حدیث نمبر: 2468
ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّارُ ، نا رزْقُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نا موسَى بْنُ دَاوُدَ ، نا محَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جس شخص کو جوتے نہ ملیں، وہ موزے پہن لے اور جس شخص کو تہبند نہ ملے، وہ شلوار پہن لے۔
حدیث نمبر: 2469
نا ابْنُ صَاعِدٍ ، نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ . ح وَثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالُوا : نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ " . وَقَالَ الْعَبَّاسُ : الْمُحْرِمُ إِذَا لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ لَبِسَ الْخُفَّيْنِ ، وَيَقْطَعُهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ . قَالَ : وَقَالَ عَمْرٌو : انْظُرُوا أَيُّهُمَا كَانَ قَبْلُ : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ ، أَوْ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص کو جوتے نہ ملیں، وہ موزے پہن لے، البتہ ان کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے۔“ عباس نامی راوی بیان کرتے ہیں: محرم کو اگر جوتے نہ ملیں، تو وہ موزے پہن لے، البتہ وہ ان دونوں کو اس طرح کاٹ لے کہ وہ دونوں ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔ عمر نامی راوی بیان کرتے ہیں: تم اس بات کا جائزہ لو کہ کون سی روایت پہلے ہے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث یا سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث۔
حدیث نمبر: 2470
نا ابْنُ صَاعِدٍ ، نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ : " مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص کو جوتے نہ ملیں، وہ موزے پہن لے اور جس شخص کو تہبند نہ ملے، وہ شلوار پہن لے۔“
حدیث نمبر: 2471
نا ابْنُ مَخْلَدٍ ، نا ابْنُ زَنْجُوَيْهِ ، نا الْفِرْيَابِيُّ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِزَارٌ فَلْيَلْبَسِ السَّرَاوِيلَ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ نَعْلانِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ " . سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيَّ ، يَقُولُ فِي حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، وَلَيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، وَجُوَيْرِيَةَ بْنِ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ : مَاذَا يَتْرُكُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ ؟ وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ قَبْلَ الإِحْرَامِ بِالْمَدِينَةِ . وَحَدِيثُ شُعْبَةَ ، وَسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ هَذَا بَعْدَ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص کے پاس تہبند نہ ہو، وہ شلوار پہن لے اور جس شخص کے پاس جوتے نہ ہوں، وہ موزے پہن لے۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے مسجد میں بلند آواز میں دریافت کیا: حالت احرام والا شخص کون سے کپڑوں کو ترک کرے؟ (امام دارقطنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں) یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ بات احرام باندھنے سے قبل مدینہ منورہ کی ہے۔ جبکہ دیگر راویوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے، اس میں اس بات کا تذکرہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے وہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنی تھی، لہٰذا یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی نقل کردہ حدیث کے بعد کی ہو گی۔
حدیث نمبر: 2472
نا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، نا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسِ الْخُفَّيْنِ ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس شخص کو جوتے نہ ملیں، وہ موزے پہن لے، البتہ وہ انہیں ٹخنوں تک نیچے سے کاٹ لے۔“
حدیث نمبر: 2473
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالُوا : نا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ ؟ فَقَالَ : " لا يَلْبَسُ الْقَمِيصَ ، وَلا الْعِمَامَةَ ، وَلا السَّرَاوِيلَ ، وَلا الْبُرْنُسَ ، وَلا ثَوْبًا مَسَّهُ الْوَرْسُ ، وَلا الزَّعْفَرَانُ ، وَلا الْخُفَّيْنِ ، إِلا لِمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ " . وَقَالَ يُوسُفُ : حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ.
محمد محی الدین
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: حالت احرام والا شخص کون سے کپڑے پہنے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ قمیص نہیں پہنے گا، عمامہ نہیں پہنے گا، شلوار نہیں پہنے گا، ٹوپی نہیں پہنے گا اور ایسا کپڑا نہیں پہنے گا، جس پر ورس یا زعفران لگا ہوا ہے، وہ موزے نہیں پہنے گا، البتہ اسے اگر جوتے نہ ملیں، تو حکم مختلف ہے، جس شخص کو جوتے نہ ملیں، وہ موزے پہن سکتا ہے، البتہ وہ ان دونوں کو ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے۔“ یوسف نامی راوی یہ الفاظ نقل کرتے ہیں: ”انہیں کاٹ لے کہ وہ ٹخنوں کے نیچے تک ہو جائیں۔“
حدیث نمبر: 2474
نا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، نا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْقُومِسِيُّ ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ ، نا عَطَاءٌ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَيْتَنِي أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ ، فَبَيْنَا نَحْنُ بِالْجِعْرَانَةِ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ فَأَتَاهُ الْوَحْيُ ، فَأَشَارَ إِلَى عُمَرَ أَنْ تَعَالَ ، فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي الْقُبَّةَ ، فَأَتَى رَجُلٌ قَدْ أَحْرَمَ فِي جُبَّتِهِ بِعُمْرَةٍ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ فِي جُبَّتِهِ ؟ ، إِذْ أنزل عَلَيْهِ الْوَحْيُ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغِطُّ كَذَلِكَ فَسُرِّيَ عَنْهُ ، فَقَالَ : " أَيْنَ الرَّجُلُ الَّذِي سَأَلَنِي آنِفًا ؟ " ، فَأُتِيَ بِالرَّجُلِ ، فَقَالَ : " أَمَّا الْجُبَّةُ فَاخْلَعْهَا ، وَأَمَّا الطِّيبُ فَاغْسِلْهُ ، ثُمَّ أَحْدِثْ إِحْرَامًا " قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : لا أَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا قَالَ : ثُمَّ أَحْدِثْ إِحْرَامًا ، غَيْرُ نُوحِ بْنِ حَبِيبٍ ، وَلا أَحْسَبُهُ مَحْفُوظًا . وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین
صفوان بن یعلیٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میری یہ خواہش تھی کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی حالت میں دیکھوں، جب آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو، ایک مرتبہ جب ہم ’’جعرانہ‘‘ میں موجود تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں موجود تھے، آپ ایک خیمے میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے اشارہ کیا: تم آگے آ جاؤ، میں نے اپنا سر اس خیمے میں داخل کیا، ایک شخص آیا، جس نے جبہ پہن کر عمرے کا احرام باندھا ہوا تھا اور اس نے خوشبو بھی لگائی ہوئی تھی، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ ایسے شخص کے بارے میں ارشاد فرمائیں، جس نے حیے میں حرام کی نیت کر لی ہو۔“ اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خراٹے لینا شروع کیا، اس کے بعد آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی، تو آپ نے دریافت کیا: ”وہ شخص کہاں ہے، جس نے ابھی مجھ سے سوال کیا تھا؟“ اس شخص کو لایا گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جہاں تک حیے کا تعلق ہے، تو اسے اتار دو اور جہاں تک خوشبو کا تعلق ہے، تو اسے دھو لو اور پھر نئے سرے سے احرام باندھو۔“ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے یہ بات بیان کی ہے: میرے علم کے مطابق کسی بھی شخص نے یہ بات نقل نہیں کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو دوبارہ احرام باندھنے کی ہدایت کی، صرف نوح بن حبیب نامی راوی نے اس بات کا تذکرہ کیا ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ الفاظ درست نہیں ہیں، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
حدیث نمبر: 2475
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحِمْيَرِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ الْفَأْرَةَ ، وَالْعَقْرَبَ ، وَالْحِدَأَةَ ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ ، وَالْغُرَابَ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”حالت احرام والا شخص چوہے، بچھو، پاگل کتے اور کوے کو مار سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2476
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، نا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ ، نا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، نا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ ، عَنْ وَبَرَةَ ، وَنَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ الذِّئْبَ ، وَالْغُرَابَ ، وَالْحِدَأَةَ ، وَالْفَأْرَةَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”حالت احرام والا شخص بھیڑیے، کوے، چیل اور چوہے کو مار سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2477
نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ ، نا عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ أَبُو بَدْرٍ ، نا حَبَّانُ ، نا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، نا حَجَّاجٌ ، نا وَبَرَةُ ، وَنَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2478
نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نا حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، نا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْقَمِيصِ وَالأَقْبِيَةِ وَالسَّرَاوِيلِ ، وَالْخُفَّيْنِ ، إِلا أَنْ لا يَجِدَ النَّعْلَيْنِ ، وَلا يَلْبَسْ ثَوْبًا مَسَّهُ زَعْفَرَانُ أَوْ وَرْسٌ " ، يَعْنِي الْمُحْرِمَ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (احرام کی حالت میں) قمیص پہننے اور موزے پہننے سے منع کیا ہے، البتہ جس کو جوتے نہ ملیں (اس کا حکم مختلف ہے)، حالت احرام والا شخص ایسا کپڑا نہیں پہنے گا، جس پر زعفران یا ورس لگا ہوا ہو۔ (راوی بیان کرتے ہیں) اس سے مراد یہ ہے کہ حالت احرام والا شخص یہ کام نہیں کر سکتا۔
حدیث نمبر: 2479
نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي بِاللَّهِ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ بْنِ رِشْدِينَ ، نا أَبُو زَيْدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْعُمُرِ . ح وَنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْعُمُرِ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْغَالِيَةِ الْجَيِّدَةِ عِنْدَ إِحْرَامِهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں، وہ یہ بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھتے وقت بہترین خوشبو لگائی تھی۔
حدیث نمبر: 2480
نا نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " الْمُحْرِمُ يَشُمُّ الرَّيْحَانَ ، وَيَدْخُلُ الْحَمَّامَ ، وَيَنْزِعُ ضِرْسَهُ ، وَيَفْقَأُ الْقُرْحَةَ ، وَإِذَا انْكَسَرَ ظَفْرَةُ أَمَاطَ عَنْهُ الأَذَى " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: حالت احرام والا شخص ریحان (نامی خوشبودار) پھول کو سونگھ سکتا ہے، وہ حمام میں داخل ہو سکتا ہے، دانت نکلوا سکتا ہے، پھوڑے کو چیر سکتا ہے، جب اس کا ناخن ٹوٹ جائے، تو اپنے آپ سے تکلیف دہ چیز کو دور کر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 2481
نا نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ ، نا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَرُبَّمَا ذَكَرَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لا بَأْسَ بِالْهِمْيَانِ ، وَالْخَاتَمِ لِلْمُحْرِمِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حالت احرام والے شخص کے لیے پٹکہ (کمر کا بیلٹ) اور انگوٹھی استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 2482
نا الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو عُبَيْدٍ ، وَأَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ بْنُ بُرْدٍ ، نا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، نا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " رُخِّصَ لِلْمُحْرِمِ فِي الْخَاتَمِ وَالْهِمْيَانِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے: حالت احرام والے شخص کو انگوٹھی پہننے اور پٹکہ (کمر کا بیلٹ) باندھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 2483
نا نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ ، نا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، نا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لا بَأْسَ بِالْخَاتَمِ لِلْمُحْرِمِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں: حالت احرام والے شخص کے لیے انگوٹھی پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2484
نا ابْنُ مَخْلَدٍ ، نا الرَّمَادِيُّ ، نا يَزِيدُ الْعَدَنِيُّ ، نا سفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، مِثْلَهُ . وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنَ عَبَّاسٍ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہونے کا تذکرہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2485
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمُنَادِي ، نا رَوْحٌ ، ثنا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " كُنَّا إِذَا سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَعِدْنَا كَبَّرْنَا ، وَإِذَا هَبَطْنَا سَبَّحْنَا " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کرتے تھے، تو جب بلندی پر چلتے، تو تکبیر کہتے اور جب پستی کی طرف اترتے، تو سبحان اللہ کہتے تھے۔
حدیث نمبر: 2486
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " إِنَّ مِنْ سُنَّةِ الْحَجِّ أَنْ لا يُحْرَمُ بِالْحَجِّ إِلا فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ " . قَالَ : تَابَعَهُ شُعْبَةُ ، وَحَمْزَةُ الزَّيَّاتُ ، وَأَبُو الْقَاسِمِ ، هُوَ مِقْسَمٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یہ بات بیان کرتے ہیں: حج کی سنت میں یہ بات شامل ہے کہ آدمی حج کا احرام کے مہینے میں باندھے۔ بعض دیگر راویوں نے اس کی متابعت کی ہے، اس کے راوی ابوالقاسم کا نام مقسم ہے، جو عبداللہ بن حارث کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
حدیث نمبر: 2487
نا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، وَآخَرُونَ ، قَالُوا : نا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ ، نا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ ، نا مُصْعَبُ بْنُ سَلامٍ ، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " فِي الرَّجُلِ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ فِي غَيْرِ أَشْهُرِ الْحَجِّ ، قَالَ : لَيْسَ ذَاكَ مِنَ السُّنَّةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے ایسے شخص کے بارے میں یہ فرمایا تھا، جس نے حج کے مہینوں سے پہلے ہی حج کا احرام باندھ لیا، انہوں نے فرمایا تھا: یہ بات سنت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2488
نا نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا عُثْمَانُ ، نا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قُلْتُ : " أُهِلُّ بِالْحَجِّ قَبْلَ أَشْهُرِ الْحَجِّ ؟ قَالَ : لا " .
محمد محی الدین
ابوزبیر بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا حج کے مہینے شروع ہونے سے پہلے احرام باندھا جا سکتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”نہیں!۔“
حدیث نمبر: 2489
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا عُثْمَانُ ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : " إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ سورة البقرة آية 197 ، لِئَلا يُفْرَضُ الْحَجُّ فِي غَيْرِهِنَّ " .
محمد محی الدین
عطاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”حج کے مہینے طے شدہ ہیں۔“ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی شخص اس سے پہلے حج کا احرام نہ باندھ لے۔
حدیث نمبر: 2490
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْوَرَّاقُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، وَآخَرُونَ ، قَالُوا : نا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يُنْكِرُ الاشْتِرَاطَ فِي الْحَجِّ ، وَيَقُولُ : " أَلَيْسَ حَسْبُكُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
محمد محی الدین
سالم، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں بیان کرتے ہیں: وہ حج میں شرط مقرر کرنے کا انکار کرتے تھے اور فرماتے تھے: ”کیا تمہارے لیے تمہارے نبی کی سنت کافی نہیں ہے؟“
حدیث نمبر: 2491
نا نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا الرَّمَادِيُّ ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، بِهَذَا وَقَالَ : حَسْبُكُمْ سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَشْتَرِطُ ، فَإِنْ حَبَسَ أَحَدُكُمْ حَابِسٌ ، فَإِذَا وَصَلَ الْبَيْتَ طَافَ بِهِ ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، وَيَحْلِقُ وَيُقَصِّرُ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ ".
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ نقل کی گئی ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: (انہوں نے فرمایا) ”تمہارے نبی کی سنت کافی ہے، آپ نے کوئی شرط مقرر نہیں کی تھی، اگر کوئی شخص کسی وجہ سے سفر جاری نہ رکھ سکے، تو جب بھی وہ اللہ کے گھر تک پہنچ جائے، تو اس کا طواف کرے، صفا و مروہ کا طواف کرے اور پھر سر منڈوا لے یا بال چھوٹے کر لے اور اس پر اس سال حج کرنا لازم ہو گا۔“
حدیث نمبر: 2492
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، نا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ وَأَنَا شَاكِيَةٌ ، قَالَ : " حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي " . قَالَ مَعْمَرٌ : وَأَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں، لیکن میں بیمار ہوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ارادہ کر لو اور یہ شرط رکھو کہ جہاں میں آگے جانے کے قابل نہ رہی، وہیں احرام کھول دوں گی۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2493
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ طَاوُسًا ، وعِكْرِمَةَ أَخْبَرَاهُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ ، وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أُهِلَّ ؟ قَالَ : " أَهِلِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي " . قَالَ : فَأَدْرَكَتْ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، انہوں نے کہا: ”میں بھاری بھرکم عورت ہوں اور میں حج کرنا چاہتی ہوں، تو آپ مجھے احرام کے بارے میں کیا ہدایت کرتے ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم احرام باندھ لو اور یہ شرط عائد کرو کہ جہاں میں آگے جانے کے قابل نہ رہی، وہاں احرام کھول دیں گی۔“ راوی کہتے ہیں: انہوں نے وہ حج کر لیا تھا۔
حدیث نمبر: 2494
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، نا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ طَاوُسًا ، وعِكْرِمَةَ أَخْبَرَاهُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2495
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، نا أَبُو الأَزْهَرِ ، ومُحَمَّدُ بْنُ مَنْخَلٍ ، قَالا : نا مَكِّيُّ ، نا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
حدیث نمبر: 2496
حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَبُو عُمَرَ ، وَالْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالُوا : نا أَبُو يُوسُفَ الْقَلُوسِيُّ ، نا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدِ أَبُو هَمَّامٍ الْخَازِكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ ضُبَاعَةَ أَنْ تَشْتَرِطَ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ضباعہ کو یہ ہدایت کی تھی کہ (وہ احرام باندھتے ہوئے) شرط عائد کریں۔