حدیث نمبر: 2744
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ ، أَنَّ عَمْرًا مَوْلَى الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَهُمَا ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلالٌ ، وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَادْ لَكُمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے: ”خشکی کا شکار تمہارے لیے حلال قرار دیا گیا ہے، جبکہ تم احرام کی حالت میں ہو، اس وقت جب تم نے اسے خود شکار نہ کیا ہو، اسے تمہارے لیے شکار نہ کیا گیا ہو۔“
حدیث نمبر: 2745
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا الرَّبِيعُ ، أنا الشَّافِعِيُّ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا جابر سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2746
ثنا أَبُو طَالِبٍ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ ، نا عبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الأَعْمَى ، نا محَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي دَاوُدَ ، نا مالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2747
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نا أشْهَبُ بنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2748
ثنا أَبُو بَكْرٍ ، نا الرَّبِيعُ ، نا الشَّافِعِيُّ ، نا عبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ . قَالَ الشَّافِعِيُّ ، رَحِمَهُ اللَّهُ : ابْنُ أَبِي يَحْيَى أَحْفَظُ مِنَ الدَّرَاوَرْدِيِّ ، وَمَعَ ابْنِ أَبِي يَحْيَى سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَمْرٍو نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي يَحْيَى.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2749
ثنا أَبُو بَكْرٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، فَأَحْرَمَ أَصْحَابِي وَلَمْ أُحْرِمْ ، فَرَأَيْتُ حِمَارًا فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَاصْطَدْتُهُ ، فَذَكَرْتُ شَأْنَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَكَرْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَحْرَمْتُ وَأَنِّي لِذَا اصْطَدْتُهُ لَكَ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ حِينَ أَخْبَرْتُهُ أَنِّي اصْطَدْتُهُ لَهُ " . قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ ، قَوْلُهُ : اصْطَدْتُهُ لَكَ ، وَقَوْلُهُ : وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ ، لا أَعْلَمُ أَحَدًا ذَكَرَهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرُ مَعْمَرٍ ، وَهُوَ مُوَافِقٌ لِمَا رُوِيَ عَنْ عُثْمَانَ.
محمد محی الدین
عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد (سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: حدیبیہ کے موقع پر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (عمرہ کرنے کے لیے) روانہ ہوا۔ میرے ساتھیوں نے احرام باندھ لیا، لیکن میں نے احرام نہیں باندھا۔ میں نے ایک نیل گائے کو دیکھا اور اس پر حملہ کر کے اسے شکار کر لیا۔ پھر میں نے یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا، اس بات کا ذکر کیا کہ میں نے اس وقت احرام نہیں باندھا ہوا تھا اور میں نے اسے آپ کے لیے شکار کیا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ ان حضرات نے وہ گوشت کھا لیا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں کھایا کیونکہ میں نے آپ کو یہ بتا دیا تھا کہ میں نے اسے آپ کے لیے شکار کیا ہے۔ روایت کے یہ الفاظ ہیں: ”یہ میں نے آپ کے لیے شکار کیا ہے۔“ اور یہ الفاظ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں کھایا، اس کا تذکرہ صرف معمر رحمہ اللہ نامی راوی نے کیا ہے۔ تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ کا یہ فرمان ایک محکم آیت ہے: ”اے ایمان والو! جب تم احرام کی حالت میں ہو، تو اس وقت شکار کو قتل نہ کرو۔“
حدیث نمبر: 2750
ثنا ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَبُو الأَزْهَرِ ، وأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، قَالا : نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ اعْتَمَرَ مَعَ عُثْمَانَ فِي رَكْبٍ فَأُهْدِيَ لَهُ طَائِرٌ فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهِ ، وَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ ، فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : أَنَأْكُلُ مِمَّا لَسْتَ مِنْهُ آكِلا ؟ فَقَالَ : " إِنِّي لَسْتُ فِي ذَاكُمْ مِثْلَكُمْ ، إِنَّمَا اصْطِيدَ لِي وَأُمِيتَ بِاسْمِي " .
محمد محی الدین
یحییٰ بن عبدالرحمن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے چند اور لوگوں سمیت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ عمرہ کیا، انہوں نے سیدنا عثمان کی خدمت میں پرندہ پیش کیا، تو سیدنا عثمان نے دوسرے لوگوں سے کہا کہ وہ اسے کھا لیں اور خود اسے کھانے سے انکار کر دیا، تو سیدنا عمرو بن العاص نے ان سے کہا: ”کیا ہم اس چیز کو کھا لیں، جسے آپ نہیں کھا رہے؟“ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”اس کے بارے میں میری حیثیت تمہاری طرح نہیں ہے، اسے میرے لیے شکار کیا گیا ہے۔“