نا الْقَاضِي بَدْرُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، نا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا سَاقَتْ بَدَنَتَيْنِ فَضَلَتَا ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ بَدَنَتَيْنِ مَكَانَهُمَا ، قَالَ : فَنَحَرَتْهُمَا ، ثُمَّ وَجَدَتِ الْبَدَنَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ فَنَحَرَتْهُمَا ، وَقَالَتْ : " هَكَذَا السُّنَّةُ فِي الْبُدْنِ " .
محمد محی الدین
قاسم بن محمد، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں بیان کرتے ہیں: وہ قربانی کے دو جانور ساتھ لے کر (حج کے لیے) آئی تھیں، وہ دونوں گم ہو گئے، تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کی جگہ دو مزید جانور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھجوائے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان دونوں کو ذبح کروا دیا، اس کے بعد ان کے پہلے والے جانور بھی مل گئے، تو سیدہ عائشہ نے انہیں بھی ذبح کروا دیا اور یہ بتایا: قربانی کے جانوروں کے بارے میں سنت یہی ہے۔
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْمَحَامِلِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ سَعِيدٍ ، نا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَهْدَى تَطَوُّعًا ثُمَّ ضَلَّتْ ، فَلَيْسَ عَلَيْهِ الْبَدَلُ إِلا أَنْ يَشَاءَ ، وَإِنْ كَانَتْ نَذْرًا فَعَلَيْهِ الْبَدَلُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص قربانی کا جانور لے کر جائے اور پھر وہ گم ہو جائے، تو اب اس پر اس کا بدل دینا لازم نہیں ہو گا، البتہ اگر وہ چاہے، تو ایسا کر سکتا ہے، یہ اس وقت ہے، جب وہ نفلی طور پر ہو، لیکن اگر وہ نذر کا جانور ہو، تو اب اس پر بدل دینا لازم ہو گا۔“
نا أَبُو هُرَيْرَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْزَةَ ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو زَيْدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، نا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَهْدَى تَطَوُّعًا ثُمَّ عَطِبَتْ ، فَإِنْ شَاءَ بَدَّلَ ، وَإِنْ شَاءَ أَكَلَ ، وَإِنْ كَانَ نَذْرًا فَلْيُبَدِّلْ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص نفلی طور پر قربانی کا جانور بھیجے اور پھر وہ جانور (گم ہو جائے یا مر جائے)، تو اگر وہ شخص چاہے، تو اس کے بدلے میں دوسرا جانور دے، تو اگر وہ چاہے، تو اسے کھا لے، لیکن اگر وہ جانور نذر کا ہو، تو اب اسے بدلے میں دوسرا جانور دینا پڑے گا۔“
نا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ، يَعْنِي ابْنَ مَخْرَمَةَ ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، أَنَّهُمَا حَدَّثَا أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَاقَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً عَنْ سَبْعِمِائَةِ رَجُلٍ ".
محمد محی الدین
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم دونوں حضرات یہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر سات سو آدمیوں کی طرف سے ستر اونٹوں کی قربانی دی تھی۔
نا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نا عَلِيُّ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنُ عُمَارَةَ أَبُو الْحَسَنِ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ أَبُو عَلِيٍّ ، نا أَيُّوبُ أَبُو الْجَمَلِ ، نا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجَزُورُ فِي الأَضْحَى عَنْ عَشَرَةٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”عید الاضحی کے موقع پر ایک اونٹ دس آدمیوں کی طرف سے قربان کیا جائے گا۔“
نا ابْنُ صَاعِدٍ ، نا محَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا زهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، نا عبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ . أَيُّوبُ أَبُو الْجَمَلِ ضَعِيفٌ ، وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَطَاءٍ غَيْرُهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس کا ایک راوی ایوب ابوجمل ضعیف ہے اور عطاء کے حوالے سے اس روایت کو صرف اسی نے نقل کیا ہے۔
ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نا أَبُو قِلابَةَ ، نا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، نا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، نا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَقَرَةَ وَالْجَزُورَ عَنْ سَبْعَةٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنت مقرر کی ہے: ”گائے اور اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے قربان کیے جائیں گے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . ح وَنا الْحُسَيْنُ ، وَالْقَاسِمُ ابْنَا إِسْمَاعِيلَ ، قَالا : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نا أَبُو كُرَيْبٍ ، نا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالُوا : نا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : نَحَرْنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً ، الْبَدَنَةُ عَنْ سَبْعَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ : " لِيَشْتَرِكِ النَّفْرُ فِي الْهَدْيِ " . لَفْظُ ابْنِ مَهْدِيٍّ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر ستر اونٹ قربانی کیے تھے، ایک اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے تھا، اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ”چند لوگ مل کر ایک جانور قربان کر لیں۔“ روایت کے یہ الفاظ ابن مہدی نامی راوی کے ہیں۔
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي أَبُو طَالِبٍ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ ، ثنا هَاشِمُ بْنُ يُونُسَ ، نا أَبُو صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، وَابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثُوهُ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ نَسِيَ شَيْئًا مِنْ نُسُكِهِ أَوْ تَرَكَهُ فَلْيُهْرِقْ دَمًا " . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَغَيْرُهُمْ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جو شخص اپنے مناسک حج میں سے کوئی بات بھول جائے یا اسے ترک کر دے، تو اسے قربانی دینا ہو گی۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، نا ابْنُ نُمَيْرٍ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
نا نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْفَلاسُ الْحَافِظُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، نا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " مَنْ تَرَكَ مِنْ نُسُكِهِ شَيْئًا فَلْيُهْرِقْ دَمًا ".
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جو شخص اپنے مناسک میں سے کوئی چیز ترک کر دے، تو وہ قربانی کر دے گا۔
نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَتْنَا كَرَامَةُ بِنْتُ الْحُسَيْنِ الْمَازِنِيَّةُ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ أبِي ، يَذْكُرُ عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الأَشْعَرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَطَبَ بِمِنًى أَوْسَطَ أَيَّامِ الأَضْحَى " ، يَعْنِي الْغَدَ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما، سیدنا کعب بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے بیچ والے دن مٹی میں خطبہ دیا تھا (راوی کہتے ہیں) یعنی قربانی سے اگلے دن۔
نا نا أَبُو عَلِيٍّ الصَّفَّارُ ، نا الدَّقِيقِيُّ ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا شَرِيكٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " إِنَّمَا التَّكْفِيرُ فِي الْعَمْدِ ، وَإِنَّمَا غَلَّظُوا فِي الْخَطَأِ لِئَلا يَعُودُوا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کفارہ عمد میں دیا جاتا ہے، خطا کی صورت میں زیادہ شدید تاوان اس کے لیے مقرر کیا گیا ہے، تاکہ لوگ دوبارہ ایسا نہ کریں۔