حدیث نمبر: 2539
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يُونُسَ بْنِ يَاسِينَ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : نا إبْرَاهِيمُ الصَّائِغُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِي الضَّبُعِ إِذَا أَصَابَهَا الْمُحْرِمُ جَزَاءُ كَبْشٍ مُسِنٍّ ، وَتُؤْكَلُ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ کے بارے میں یہ فرمایا ہے: ”جب حالت احرام والا شخص اسے مار دے، تو اب اس کا کفارہ ایک دنبہ ہو گا اور اس کا گوشت کھایا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 2540
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي مَذْعُورٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الضَّبُعِ ، فَقَالَ : فِيهَا كَبْشٌ " ، فَقُلْتُ : " فَرِيضَةٌ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ " ، قُلْتُ : " أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، كَذَا قَالَ : فَرِيضَةٌ " .
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابوعمار بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے گوہ کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: اس میں ایک دنبہ دینا پڑے گا، میں نے دریافت کیا: کیا یہ لازم ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، یہی فرمایا تھا کہ یہ لازم ہے۔
حدیث نمبر: 2541
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحُسَيْنِ الْقِرْمِيسِينِيُّ ، نا الْوَلِيدُ بْنُ حَمَّادٍ الرَّمْلِيُّ ، نا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، نا الْوَلِيدُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الضَّبُعُ صَيْدٌ " ، وَجَعَلَ فِيهَا كَبْشًا .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”گوہ شکار ہے۔“ (راوی کہتے ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں دنبے کے کفارے کی ادائیگی مقرر کی ہے۔
حدیث نمبر: 2542
نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الرُّخَامِيُّ ، نا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قُلْتُ : " أَيُؤْكَلُ الضَّبُعُ ؟ قَالَ : نَعَمْ " ، قُلْتُ : " أَصَيْدٌ هِيَ ؟ قَالَ : نَعَمْ " ، قُلْتُ : " أَسَمِعْتَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابوعمار، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا کہ گوہ کو کھایا جا سکتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! میں نے دریافت کیا: کیا یہ شکار ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! میں نے دریافت کیا: کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں!۔
حدیث نمبر: 2543
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نا أَبُو كُرَيْبٍ ، نا قَبِيصَةُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الضَّبُعِ ، فَقُلْتُ : صَيْدٌ هِيَ ؟ قَالَ : نَعَمْ " ، قُلْتُ : " آكُلُهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ " ، قُلْتُ : " سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
محمد محی الدین
ابن ابوعمار بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے گوہ کے بارے میں دریافت کیا: کیا یہ شکار ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! میں نے پوچھا: اسے کھایا جا سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں! میں نے دریافت کیا: کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں!۔
حدیث نمبر: 2544
نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا عَلانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَخْبَرَهُمْ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا " الضَّبُعِ ، قَالَ : آكُلُهَا ؟ قَالَ : نَعَمْ " ، قُلْتُ : " أَصَيْدٌ هِيَ ؟ قَالَ : نَعَمْ " ، قُلْتُ : " سَمِعْتَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابوعمار بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے گوہ کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے پوچھا: کیا اسے کھایا جا سکتا ہے؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں! انہوں نے دریافت کیا: کیا یہ شکار ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! انہوں نے دریافت کیا: کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں!۔
حدیث نمبر: 2545
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نا أَبُو كُرَيْبٍ ، نا قَبِيصَةُ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبُعِ ، فَقَالَ : " هِيَ صَيْدٌ ، وَجَعَلَ فِيهَا إِذَا أَصَابَهَا الْمُحْرِمُ كَبْشًا " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گوہ کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شکار ہے۔“ (راوی کہتے ہیں) اگر حالت احرام والا شخص اسے مار دے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کفارہ ایک دنبے کی قربانی مقرر کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2546
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نا أَبُو كُرَيْبٍ ، نا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِي الضَّبُعِ إِذَا أَصَابَهُ الْمُحْرِمُ كَبْشٌ ، وَفِي الظَّبْيِ شَاةٌ ، وَفِي الأَرْنَبِ عَنَاقٌ ، وَفِي الْيَرْبُوعِ جَفْرَةٌ " . قَالَ : وَالْجَفْرَةُ الَّتِي قَدِ ارْتَعَتْ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: گوہ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”حالت احرام والا شخص اگر اسے مار دے، تو اسے دنبے کا کفارہ دینا ہو گا۔“ اور ہرن کے بارے میں یہ فرمایا: ”بکری کی قربانی دینی ہو گی۔“ خرگوش کے بارے میں فرمایا ہے: ”بکری کے بچے کی قربانی دینی ہو گی۔“ اور یربوع کے بارے میں فرمایا ہے: ”اس میں بکری کے چھوٹے بچے کی قربانی دینی ہو گی۔“ راوی کہتے ہیں: حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ ”جفرہ“ سے مراد وہ چھوٹا جانور ہے، جو چل لیتا ہو۔
حدیث نمبر: 2547
نا نا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا هِشَامٌ ، نا مَنْصُورٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " قَضَى فِي الضَّبُعِ بِكَبْشٍ " . كَذَا قَالَ لَنَا يَعْقُوبُ : قَضَى.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے گوہ کے شکار میں دنبے کی قربانی کا فیصلہ دیا تھا۔ یعقوب نامی راوی نے یہی الفاظ نقل کیے ہیں، انہوں نے فیصلہ دیا تھا۔
حدیث نمبر: 2548
نا نا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ، نا أَبُو مَلَكٍ الْجَنْبِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي حَمَامِ الْحَرَمِ ، " فِي الْحَمَامَةِ شَاةٌ ، وَفِي بَيْضَتَيْنِ دِرْهَمٌ ، وَفِي النَّعَامَةِ جَزُورٌ ، وَفِي الْبَقَرَةِ بَقَرَةٌ ، وَفِي الْحِمَارِ بَقَرَةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا حرم کے کبوتر کے بارے میں یہ حکم منقول ہے: حرم کے کبوتر کو مارنے کا کفارہ بکری ہو گا، انڈے کو نقصان پہنچانے کا کفارہ ایک درہم ہو گا، شترمرغ کو مارنے پر اونٹ قربان کرنا پڑے گا، گائے کو مارنے پر گائے کی قربانی دینی پڑے گی اور نیل گائے کو مارنے پر گائے کی قربانی دینی ہو گی۔
حدیث نمبر: 2549
نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَزِيعٍ ، نا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ ، نا أَبُو مَرْيَمَ ، حَدَّثَنِي الأَجْلَحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظَّبْيِ شَاةً ، وَفِي الضَّبُعِ كَبْشًا ، وَفِي الأَرْنَبِ عَنَاقًا ، وَفِي الْيَرْبُوعِ جَفْرَةً " . فَقُلْتُ لابْنِ الزُّبَيْرِ : وَمَا الْجَفْرَةُ ؟ قَالَ : الَّتِي قَدْ فُطِمَتْ وَرَعَتْ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرن کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا: ”ایک بکری کی قربانی دینی ہو گی۔“ گوہ کے بارے میں دنبے کی قربانی کا فیصلہ دیا تھا، خرگوش کے بارے میں بکری کے بچے کی قربانی کا فیصلہ دیا تھا اور یربوع کے بارے میں بکری کے بچے کی قربانی کا فیصلہ دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ابن زبیر سے دریافت کیا: لفظ ”جفرہ“ سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: وہ بچہ، جس کا دودھ چھڑایا جا چکا ہو اور وہ چل سکتا ہو۔
حدیث نمبر: 2550
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي بَيْضِ نَعَامٍ أَصَابَهُ مُحْرِمٌ بِقَدْرِ ثَمَنِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شترمرغ کے انڈے کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا: ”اگر حالت احرام والا شخص اسے نقصان پہنچا دے، تو اسے اس کی قیمت کے مطابق تاوان ادا کرنا ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2551
وَنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا سعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، نا موسَى بْنُ دَاوُدَ ، نا إبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، بِهَذَا ، وَقَالَ : بِقِيمَتِهِ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں کچھ لفظی اختلاف ہے۔
حدیث نمبر: 2552
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ خَالِدٍ الطَّيِّبِيُّ ، نا طَاهِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ ، نا أَبِي ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ شَيْخٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلا كَانَ مُحْرِمًا عَلَى رَاحِلَتِهِ فَأَتَى عَلَى أُدْحِيِّ نَعَامَةٍ ، فَأَصَابَ مِنْ بَيْضِهَا فَسَقَطَ فِي يَدَيْهِ ، فَأَفْتَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلامُ أَنْ يَشْتَرِيَ بَنَاتِ مَخَاضٍ فَيَضْرِبُهُنَّ ، فَمَا أَنْتَجَ مِنْهُنَّ أَهْدَاهُ إِلَى الْبَيْتِ وَمَا لَمْ يُنْتِجْ مِنْهُنَّ أَجْزَأَ عَنْهُ ، لأَنَّ الْبِيضَ مِنْهُ مَا يَصْلُحُ وَمِنْهُ مَا يَفْسُدُ ، قَالَ : فَأَتَى الرَّجُلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا أَفْتَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ قَالَ عَلِيُّ مَا قَالَ ، فَهَلْ لَكَ فِي الرُّخْصَةِ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَإِنَّ فِي كُلِّ بَيْضَةِ نَعَامٍ إِطْعَامُ مِسْكِينٍ أَوْ صَوْمُ يَوْمٍ " .
محمد محی الدین
معاویہ بن قرہ ایک انصاری بزرگ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک شخص حالت احرام میں اپنی سواری پر جا رہا تھا، وہ شترمرغ کے گھونسلے کے پاس پہنچا، اس نے وہاں سے انڈا لیا، جو اس کے ہاتھ سے گر گیا، تو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں یہ فیصلہ دیا کہ وہ بنات مخاض خریدے گا، انہیں جفتی کے لیے دے گا، پھر وہ جو بچوں کو جنم دیں گی، وہ شخص ان بچوں کو بیت اللہ کے لیے ہدیہ کر دے گا، اور اگر ان اونٹنیوں نے کسی بچے کو جنم نہ دیا، تو بھی اس شخص کا کفارہ ادا ہو جائے گا، کیونکہ بعض اوقات کسی انڈے سے بچہ نکل آتا ہے اور بعض اوقات کسی انڈے سے بچہ نہیں نکلتا۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بارے میں بتایا، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے اسے فتویٰ دیا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”علی نے تو جو کہنا تھا، سو کہہ دیا، کیا تم کچھ رخصت حاصل کرنا چاہتے ہو؟“ اس نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر ایک انڈے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلانا یا ایک دن کا روزہ رکھنا (کفارہ) ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2553
نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى الْمَدَائِنِيُّ ، نا شبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، نا الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ هَجَرَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلامُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2554
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّيْرَفِيُّ ، نا يَزِيدُ ، أنا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ ایک انصاری صحابی سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2555
وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلا أَوْطَأَ بَعِيرُهُ أُدْحِيَّ نَعَامَةٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ ، فَأَتَى عَلِيًّا يَذْكُرُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : عَلَيْكَ فِي كُلِّ بَيْضَةٍ ضَرَبْتَ نَاقَةٌ أَوْ جَنِينُ نَاقَةٍ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ ، فَقَالَ لَهُ : " قَدْ قَالَ عَلِيُّ فِيهَا مَا قَالَ ، وَلَكِنْ هَلُمَّ إِلَى الرُّخْصَةِ عَلَيْكَ فِي كُلِّ بَيْضَةٍ صِيَامُ يَوْمٍ ، أَوْ إِطْعَامُ مِسْكِينٍ " .
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابولیلیٰ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک شخص نے اپنے اونٹ کے پاؤں کے نیچے شترمرغ کا گھونسلا دے دیا، وہ شخص حالت احرام میں تھا، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے سامنے اس کی بات کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے فرمایا: ایک انڈے کے عوض تمہیں ایک اونٹنی کو (جفتی کے لیے) دینا ہو گا یا ایک اونٹنی کے پیٹ میں موجود بچہ دینا ہو گا۔ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”علی نے تو اس بارے میں جو کہنا تھا، وہ کہہ دیا ہے، لیکن تم رخصت کی طرف کیوں نہیں آتے؟ ہر ایک انڈے کے عوض تم پر ایک دن کا روزہ رکھنا لازم ہو گا یا ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2556
نا أَبُو عُبَيْدٍ الْمَحَامِلِيُّ ، نا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، نا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَنَّ رَجُلا أَوْطَأَ بَعِيرُهُ أُدْحِيَّ نَعَامَةٍ ، فَسَأَلَ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلامُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : عَلَيْكَ لِكُلِّ بَيْضَةٍ ضِرَابُ نَاقَةٍ ، أَوْ جَنِينُ نَاقَةٍ ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ عَلِيُّ عَلَيْهِ السَّلامُ ، فَقَالَ : " قَدْ قَالَ مَا سَمِعْتَ هَلُمَّ إِلَى الرُّخْصَةِ : عَلَيْكَ لِكُلِّ بَيْضَةٍ صِيَامُ يَوْمٍ أَوْ إِطْعَامُ مِسْكِينٍ " .
محمد محی الدین
معاویہ بن قرہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے اپنے اونٹ کے پاؤں کے نیچے شترمرغ کا گھونسلا توڑ دیا، اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہر ایک انڈے کے عوض تمہیں ایک اونٹنی کو جفتی کے لیے دینا ہو گا یا اونٹنی کے پیٹ میں موجود بچے کی ادائیگی کرنی ہو گی۔ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا، جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس نے جو کہا، وہ تم نے سن لیا، تم رخصت کی طرف کیوں نہیں آتے؟ ایک انڈے کے عوض تمہیں ایک دن کا روزہ رکھنا ہو گا اور ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2557
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَبِي عِمْرَانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَيْرُوزٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُجَاهِدٍ الْمُقْرِئُ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ ، نا الْوَلِيدُ ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي بَيْضَةِ نَعَامٍ صِيَامُ يَوْمٍ أَوْ إِطْعَامُ مِسْكِينٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”شترمرغ کے ایک انڈے کے عوض (کفارے میں) ایک دن روزہ رکھنا ہو گا یا ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2558
نا محَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نا عبَّاسُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الأَزْهَرِ ، نا دحَيْمٌ ، نا الْوَلِيدُ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2559
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، نا أَبُو سَعِيدٍ ، نا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ مَنْ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انڈے کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا، جسے کسی آدمی نے حالت احرام میں توڑ دیا تھا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ یہ تھا): ”ایک انڈے کے عوض ایک روزہ رکھنا ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2560
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ النَّسَائِيُّ ، نا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِي بَيْضَةِ نَعَامٍ كَسَرَهُ رَجُلٌ مُحْرِمٌ صِيَامُ يَوْمٍ فِي كُلِّ بَيْضَةٍ " . قَالَ أَبُو خَالِدٍ : فِي بَيْضِ النَّعَامِ يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ صِيَامُ يَوْمٍ.
محمد محی الدین
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شترمرغ کے اس انڈے کے فدیے میں، جو محرم آدمی توڑ دیتا ہے، ہر انڈے کے بدلے میں ایک دن کا روزہ رکھنا ہے۔“ ابوخالد نامی راوی بیان کرتے ہیں: اگر حالت احرام والا شخص شترمرغ کے انڈے کو توڑ دے، تو وہ ایک دن روزہ رکھے گا۔
حدیث نمبر: 2561
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبَّانَ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الإِسْمَاعِيلِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، نا أَبُو قُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَكَمَ فِي بَيْضِ النَّعَامِ كَسَرَهُ رَجُلٌ مُحْرِمٌ صِيَامَ يَوْمٍ لِكُلِّ بَيْضَةٍ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شترمرغ کے انڈے کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا (اس انڈے کو حالت احرام والے ایک شخص نے توڑ دیا تھا، وہ فیصلہ یہ تھا): ”وہ شخص ایک انڈے کے عوض ایک روزہ رکھے گا۔“
حدیث نمبر: 2562
نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَطِيرِيُّ ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُوهُسْتَانِيُّ ، نا مُؤَمَّلُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ وَهُوَ ابْنُ غُرَابٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فِي بَيْضِ النَّعَامِ يُصِيبُهُ الْمُحْرِمُ ثَمَنُهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شترمرغ کے انڈے کے بارے میں یہ فرمایا ہے: ”حالت احرام والا شخص اگر اسے توڑ دیتا ہے، تو وہ اس کی قیمت ادا کرے گا۔“ انڈے کے بارے میں یہ فرمایا ہے: ”حالت احرام والا شخص اگر اسے توڑ دیتا ہے، تو وہ اس کی قیمت ادا کرے گا۔“
حدیث نمبر: 2563
نا نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا إبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، ثنا عَفَّانُ ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْمٍ أَصَابُوا ضَبُعًا ، قَالَ : " عَلَيْهِمْ كَبْشٌ يَتَخَارَجُونَهُ بَيْنَهُمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ایک بار کچھ لوگوں نے ایک گوہ کو قتل کر دیا، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ان سب لوگوں پر ایک دنبے کی قربانی لازم ہو گی، جسے وہ مل جل کر ادا کریں گے۔
حدیث نمبر: 2564
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، أَنَّ مَوَالِيَ لابْنِ الزُّبَيْرِ أَحْرَمُوا إِذْ مَرَّتْ بِهِمْ ضَبُعٌ فَجَذَفُوهَا بِعِصِيِّهِمْ فَأَصَابُوهَا ، فَوَقَعَ فِي أَنْفُسِهِمْ ، فَأَتَوْا ابْنَ عُمَرَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ " عَلَيْكُمْ كَبْشٌ " ، قَالُوا : عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا كَبْشٌ ؟ قَالَ : " إِنَّكُمْ لَمُغَزَّزٌ بِكُمْ عَلَيْكُمْ جَمِيعًا كُلُّكُمْ كَبْشٌ " . قَالَ : اللُّغَوِيُّونَ : قَوْلُهُ : إِنَّكُمْ لَمُغَزَّزٌ بِكُمْ : أَيْ لَمُشَدَّدٌ عَلَيْكُمْ إِذًا.
محمد محی الدین
عمار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ابن زبیر کے کچھ غلام حالت احرام میں تھے۔ ایک مرتبہ ایک گوہ ان کے پاس سے گزری۔ انہوں نے لاٹھیوں کے ذریعے مار کر اسے قتل کر دیا۔ پھر انہیں اس بارے میں الجھن ہوئی۔ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا۔ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم پر ایک دنبے کی قربانی لازم ہو گی۔ انہوں نے عرض کی: کیا ہم میں سے ہر شخص پر دنبے کی قربانی لازم ہو گی؟ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم اپنے اوپر زیادتی کر رہے ہو، تم سب پر ایک دنبے کی قربانی لازم ہو گی۔ علم لغت کے ماہرین نے کہا ہے: روایت کے یہ الفاظ ”لمعزربکم“ سے مراد یہ ہے کہ اس صورت میں تم اپنے ساتھ زیادتی کرو گے۔