کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب دو چیزوں کو ملانے کی وضاحت ‘ دوملی ہوئی چیزوں پر زکوۃ لازم ہونے کا حکم
حدیث نمبر: 1943
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثنا الْوَلِيدُ ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : صَحِبْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ فَذَكَرَ كَلامًا ، فَقَالَ : أَلا إِنِّي سَمِعْتُهُ ذَاتَ يَوْمٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلا يُجْمَعُ بَيْنَ مُفَرَّقٍ ، وَالْخَلِيطَانِ مَا اجْتَمَعَ عَلَى الْحَوْضِ وَالرَّاعِي وَالْفَحْلِ " .
محمد محی الدین
سائب بن یزید بیان کرتے ہیں: میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا ہوں، اس کے بعد انہوں نے کوئی کلام ذکر کیا، پھر انہوں نے یہ بھی بتایا: ایک دن انہوں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”(زکوٰۃ کی وصولی یا زکوٰۃ سے بچنے کے لیے) اکٹھے مال کو الگ، الگ نہیں کیا جائے اور الگ، الگ مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور دو حصے دار وہ لوگ ہوں گے، جو حوض، چرواہے اور (جفتی کے لیے دینے والے جانور کے بارے میں) حصے دار ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 1944
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ الْكُوفِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مُوسَى ، ثنا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ فِي الْمُثِيرَةِ صَدَقَةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مشیرہ (یعنی وہ گائے جو چلانے کے لیے استعمال ہوتی ہے) میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی۔“
حدیث نمبر: 1945
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَبُو الأَزْهَرِ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَطَاءً عَنِ النَّفْرِ الْخُلَطَاءِ لَهُمْ أَرْبَعُونَ شَاةً ، قَالَ : " عَلَيْهِمْ شَاةٌ " ، فَإِنْ كَانَتْ لِوَاحِدٍ تِسْعَةٌ وَثَلاثُونَ وَلِلآخَرِ شَاةٌ ، قَالَ : " عَلَيْهِمَا شَاةٌ " .
محمد محی الدین
ابن جریج بیان کرتے ہیں: میں نے عطاء سے ایسے لوگوں کے بارے میں دریافت کیا، جو ایک دوسرے کے حصے دار ہوں، ان کی چالیس بکریاں ہوں، تو ان سب پر ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی، میں نے دریافت کیا: اگر ان میں سے ایک شخص کی ٣٩ بکریاں ہوں اور دوسرے شخص کی ایک بکری ہو؟ تو انہوں نے یہی فرمایا: ”ان دونوں پر ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی۔“
حدیث نمبر: 1946
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الْحَسَنِ بِصَحِيفَةٍ فِيهَا مَسَائِلُ يَسْأَلُهُ عَنْهَا ، فَمَا تَتَعْتَعَ فِي شَيْءٍ مِنْهَا حَتَّى أَتَى عَلَى أَرْبَعِينَ شَاةً بَيْنَ نَفَسَيْنِ ، فَقَالَ : " فِيهَا شَاةٌ عَلَيْهِمَا " .
محمد محی الدین
حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں: ایک شخص حسن بصری کے پاس ایک صحیفہ لے کر آیا، جس میں مختلف مسائل تحریر تھے، اس نے ان سے اس صحیفے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے ان مسائل میں کوئی غلطی نہیں نکالی، البتہ جب یہ مسئلہ آیا کہ چالیس بکریاں دو لوگوں کی مشترکہ ملکیت ہوں، تو انہوں نے فرمایا: ”ان دونوں پر ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی۔“
حدیث نمبر: 1947
حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، ثنا هِلالُ بْنُ خَبَّابٍ ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ : أَتَانَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ ، قَالَ : فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنَّ فِي عَهْدِي أَنْ لا آخُذَ مِنْ رَاضِعِ لَبَنٍ شَيْئًا ، قَالَ : وَلا يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ وَلا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ " . وَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ كَوْمَاءَ ، فَقَالَ : خُذْ هَذِهِ ، فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا.
محمد محی الدین
سیدنا سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے زکوٰۃ وصول کرنے والا شخص ہمارے پاس آیا، میں اس کے پہلو میں بیٹھ گیا، راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اسے یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ مجھے اس بات کا پابند کیا گیا ہے: ”میں دودھ پلانے والا کوئی جانور وصول نہ کروں اور (زکوٰۃ کی وصولی کرتے ہوئے) الگ، الگ مال کو اکٹھا نہ کیا جائے اور اکٹھے مال کو الگ، الگ نہ کیا جائے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے پاس ایک شخص اونچی کوہان والی اونٹنی لے کر آیا اور بولا: ”تم اسے وصول کر لو۔“ اس نے اسے وصول کرنے سے انکار کر دیا۔
حدیث نمبر: 1948
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَبُو حُمَيْدٍ الْجَلابُ أَحْمَدُ بْنُ إِدْرِيسَ ، ثنا هُشَيْمٌ ، عَنْ هِلالِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَيْسَرَةَ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ : أَتَانَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدْتُ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ : إِيشْ فِي كِتَابِكَ ؟ فَقَالَ : " أَنْ لا أُفَرِّقَ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلا أَجْمَعَ بَيْنَ مُفَرَّقٍ " . فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ كَوْمَاءَ ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا.
محمد محی الدین
سیدنا سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے زکوٰۃ وصول کرنے والا ایک شخص ہمارے پاس آیا، میں اس کے پاس بیٹھ گیا، میں نے اس سے دریافت کیا: ”تمہاری تحریر میں کیا لکھا ہے؟“ اس نے بتایا: ”اکٹھے مال کو الگ، الگ نہ کروں اور الگ، الگ مال کو اکٹھا نہ کروں۔“ راوی کہتے ہیں: پھر ایک شخص اس کے پاس اونچی کوہان والی اونٹنی لے کر آیا، تو اس نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
حدیث نمبر: 1949
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ ، قَالا : نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثنا شَرِيكٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي لَيْلَى سِنَانٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَيْنَا مُصَدِّقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَرَأْتُ فِي كِتَابِهِ : " لا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ " ، قَالَ : فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ عَظِيمَةٍ حَسْنَاءَ مُلَمْلَمَةٍ ، فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا ، وَقَالَ : مَا عُذْرِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذْتُ هَذِهِ مِنْ مَالِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ ؟ قَالَ يَحْيَى : ثُمَّ سَمِعْتُ شَرِيكًا بَعْدُ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، فَذَكَرْتُهُ لِوَكِيعٍ ، فَقَالَ : إِنَّمَا سَمِعْنَاهُ مِنْهُ عَنْ عُثْمَانَ.
محمد محی الدین
سیدنا سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے زکوٰۃ وصول کرنے والا ایک شخص آیا، راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اس کی تحریر میں یہ بات پڑھی کہ: ”الگ، الگ مال کو اکٹھا نہ کیا جائے اور اکٹھے مال کو الگ، الگ نہ کیا جائے، زکوٰۃ (ادائیگی یا وصولی) سے بچنے کے لیے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر اس کے بعد اس کے پاس ایک شخص بڑی اونٹنی لے کر آیا، جو بہت خوبصورت اور صحت مند تھی، تو اس نے اونٹنی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ بولا: ”اگر میں نے ایک مسلمان کے مال میں سے اسے وصول کر لیا، تو پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کیا کروں گا۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں کچھ اختلاف ہے۔