حدیث نمبر: 2736
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا أَبُو زِيَادٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ لَهُ : مِنْ أَيْنَ جِئْتَ ؟ فَقَالَ شَرِبْتُ : مِنْ زَمْزَمَ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَشَرِبْتَ مِنْهَا كَمَا يَنْبَغِي ؟ قَالَ : وَكَيْفَ ذَاكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ؟ قَالَ : إِذَا شَرِبْتَ مِنْهَا فَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ، وَتَنَفَّسَ ثَلاثًا وَتَضَلَّعْ مِنْهَا ، فَإِذَا فَرَغْتَ فَاحْمَدِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " آيَةٌ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُنَافِقِينَ أَنَّهُمْ لا يَتَضَلَّعُونَ مِنْ زَمْزَمَ " .
محمد محی الدین
عبداللہ بن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عباس کی خدمت میں حاضر ہوا اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے دریافت کیا: ”تم کہاں سے آئے ہو؟“ اس نے جواب دیا: ”میں آب زم زم پی کر آ رہا ہوں۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے دریافت کیا: ”کیا تم نے اسے اسی طرح پیا ہے، جیسے پینا چاہیے تھا؟“ اس نے دریافت کیا: ”اے سیدنا ابن عباس! وہ کیسے (پیا جاتا ہے)؟“ تو سیدنا عبداللہ بن عباس نے فرمایا: ”جب تم اسے پینا ہو، تو قبلہ کی طرف رخ کرو اور اللہ کا نام لو، اور پھر تین سانسوں میں پیو اور زیادہ مقدار میں پیو، جب تم اسے پی لے لو، تو اللہ کی حمد بیان کرو، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ہمارے اور منافقین کے درمیان بنیادی فرق ہے، وہ (منافقین) زم زم زیادہ مقدار میں نہیں پیتے۔“
حدیث نمبر: 2737
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا أحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، نا محَمَّدٌ ، نا إسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، نَحْوَهُ . عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2738
نا نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا عَبَّاسٌ التَّرْقُفِيُّ ، نا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِذَا شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا وَاسِعًا وَشِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ " .
محمد محی الدین
عکرمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جب آب زم زم پیتے تھے، تو یہ دعا مانگتے تھے: ”اے اللہ! میں تجھ سے ایسے علم کا سوال کرتا ہوں، جو نفع دے، ایسے رزق کا سوال کرتا ہوں، جو وسعت والا ہو اور ہر بیماری سے شفا کا سوال کرتا ہوں۔“
حدیث نمبر: 2739
ثنا عُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عِيسَى الْمَرْوَزِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَبِيبٍ الْجَارُودِيُّ ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شَرِبَ لَهُ ، إِنْ شَرِبْتَهُ تَسْتَشْفِي بِهِ شَفَاكَ اللَّهُ ، وَإِنْ شَرِبْتَهُ لِشِبَعِكَ أَشْبَعَكَ اللَّهُ بِهِ ، وَإِنْ شَرِبْتَهُ لِيَقْطَعَ ظَمَأَكَ قَطَعَهُ اللَّهُ ، وَهِيَ هَزَمَةُ جِبْرِيلَ وَسُقْيَا اللَّهِ إِسْمَاعِيلَ " .
محمد محی الدین
مجاہد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب آب زم زم کو پی لیا جائے، تو اگر تم نے اسے اس لیے پی لیا ہوتا کہ تم اس کے ذریعے شفا حاصل کرو، تو اللہ تمہیں شفا نصیب کرے گا، اگر اسے اس لیے پیا ہوتا کہ تمہارا پیٹ بھر جائے، تو اللہ تمہیں سیر کر دے گا اور اگر اس لیے پیا ہوتا کہ پیاس ختم ہو جائے، تو اللہ اسے بھی ختم کرے گا، یہ جبرائیل علیہ السلام کی ٹھوکر کا نتیجہ ہے اور اس کے ذریعے اللہ نے سیدنا اسماعیل کو سیراب کیا تھا۔“