعُ ، وَأَمَرَ بِهَا فَأُعْتِقَتْ " ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي رِشْدِينُ ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
محمد محی الدین
بشر بن سعید بیان کرتے ہیں کہ خوات بن جبیر نے یہ بات نقل کی ہے: ایک شخص نے انہیں کوئی وصیت کی، اس شخص نے اپنے پس ماندگان میں ایک ام ولد، اور ایک آزاد بیوی چھوڑی تھی، اس عورت اور ام ولد کے درمیان اختلاف ہو گیا، تو اس آزاد عورت نے اس ام ولد کو پیغام بھیجا: ”تم عنقریب فروخت کر دی جاؤ گی، اے نالائق لڑکی۔“ سیدنا خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ نے یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے فروخت نہیں کیا جا سکتا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے آزاد قرار دے دیا گیا۔
حدیث نمبر: 4242
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، نَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4243
نَا أَحْمَدُ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَهْمِيُّ الْبَيْطَارِيُّ ، نَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، كَذَا قَالَ بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ.
محمد محی الدین
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے حوالے سے بھی سیدنا خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 4244
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الزُّبَيْرِيُّ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لَهُ إِلا أَنْ يَسْتَثْنِيَهُ السَّيِّدُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص کسی کو آزاد کرتا ہے اور اس غلام کا کوئی مال بھی موجود ہو، تو وہ مال غلام کے پاس رہے گا، البتہ اگر اس کا آقا استثناء کرے، تو حکم مختلف ہو گا۔“
حدیث نمبر: 4245
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي بِاللَّهِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ، ثنا أَبِي ، نَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَعْتَقَ الرَّجُلُ الْعَبْدَ تَبِعَهُ مَالُهُ ، إِلا يَكُونَ شَرَطَهُ الْمُعْتِقُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کوئی شخص کسی غلام کو آزاد کرتا ہے، تو اس کا مال بھی اس کے ساتھ رہتا ہے، البتہ اگر آزاد کرنے والے نے اس مال کی شرط عائد کر دی ہو (تو حکم مختلف ہو گا)۔“
حدیث نمبر: 4246
نَا نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ ، نَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : " قَضَى أَنَّ أُمَّ الْوَلَدِ لا تُبَاعُ ، وَلا تُوهَبُ ، وَلا تُورَثُ ، يَسْتَمْتِعُ بِهَا صَاحِبُهَا مَا عَاشَ ، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ ام ولد کو فروخت نہیں کیا جائے گا، اسے ہبہ نہیں کیا جائے گا، وہ وراثت میں منتقل نہیں کی جائے گی، اس کا آقا اس سے فائدہ اٹھاتا رہے گا، جب تک وہ زندہ رہے گا، جب وہ آقا مر جائے گا، تو ام ولد آزاد شمار ہو گی۔
حدیث نمبر: 4247
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا قَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْمُقْرِئُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْرَمِيُّ الْقَاضِي ، نَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " نَهَى عَنْ بَيْعِ أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ ، وَقَالَ : لا يُبَعْنَ ، وَلا يُوهَبْنَ ، وَلا يُورَثْنَ ، يَسْتَمْتِعُ بِهَا سَيِّدُهَا مَا دَامَ حَيًّا ، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ " ،.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام ولد کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے، آپ نے ارشاد فرمایا ہے: ”انہیں فروخت نہیں کیا جائے گا، انہیں ہبہ نہیں کیا جائے گا، وہ وراثت میں تقسیم نہیں ہوں گی، ان کا آقا جب تک زندہ رہے گا، ان سے نفع حاصل کرے گا اور جب وہ آقا فوت ہو جائے گا، تو وہ ام ولد آزاد شمار ہوں گی۔“
حدیث نمبر: 4248
قَالَ : وَنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ نَحْوَهُ غَيْرَ مَرْفُوعٍ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے حوالے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے اور ”مرفوع“ حدیث کے طور پر منقول نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 4249
نَا نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، نَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، " أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ لا يُوهَبْنَ ، وَلا يُورَثْنَ ، يَسْتَمْتِعُ بِهَا سَيِّدُهَا حَيَاتَهُ ، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے ام ولد کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے، اسے ہبہ نہیں کیا جا سکتا، وہ وراثت میں تقسیم نہیں ہو گی، اس کا آقا اپنی زندگی میں اس سے نفع حاصل کرتا رہے گا، جب آقا فوت ہو جائے گا، تو وہ ام ولد آزاد شمار ہو گی۔
حدیث نمبر: 4250
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَفٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ هُوَ الْمُخَرِّمِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ ، لا يُبَعْنَ ، وَلا يُوهَبْنَ ، وَلا يُورَثْنَ ، يَسْتَمْتِعُ بِهَا سَيِّدُهَا مَا بَدَا لَهُ ، فَإِذَا مَاتَ فَهِيَ حُرَّةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام ولد کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے، انہیں فروخت نہیں کیا جا سکے گا، انہیں ہبہ نہیں کیا جا سکے گا، وہ وراثت میں تقسیم نہیں ہوں گی، ان کا آقا جب تک مناسب سمجھے گا (یعنی جب تک زندہ رہے گا)، ان سے نفع حاصل کرتا رہے گا، جب وہ آقا فوت ہو جائے گا، تو وہ ام ولد آزاد ہو جائے گی۔
حدیث نمبر: 4251
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " كُنَّا نَبِيعُ سَرَارِيَّنَا أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيُّ لا يَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم پہلے اپنی ام ولد کنیزوں کو فروخت کر دیا کرتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حیات تھے، ہم اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہم ایسا کیا کرتے تھے)۔
حدیث نمبر: 4252
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، نَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ " فِي أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ : كُنَّا نَبْتَاعَهُنَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ام ولد کے بارے میں یہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم اس کی خرید و فروخت کر لیا کرتے تھے۔
…