حدیث نمبر: 1873
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثنا وَكِيعٌ ، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ مِنَ الأَئِمَّةِ طَرَّادِينَ " . زَادَ ابْنُ مَخْلَدٍ : قَالَ قَتَادَةُ : لا أَعْلَمُ الطَّرَّادِينَ ، إِلا الَّذِينَ يُطَوِّلُونَ عَلَى النَّاسِ ، حَتَّى يَطْرُدُونَهُمْ عَنْهُ.
محمد محی الدین
سیدنا عباس جشمی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”بعض امام بھگانے والے ہوتے ہیں۔“ اس روایت کے راوی قتادہ کہتے ہیں: میرے علم کے مطابق یہاں بھگانے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں، جو امامت کے دوران طویل قراءت کرتے ہیں، یہاں تک کہ لوگ انہیں چھوڑ کر چلے جائیں۔
حدیث نمبر: 1874
حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي السَّوْدَاءِ ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الصُّبْحَ فَقَرَأَ بِسِتِّينَ آيَةً ، فَسَمِعَ صَوْتَ صَبِيٍّ فَرَكَعَ ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ آيَتَيْنِ ، ثُمَّ رَكَعَ " .
محمد محی الدین
ابن سابط بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سات آیات تلاوت کیں، پھر آپ نے ایک بچے (کے رونے) کی آواز سنی، تو آپ رکوع میں چلے گئے، پھر اس کے بعد آپ (دوسری رکعت میں) کھڑے ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آیات کی تلاوت کی اور رکوع میں چلے گئے۔
حدیث نمبر: 1875
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا لُوَيْنٌ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ مَعَ أُمِّهِ وَهُوَ فِي الصَّلاةِ ، فَيَقْرَأُ السُّورَةَ الْخَفِيفَةَ أَوِ الْقَصِيرَةَ " .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات اپنی ماں کے ساتھ موجود کسی بچے کے رونے کی آواز سنتے تھے، آپ اس وقت نماز کی حالت میں ہوتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (چھوٹی سی سورت پڑھ کر) رکوع میں چلے جاتے۔
حدیث نمبر: 1876
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ السَّرَّاجُ ، ثنا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَكْشِفْ عَنْ فَخِذِكَ وَلا تَنْظُرْ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ وَلا مَيِّتٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ فرمایا تھا: ”تم اپنے زانوؤں کو کسی کے سامنے بے پردہ نہیں کرنا اور کسی بھی زندہ یا مرحوم شخص کے زانوؤں کی طرف نہیں دیکھنا (کیونکہ زانوؤں، ستر کا حصہ ہیں)۔“
حدیث نمبر: 1877
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، ثنا مِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي يَحْيَى الْكَعْبِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنٌ يُطْرِبُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الأَذَانَ سَهْلٌ سَمْحٌ ، فَإِنْ كَانَ أَذَانُكَ سَمْحًا سَهْلا وَإِلا فَلا تُؤَذِّنْ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک موذن تھا، جو طربیہ انداز میں اذان دیتا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذان آسان اور نرمی کا کام ہے، اگر تم آسانی اور نرمی کے ساتھ اذان دے سکتے ہو، تو ٹھیک ہے، ورنہ اذان نہ دو۔“
حدیث نمبر: 1878
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَيْمَنَ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ تَبِيعٍ ، عَنْ كَعْبٍ ، قَالَ : " مَنْ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ بَعْدَ الْعِشَاءِ فَقَرَأَ فِيهِنَّ وَأَحْسَنَ رُكُوعَهُنَّ وَسُجُودَهُنَّ ، كَانَ أَجْرُهُ كَأَجْرِ مَنْ صَلاهُنَّ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ " .
محمد محی الدین
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جو شخص عشاء کی نماز کے بعد چار رکعت ادا کرے، ان میں قراءت کرے، ان میں اچھی طرح رکوع اور سجدہ کرے، تو اس شخص کو اس نماز کا اسی طرح اجر ملے گا، جس طرح شب قدر میں ان رکعتوں کو ادا کرنے کا اجر ملتا ہے۔
حدیث نمبر: 1879
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَرْوَانَ ، ثنا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَاصِمٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَقْرَأِ الْحَائِضُ وَلا النُّفَسَاءُ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”حیض اور نفاس والی عورتیں قرآن کا کوئی بھی حصہ تلاوت نہ کریں۔“
حدیث نمبر: 1880
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي دَاوُدَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنَّ أَعْمَى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَسْمَعُ النِّدَاءَ وَلَعَلِّي لا أَجِدُ قَائِدًا ، قَالَ : " إِذَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ فَأَجِبْ دَاعِيَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک نابینا شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں اذان کی آواز سنتا ہوں، لیکن بعض اوقات مجھے ساتھ لے کر آنے والا کوئی شخص نہیں ہوتا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم اذان کی آواز سنو، تو اللہ کی طرف دعوت دینے والے شخص کی دعوت قبول کرو (یعنی نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے مسجد میں آؤ)۔“
حدیث نمبر: 1880M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَسَدٍ الْهَرَوِىُّ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ نَصْرٍ الْمُؤَدِّبُ حَدَّثَنَا سَلاَّمُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عُمَرُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- اجْعَلُوا أَئِمَّتَكُمْ خِيَارَكُمْ فَإِنَّهُمْ وَفْدُكُمْ فِيمَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ . هَذَا عِنْدِى هُوَ عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ قَاضِى الْمَدَائِنِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اپنے بہترین لوگوں کو اپنا امام بناؤ، کیونکہ وہ تمہارے اور تمہارے پروردگار کے درمیان نمائندے کی حیثیت رکھتے ہیں۔“