حدیث نمبر: 2353
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ نَذَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَوْفِ بِنَذْرِكَ " . هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں یہ نذر مانی تھی کہ مسجد حرام میں ایک رات کا اعتکاف کریں گے، انہوں نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی نذر کو پورا کرو۔“ اس کی سند مستند ہے۔
حدیث نمبر: 2354
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الزُّبَيْرِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، كَانَ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، فَلَمَّا كَانَ الإِسْلامُ سَأَلَ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ : " أَوْفِ بِنَذْرِكَ " . فَاعْتَكَفَ عُمَرُ لَيْلَةً . إِسْنَادٌ ثَابِتٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں یہ نذر مانی تھی کہ وہ مسجد حرام میں ایک رات کا اعتکاف کریں گے، جب اسلام کا زمانہ آیا، تو انہوں نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، تو آپ نے فرمایا: ”تم اپنی نذر کو پورا کرو۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک رات کا اعتکاف کیا تھا۔ اس کی سند ثابت ہے۔
حدیث نمبر: 2355
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ السُّوسِيُّ ، مِنْ كِتَابِهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ الرَّمْلِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ أَبِي سُهَيْلٍ عَمِّ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُعْتَكِفِ صِيَامٌ ، إِلا أَنْ يَجْعَلَهُ عَلَى نَفْسِهِ " . رَفَعَهُ هَذَا الشَّيْخُ ، وَغَيْرُهُ لا يَرْفَعُهُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اعتکاف کرنے والے شخص پر روزہ رکھنا لازم نہیں ہوتا، البتہ اگر وہ اپنے اوپر (روزہ رکھنے کو بھی) لازم کرے، تو حکم (مختلف ہو گا)۔“ شیخ نے اس روایت کو مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے، جبکہ دیگر راویوں نے اسے مرفوع حدیث کے طور پر نقل نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 2356
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ ، فِي الإِجَازَةِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ هَاشِمٍ ، حَدَّثَهُمْ ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا اعْتِكَافَ إِلا بِصِيَامٍ " . تَفَرَّدَ بِهِ سُوَيْدٌ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اعتکاف صرف روزے کے ہمراہ ہی درست ہوتا ہے۔“ اس کو نقل کرنے میں سویہ نامی راوی منفرد ہیں۔
حدیث نمبر: 2357
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ ، ثنا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، عَنْ جُوَيْبِرٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " كُلُّ مَسْجِدٍ لَهُ مُؤَذِّنٌ وَإِمَامٌ فَالاعْتِكَافُ فِيهِ يَصْلُحُ " . الضَّحَّاكُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ حُذَيْفَةَ.
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ہر وہ مسجد جس میں موذن اور امام موجود ہوں، اس میں اعتکاف ہو سکتا ہے۔“ اس روایت کے راوی ضحاک نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے احادیث کا سماع نہیں کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2358
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " الْمُعْتَكِفُ يَشْهَدُ الْجُمُعَةَ ، وَيَتْبَعُ الْجِنَازَةَ ، وَيَعُودُ الْمَرِيضَ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اعتکاف کرنے والا شخص جمعے کی نماز میں شریک ہو سکتا ہے، جنازے میں شریک ہو سکتا ہے اور بیمار کی عیادت کر سکتا ہے۔“
حدیث نمبر: 2359
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ ، ثنا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، أَوْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " الْمُعْتَكِفُ يَعُودُ الْمَرِيضَ ، وَيَشْهَدُ الْجِنَازَةَ ، وَيَأْتِي الْجُمُعَةَ وَيَأْتِي أَهْلَهُ ، وَلا يُجَالِسُهُمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ”اعتکاف کرنے والا شخص بیمار کی عیادت کر سکتا ہے، جنازے میں شریک ہو سکتا ہے، جمعے کے لیے جا سکتا ہے، اپنے گھر جا سکتا ہے (لیکن ان کے ساتھ زیادہ دیر رہ نہیں سکتا)۔“
حدیث نمبر: 2360
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدِ الْعَنْقَرِيُّ ، ثنا أبِي ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُدَيْلٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّبَّاحُ ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اعْتِكَافٍ عَلَيْهِ ، " فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ وَيَصُومَ " . تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اعتکاف کے بارے میں دریافت کیا، جو ان کے ذمے لازم تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی کہ: ”وہ اعتکاف کریں اور روزہ بھی رکھیں۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں ابن بدیل نامی راوی منفرد ہیں اور یہ ضعیف ہیں۔
حدیث نمبر: 2361
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَابْنُ عَيَّاشٍ ، قَالا : نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا أَبُو عَامِرٍ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَعْتَكِفَ يَوْمًا ، قَالَ : " اعْتَكِفْ وَصُمْ " . سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيَّ ، يَقُولُ : هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ ، لأَنَّ الثِّقَاتِ مِنْ أَصْحَابِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ لَمْ يَذْكُرُوهُ ، مِنْهُمُ ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَغَيْرُهُمْ ، وَابْنُ بُدَيْلٍ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بات نقل کی ہے: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: ”میں نے یہ نذر مانی تھی کہ میں ایک دن کا اعتکاف کروں گا،“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اعتکاف بھی کرو اور روزہ بھی رکھو۔“ شیخ ابوبکر نیشاپوری کو میں نے یہ کہتے ہوئے سنا ہے، وہ فرماتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، کیونکہ عمرو بن دینار کے ثقہ شاگردوں نے اسے نقل نہیں کیا، جن میں ابن جریج، ابن عیینہ، حماد بن سلمہ، حماد بن زید اور دیگر حضرات شامل ہیں، جبکہ اس کا راوی ابن بدیل ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 2362
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مَيْسَرَةَ ، ثنا أبِي ، ثنا هِشَامٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ حَدِيثِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے، اس کے بعد یہ معمول اسی طرح رہا، یہاں تک کہ آپ کا وصال ہو گیا۔
حدیث نمبر: 2363
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُجَشِّرٍ ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ التُّبَّعِيُّ ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ ، ثُمَّ اعْتَكَفَهُنَّ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ ، وَأَنَّ السُّنَّةَ لِلْمُعْتَكِفِ أَنْ لا يَخْرُجَ إِلا لِحَاجَةِ الإِنْسَانِ ، وَلا يَتْبَعُ جِنَازَةً ، وَلا يَعُودُ مَرِيضًا ، وَلا يَمَسُّ امْرَأَةً ، وَلا يُبَاشِرُهَا ، وَلا اعْتِكَافَ إِلا فِي مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ ، وَيَأْمُرُ مَنِ اعْتَكَفَ أَنْ يَصُومَ " . يُقَالُ : إِنَّ قَوْلَهُ : وَأَنَّ السُّنَّةَ لِلْمُعْتَكِفِ إِلَى آخِرِهِ ، لَيْسَ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَّهُ مِنْ كَلامِ الزُّهْرِيِّ وَمَنْ أَدْرَجَهُ فِي الْحَدِيثِ فَقَدْ وَهِمَ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، وَهِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ لَمْ يَذْكُرْهُ.
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر اور سعید بن مسیب نے یہ بات بیان کی ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یہ بتایا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے میں آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، آپ کے بعد آپ کی ازواج نے بھی ان دنوں میں اعتکاف کیا اور اعتکاف کرنے والے شخص کے لیے سنت یہ ہے: ”صرف قضائے حاجت کے لیے (اعتکاف کی جگہ سے) باہر نکلے گا، وہ جنازے میں شریک نہیں ہو گا، مریض کی عیادت کے لیے نہیں جائے گا، وہ عورت کو چھوئے گا نہیں اور اس کے ساتھ مباشرت نہیں کرے گا، اور اعتکاف صرف اس مسجد میں ہو سکتا ہے، جہاں باجماعت نماز ہوتی ہے اور اعتکاف کرنے والے شخص کو یہ حکم دیا جائے گا کہ وہ روزہ بھی رکھے۔“ ایک قول کے مطابق اس روایت کے یہ الفاظ: ”اعتکاف کرنے والے شخص کے لیے سنت یہ ہے“ اس کے بعد سے لے کر روایت کے آخر تک کا حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں ہے، بلکہ (اس روایت کے راوی) زہری کا کلام ہے، جنہوں نے اسے حدیث میں ہی درج کر دیا ہے، جس کی وجہ سے یہ وہم ہوا ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ ہشام بن سلیمان نامی راوی نے اس کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔
حدیث نمبر: 2364
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنِ الاعْتِكَافِ وَكَيْفَ سُنَّتِهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ ، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ ، وَأَنَّ السُّنَّةَ فِي الْمُعْتَكِفِ أَنْ لا يَخْرُجَ إِلا لِحَاجَةِ الإِنْسَانِ ، وَلا يَتْبَعُ جِنَازَةً ، وَلا يَعُودُ مَرِيضًا ، وَلا يَمَسُّ امْرَأَةً ، وَلا يُبَاشِرُهَا ، وَلا اعْتِكَافَ إِلا فِي مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ ، وَسُنَّةُ مَنِ اعْتَكَفَ أَنْ يَصُومَ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، آپ کے بعد آپ کی ازواج نے اعتکاف کیا اور اعتکاف کرنے والے کے لیے سنت یہ ہے: ”وہ صرف قضائے حاجت کے لیے (اعتکاف کی جگہ سے) باہر نکل سکتا ہے، وہ جنازے میں شریک نہیں ہو گا، بیمار کی عیادت نہیں کرے گا، وہ اپنی بیوی کو چھو نہیں سکے گا، اس کے ساتھ مباشرت نہیں کر سکتا، اعتکاف صرف اس جگہ میں ہو گا، جہاں باجماعت نماز ادا کی جاتی ہے، اور اعتکاف کرنے والے کے لیے سنت یہ ہے، وہ روزہ رکھے۔“
حدیث نمبر: 2365
حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ الْحَافِظُ ، ثنا هِلالُ بْنُ الْعَلاءِ ، ثنا أبِي ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ نَذَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ فِي الشِّرْكِ وَيَصُومَ ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ إِسْلامِهِ ، فَقَالَ : " أَوْفِ بِنَذْرِكَ " . وَهَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ ، تَفَرَّدَ بِهَذَا اللَّفْظِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ شرک میں یہ نذر مانی تھی کہ وہ اعتکاف کریں گے اور روزہ رکھیں گے، انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی نذر کو پورا کرو۔“ اس کی سند حسن ہے، اسے ان الفاظ میں نقل کرنے میں سعید بن بشیر نامی راوی منفرد ہیں۔