حدیث نمبر: 1907
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ النَّحْوِيُّ ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا الصَّقْرُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ ، وَلا فِي الْعَرَايَا صَدَقَةٌ ، وَلا فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ ، وَلا فِي الْعَوَامِلِ صَدَقَةٌ ، وَلا فِي الْجَبْهَةِ صَدَقَةٌ " . قَالَ الصَّقْرُ : الْجَبْهَةُ : الْخَيْلُ وَالْبِغَالُ وَالْعَبِيدُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”سبزیوں میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی، ’عرایا‘ میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی، پانچ وسق سے کم (اناج) میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی، عوامل میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی اور پیشانی میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی۔“ صقر بن حبیب نامی راوی بیان کرتے ہیں: پیشانی سے مراد گھوڑا، خچر اور غلام ہے۔
حدیث نمبر: 1908
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ وَهْبٍ الْبُنْدَارُ ، نا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ فِيمَا أَنْبَتَتِ الأَرْضُ مِنَ الْخَضِرِ زَكَاةٌ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”زمین سے جو سبزیاں اگتی ہیں، ان میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔“
حدیث نمبر: 1909
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى بَنِي جَحْشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ : " أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِينَارًا دِينَارًا ، وَمِنْ كُلِّ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ ، وَلا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ ، وَلَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ " .
محمد محی الدین
محمد بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو جب یمن بھیجا تھا، تو انہیں یہ ہدایت دی تھی کہ وہ ہر چالیس دینار میں سے ایک دینار وصول کریں، ہر دو سو درہم میں سے پانچ درہم وصول کریں اور پانچ وسق سے کم میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی، پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی اور سبزیوں میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی۔
حدیث نمبر: 1910
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ نَبْهَانٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ زَكَاةٌ " .
محمد محی الدین
موسیٰ بن طلحہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”سبزیوں میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی۔“
حدیث نمبر: 1911
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَرَّاحِ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّوْرَقِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ " .
محمد محی الدین
موسیٰ بن طلحہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”سبزیوں میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی۔“
حدیث نمبر: 1912
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ السِّنْجَارِيُّ ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ السِّنْجَارِيُّ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ " . مَرْوَانُ السِّنْجَارِيُّ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
موسیٰ بن طلحہ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”سبزیوں میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی۔“ اس روایت کا راوی مروان سنجاری ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 1913
قُرِئَ عَلَى عَلِيِّ بْنِ إِسْحَاقَ الْمَادَرَانِيُّ بِالْبَصْرَةِ وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمُ الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : " إِنَّمَا سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ فِي هَذِهِ الأَرْبَعَةِ : الْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرِ ، وَالزَّبِيبِ ، وَالتَّمْرِ " .
محمد محی الدین
موسیٰ بن طلحہ، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: انہوں نے یہ بات بیان کی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چار چیزوں میں زکوٰۃ کی ادائیگی کو مقرر کیا ہے: گندم، جو، کشمش اور کھجور۔
حدیث نمبر: 1914
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ : عِنْدَنَا كِتَابُ مُعَاذٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ إِنَّمَا أَخَذَ الصَّدَقَةَ مِنَ الْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرِ ، وَالزَّبِيبِ ، وَالتَّمْرِ " .
محمد محی الدین
موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں: ہمارے پاس سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا مکتوب موجود ہے، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات تحریر ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گندم، جو، کشمش اور کھجور میں زکوٰۃ وصول کی ہے۔
حدیث نمبر: 1915
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الأَزْرَقِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّفَّاحِ الْبَاهِلِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثنا ابْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ ، وَالْبَعْلُ وَالسَّيْلُ الْعُشْرُ ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ ، يَكُونُ ذَلِكَ فِي التَّمْرِ وَالْحِنْطَةِ وَالْحُبُوبِ " . فَأَمَّا الْقِثَّاءُ ، وَالْبِطِّيخُ ، وَالرُّمَّانُ ، وَالْقَصَبُ ، وَالْخَضِرُ ، فَعَفْوٌ عَفَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد محی الدین
موسیٰ بن طلحہ، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس زمین کو آسمان، بعل (پانی کے قریب کھجور کا درخت لگانا تاکہ وہ درخت خود ہی زیر زمین پانی سے سیراب ہو جائے) اور بہتے ہوئے پانی (یعنی نہر وغیرہ) کے ذریعے سیراب کیا جائے، اس میں عشر کی ادائیگی لازم قرار دی جائے گی اور جس زمین کو پانی چھڑک کر (یعنی مصنوعی طریقے سے) سیراب کیا جائے، اس میں نصف عشر کی ادائیگی لازم ہو گی۔ کھجور، گندم، دانوں میں زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہو گی، البتہ ککڑی، تربوز، سیب، قصب اور دیگر سبزیوں میں یہ معاف ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف قرار دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 1916
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ ، ثنا أبِي ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ مُعَاذٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ فِي الْخَضْرَاوَاتِ زَكَاةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سبزیوں میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔“
حدیث نمبر: 1917
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، ثنا جَدِّي ، حَدَّثَنِي أَبِي ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، مِثْلَهُ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 1918
حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ الْحَافِظُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ حَمَّادٍ ، ثنا أبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ مُعَاذٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِهَذَا.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 1919
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ تُؤْخَذَ مِنَ الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةً " .
محمد محی الدین
موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ سبزیوں میں سے زکوٰۃ وصول کی جائے۔
حدیث نمبر: 1920
حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ، ثنا أبِي ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمانَ ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ موسیٰ بن طلحہ کے حوالے سے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 1921
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحُنَيْنِيُّ ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، حِينَ بَعَثَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ يُعَلِّمَانِ النَّاسَ أَمْرَ دِينِهِمْ : " لا تَأْخُذُوا الصَّدَقَةَ إِلا مِنْ هَذِهِ الأَرْبَعَةِ : الشَّعِيرِ ، وَالْحِنْطَةِ ، وَالزَّبِيبِ ، وَالتَّمْرِ " .
محمد محی الدین
ابوبردہ، سیدنا موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں حضرات کو یمن بھیجا، تو ان دونوں نے لوگوں کو دینی احکام کی تعلیم دی (اور یہ فرمایا): ”تم لوگ صرف ان چار چیزوں میں سے زکوٰۃ وصول کرنا: جو، گندم، کشمش اور کھجور۔“
حدیث نمبر: 1922
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّسَائِيُّ بُنَانُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا زَكَاةَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْحَرْثِ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسَاقٍ ، فَإِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسَاقٍ فَفِيهِ الزَّكَاةُ ، وَالْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا ، وَلا زَكَاةَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْفِضَّةِ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوَاقٍ ، وَالْوُقِّيَةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کسی بھی کھیت (زرعی پیداوار) میں زکوٰۃ کی ادائیگی لازم نہیں ہوتی، جب تک وہ پانچ وسق تک نہ پہنچ جائے، جب وہ پانچ وسق تک پہنچ جائے گی، تو اس پر زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہو گی اور ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے اور چاندی میں زکوٰۃ اس وقت تک فرض نہیں ہوتی، جب تک وہ پانچ اوقیہ نہ ہو جائے اور ایک اوقیہ چالیس درہم کے برابر ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1923
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، حَدَّثَنَا جَدِّي ، ثنا أبِي ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَمْعَانَ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تُؤْخَذُ الصَّدَقَةُ مِنَ الْحَرْثِ حَتَّى يَبْلُغَ حَصَادُهُ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کھیت (یعنی زرعی پیداوار) میں سے زکوٰۃ وصول نہ کی جائے، جب تک اس کی پیداوار پانچ وسق نہ ہو جائے۔“
حدیث نمبر: 1924
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، ثنا السَّيِّدُ بْنُ عِيسَى ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنْ صَدَقَةِ أَرْقَابِكُمْ وَخَيْلِكُمْ ، وَلَكِنْ هَاتُوا صَدَقَةَ أَوْرَاقِكُمْ ، وَحَرْثِكُمْ ، وَمَاشِيَتِكُمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”میں نے تمہارے (غلاموں، کنیزوں) اور گھوڑوں کی زکوٰۃ معاف کر دی ہے، البتہ تم اپنی چاندی، زرعی پیداوار اور جانوروں کی زکوٰۃ لے کر آؤ۔“
حدیث نمبر: 1925
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ . ح وَثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الآدَمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالا : ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالا : نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ السَّرِيِّ ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالا : نا إِدْرِيسُ الأَوْدِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ زَكَاةٌ ، وَالْوَسْقُ سِتُّونَ مَخْتُومًا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں: ”پانچ وسق سے کم میں زکوٰۃ لازم نہیں ہو گی اور ایک وسق ساٹھ مختوم کے برابر ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1926
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِسْحَاقَ الرَّاشِدِيُّ ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ الْحَارِثِ ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ ، عَنْ إِدْرِيسَ الأَوْدِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ صَدَقَةٌ ، وَالْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”پانچ وسق سے کم میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی اور ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1927
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا الْيَسَعُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : أُتِيَ مُعَاذٌ فِي وَقْصِ الْبَقَرَةِ ، فَقَالَ : " لَمْ يَأْمُرْنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِشَيْءٍ ، قَالَ : وَهُنَّ مَا دُونَ الثَّلاثِينَ " .
محمد محی الدین
طاؤس بیان کرتے ہیں: سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گائے کا بچہ لایا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ان کی تعداد ٣٠ سے کم تھی۔
حدیث نمبر: 1928
حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، ثنا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً جَذَعًا أَوْ جَذَعَةً مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً بَقَرَةً مُسِنَّةً " ، فَقَالُوا : فَالأَوْقَاصُ ؟ قَالَ : مَا أَمَرَنِي فِيهَا بِشَيْءٍ ، وَسَأَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَأَلَهُ عَنِ الأَوْقَاصِ ، فَقَالَ : " لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ " . قَالَ الْمَسْعُودِيُّ : وَالأَوْقَاصُ مَا دُونَ الثَّلاثِينَ وَمَا بَيْنَ الأَرْبَعِينَ إِلَى السِّتِّينَ ، فَإِذَا كَانَتْ سِتِّينَ فَفِيهَا تَبِيعَانِ ، فَإِذَا كَانَتْ سَبْعُونَ فَفِيهَا مُسِنَّةٌ وَتَبِيعٌ ، فَإِذَا كَانَتْ ثَمَانُونَ فَفِيهَا مُسِنَّتَانِ ، فَإِذَا كَانَتْ تِسْعُونَ فَفِيهَا ثَلاثُ تَبَايِعَ ، قَالَ بَقِيَّةُ : قَالَ الْمَسْعُودِيُّ : الأَوْقَاصُ هِيَ بِالسِّينِ أَوْقَاسُ ، فَلا تَجْعَلَهَا بِصَادٍ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا، تو انہیں یہ حکم دیا کہ وہ ہر تیس گائے میں سے ایک تبیع یا ایک تبیعہ، ایک جذع یا ایک جذعہ وصول کریں اور ہر چالیس گائے میں سے ایک مسنہ وصول کریں۔ لوگوں نے دریافت کیا: گائے کے بچوں کا کیا حکم ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں کوئی حکم نہیں دیا، جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کر لوں گا۔“ پھر جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گائے کے بچھڑے کے بارے میں دریافت کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی۔“ مسعودی نامی راوی بیان کرتے ہیں: اوقاس سے مراد یہ ہے جب ان کی تعداد تیس سے کم ہو، جب گائے کی تعداد چالیس سے ساٹھ تک ہو، تو اس میں دو تبیعہ کی ادائیگی لازم ہو گی، جب وہ ستر ہو جائیں گی، تو ایک مسنہ کی ادائیگی اور ایک تبیع کی ادائیگی لازم ہو گی، جب وہ اسی ہو جائیں گی، تو اس میں دو مسنہ کی ادائیگی لازم ہو گی، جب وہ نوے ہو جائیں گی، تو تین تبیع کی ادائیگی لازم ہو گی۔ مسعودی فرماتے ہیں: لفظ اوقاص، ’س‘ کے ساتھ لکھا جاتا ہے، تم اسے ’ص‘ کے ساتھ نہ لکھو۔
حدیث نمبر: 1929
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَرَوِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ ، فَقَالَ : " خُذِ الْحَبَّ مِنَ الْحَبِّ ، وَالشَّاةَ مِنَ الْغَنَمِ ، وَالْبَعِيرَ مِنَ الإِبِلِ ، وَالْبَقَرَةَ مِنَ الْبَقَرِ " .
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا، تو ارشاد فرمایا: ”تم اناج (کی زکوۃ) میں اناج وصول کرنا، بکریوں کی زکوٰۃ میں بکری وصول کرنا، اونٹوں کی زکوٰۃ میں اونٹ وصول کرنا اور گائے کی زکوٰۃ میں گائے وصول کرنا۔“
حدیث نمبر: 1930
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو رَوْقٍ الْهِزَّانِيُّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ ، بِالْبَصْرَةِ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ رَوْحٍ ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ لأَهْلِ الْيَمَنِ : " ائْتُونِي بِخَمْسٍ ، أَوْ لَبِيسٍ آخُذُ مِنْكُمْ فِي الصَّدَقَةِ ، فَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ وَخَيْرٌ لِلْمُهَاجِرِينَ بِالْمَدِينَةِ " ، فَقَالَ عَمْرٌو : " ائْتُونِي بِعَرَضِ ثِيَابٍ " . هَذَا مُرْسَلٌ ، طَاوُسٌ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا.
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اہل یمن سے یہ کہا تھا: ”تم میرے پاس خمیس یا لبیس لے کر آؤ، میں تم سے زکوٰۃ وصول کروں گا، یہ تمہارے لیے آسان بھی ہو گا اور مدینہ منورہ میں رہنے والے مہاجرین کے لیے پسندیدہ زیادہ بہتر رہے گا۔“ عمر نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”تم میرے پاس چوڑے کپڑے لے کر آؤ۔“ یہ روایت مرسل ہے، کیونکہ طاؤس نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔
حدیث نمبر: 1931
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ السَّمَّاكُ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَاجِيَةَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ وَرْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ثنا أبِي ، ثنا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَمْ تَكُنِ الْمَقَائِي فِيمَا جَاءَ بِهِ مُعَاذٌ ، إِنَّمَا أَخَذَ الصَّدَقَةَ مِنَ الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ ، وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ ، وَلَيْسَ فِي الْمَقَائِي شَيْءٌ ، فَقَدْ كَانَتْ تَكُونُ عِنْدَنَا الْمَقْثَأَةُ تُخْرِجُ عَشَرَةَ آلافٍ ، فَلا يَكُونُ فِيهَا شَيْءٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مقاثی ان چیزوں میں نہیں تھے، جنہیں سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ لے کر آئے تھے، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے گندم، جو، کھجوروں اور کشمش میں زکوٰۃ وصول کی تھی، مقاثی میں کوئی چیز وصول نہیں کی تھی، ہمارے پاس مقثات (زرعی زمین) تھی، جس سے دس ہزار کی پیداوار ہوتی تھی، لیکن اس میں کوئی چیز (یعنی زکوٰۃ) لازم نہیں ہوئی۔
حدیث نمبر: 1932
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ عُثْمَانَ جَاءَهُ أَبُو عُلَيَّةَ ، فَقَالُ لَهُ عُثْمَانُ : كَيْفَ أَنْتَ يَا أَبَا ذَرٍّ ؟ قَالَ : بِخَيْرٍ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى سَارِيَةٍ ، فَقَامَ النَّاسُ إِلَيْهِ فَاحْتَوَشُوهُ ، فَكُنْتُ فِيمَنِ احْتَوَشَهُ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا ذَرٍّ ، حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " فِي الإِبِلِ صَدَقَتُهَا ، وَفِي الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا ، وَفِي الْبَقَرِ صَدَقَتُهَا ، وَفِي الْبَزِّ صَدَقَتُهُ " . قَالَهَا بِالزَّايِ.
محمد محی الدین
مالک بن اوس بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی دوران سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: ”اے ابوذر! آپ کا کیا حال ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ٹھیک ہوں۔“ پھر وہ ایک ستون کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے، لوگ بھی اٹھ کر ان کی طرف گئے اور انہیں گھیر لیا، میں بھی انہیں گھیرنے والوں میں شامل تھا، لوگوں نے کہا: ”اے ابوذر! آپ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث سنائیں۔“ تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اونٹوں میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے، بکریوں میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے، گائے میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے اور کتان (ریشم) میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے۔“ راوی کہتے ہیں: انہوں نے یہ لفظ ’ز‘ کے ساتھ ذکر کیا۔
حدیث نمبر: 1933
حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثنا مُوسَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِي الإِبِلِ صَدَقَتُهَا ، وَفِي الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا ، وَفِي الْبَقَرِ صَدَقَتُهَا ، وَفِي الْبُزِّ صَدَقَتُهَا ، وَمَنْ دَفَعَ دَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ أَوْ تِبْرًا أَوْ فِضَّةً لا يَعُدُّهَا لِغَرِيمٍ ، وَلا يُنْفِقُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَهُوَ كَنْزٌ يُكْوَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . كَتَبَهُ مِنَ الأَصْلِ الْعَتِيقِ ، وَفِي الْبُزِّ مُقَيَّدٌ.
محمد محی الدین
مالک بن عوف بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے یہ بات نقل کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اونٹوں میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے، بکریوں میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے، گائے میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے اور بز (ریشم) میں زکوٰۃ لازم ہوتی ہے، جو شخص دینار، درہم، سونے کا ٹکڑا، چاندی اکٹھی کرے گا، جسے اس نے فرض کی ادائیگی کے لیے نہیں رکھا، یا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے نہیں رکھا، تو یہ خزانہ شمار ہو گا، جس کے ذریعے قیامت کے دن اسے داغ لگایا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 1934
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ الرَّقِّيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي الإِبِلِ صَدَقَتُهَا ، وَفِي الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا ، وَفِي الْبَقَرِ صَدَقَتُهَا ، وَفِي الْبُزِّ صَدَقَتُهُ " .
محمد محی الدین
مالک بن اوس، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اونٹوں میں زکوٰۃ ہوتی ہے، بکریوں میں زکوٰۃ ہوتی ہے، گائے میں زکوٰۃ ہوتی ہے اور بھیڑوں میں زکوٰۃ ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 1935
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَبُو الأَزْهَرِ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثنا مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : " بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلاثِينَ بَقَرَةً تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً ، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً ، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ " .
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا، تو انہیں ہدایت کی کہ وہ ہر تیس اونٹ میں سے ایک تبیع یا ایک تبیعہ وصول کریں اور ہر چالیس گائے میں سے ایک مسنہ وصول کریں اور ہر بالغ شخص سے ایک دینار یا اس کے برابر ’معافر‘ وصول کریں۔
حدیث نمبر: 1936
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، وَسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ وَقَالَ فِيهِ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ : حَالِمٍ ، وَقَالَ مَعْمَرٌ : حَالِمَةٍ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس کے ایک لفظ کے بارے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے۔
حدیث نمبر: 1937
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، ثنا أَبُو مُوسَى ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةُ ، ثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ مُعَاذٍ ، قَالَ : " لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً ، وَمِنْ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً ، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ " .
محمد محی الدین
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا، تو انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ ہر تیس گائے میں سے ایک تبیع یا ایک تبیعہ اور ہر چالیس گائے میں سے ایک مسنہ وصول کریں اور ہر بالغ شخص سے ایک دینار یا اس کے برابر ’معافر‘ وصول کریں۔