کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب: آدمی حج کا احرام باندھے پھر اسے عمرہ میں بدل دے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2520
نا نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، إِمْلاءً ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، عَنْ هُدْبَةَ بْنِ الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : " وَاللَّهِ مَا كَانَتِ الْمُتْعَةُ إِلا لَنَا خَاصَّةً وَلِلْمُحْصِرِ " .
محمد محی الدین
ابراہیم تیمی اپنے والد کے حوالے سے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ”اللہ کی قسم! حج تمتع کا حکم صرف ہمارے لیے مخصوص تھا یا اس شخص کے لیے ہے، جسے محصور کر دیا گیا ہو۔“
حدیث نمبر: 2521
نا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، وَأَبُو حَامِدٍ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالا : نا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الزِّيَادِيُّ ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ بِلالِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَسْخُ الْحَجِّ لَنَا أَوْ لِمَنْ بَعْدَنَا ؟ فَقَالَ : " لا بَلْ لَنَا " .
محمد محی الدین
حارث بن بلال اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! حج کو فسخ کرنے کا حکم صرف ہمارے لیے ہے، یا ہمارے بعد والوں کے لیے بھی ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں! صرف ہمارے لیے ہے۔“
حدیث نمبر: 2522
نا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْمُعَدَّلُ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، نا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، نا أَبُو غَسَّانَ ، نا قَيْسٌ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ ، فَقَالَ : " هِيَ وَاللَّهِ لَنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ خَاصَّةً ، وَلَيْسَتْ لِسَائِرِ النَّاسِ إِلا لِلْمُحْصَرِ " .
محمد محی الدین
ابراہیم تیمی بیان کرتے ہیں: ان کے والد نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے، ان سے حج تمتع کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! یہ صرف ہمارے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے لیے مخصوص ہے، یہ باقی لوگوں کے لیے نہیں ہے، البتہ (باقی لوگوں میں سے صرف) اس شخص کے لیے اس کا حکم ہے، جسے محصور کر دیا گیا ہو۔“
حدیث نمبر: 2523
نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يُونُسَ بْنِ يَاسِينَ ، نا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْمُرَقَّعِ الأَسَدِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : " لَمْ تَكُنْ مُتْعَةُ الْحَجِّ لأَحَدٍ أَنْ يُهِلَّ بِحَجَّةٍ ثُمَّ يَفْسَخُهَا بِعُمْرَةٍ ، إِلا لِلرَّكْبِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حج تمتع کرنے کا حق کسی کو نہیں ہے کہ وہ حج کا احرام باندھے اور پھر سے عمرے کے ذریعے فسخ کر دے، ماسوائے ان سواروں کے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے (یعنی یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے ساتھ مخصوص ہے)۔
حدیث نمبر: 2524
نا نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ ، نا أَبُو عُلاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ، نا أبِي ، نا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْمُرَقَّعِ الأَسَدِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّهَا لَمْ تَكُنْ لأَحَدٍ مِنْ بَعْدِنَا أَنْ يُحْرِمَ أَحَدٌ مُهِلا بِحَجٍّ ، ثُمَّ يَفْسَخُ حَجَّهُ بِعُمْرَةٍ قَبْلَ الْحَجِّ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہمارے بعد یہ حق کسی کو بھی نہیں ہے کہ وہ پہلے حج کا احرام باندھے اور پھر حج کرنے سے پہلے ہی اسے فسخ کر کے عمرے میں تبدیل کر دے۔
حدیث نمبر: 2525
نا نا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْمُرَقَّعِ الأَسَدِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : " مَا كَانَ لأَحَدٍ أَنْ يُهِلَّ بِحَجَّةٍ ثُمَّ يَفْسَخُهَا بِعُمْرَةٍ ، إِلا لِرَكْبٍ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کسی بھی شخص کو اس بات کا حق حاصل نہیں کہ وہ حج کا احرام باندھنے کے بعد اسے عمرے کے ذریعے فسخ کر دے، یہ حکم صرف ان سواروں کے لیے تھا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔