کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب : مسجد کے پڑوس میں (یعنی قریب) رہنے والے شخص کو اس بات کی ترغیب دینا کہ وہ مسجد میں نماز ادا کرے ، البتہ اگر کوئی عذر ہو تو (حکم مختلف ہے) ۔
حدیث نمبر: 1552
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، ثنا أَبُو السُّكَيْنِ الطَّائِيُّ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا جُنَيْدُ بْنُ حَكِيمٍ ، ثنا أَبُو السُّكَيْنِ الطَّائِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِكِّينٍ الشَّقَرِيُّ الْمُؤَذِّنُ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُكَيْرٍ الْغَنَوِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : فَقَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا فِي الصَّلاةِ ، فَقَالَ : " مَا خَلَّفَكُمْ عَنِ الصَّلاةِ ؟ " ، قَالُوا : لِحَاءٌ كَانَ بَيْنَنَا ، فَقَالَ : " لا صَلاةَ لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلا فِي الْمَسْجِدِ " . هَذَا لَفْظُ ابْنِ مَخْلَدٍ ، وَقَالَ أَبُو حَامِدٍ : " لا صَلاةَ لِمَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ ثُمَّ لَمْ يَأْتِ إِلا مِنْ عِلَّةٍ ".
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز (باجماعت) کے دوران کچھ لوگوں کو غیر موجود پایا، تو دریافت کیا: ”وہ لوگ نماز میں کیوں شریک نہیں ہوئے؟“ تو لوگوں نے بتایا: انہیں کچھ کام تھا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”مسجد کے پڑوس میں رہنے والے کی نماز صرف مسجد میں ہوتی ہے۔“ روایت کے یہ الفاظ ابن مخلد کے ہیں، جبکہ ابوحامد نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”جو شخص اذان سنے اور (مسجد میں) نہ آئے، اس کی نماز نہیں ہوتی، البتہ اگر کوئی علت (یعنی عذر) ہو، تو (حکم مختلف ہے)۔“
حدیث نمبر: 1553
وَحَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُذَكِّرُ ، ثنا أَبُو يَحْيَى الْعَطَّارُ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ الْيَمَامِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا صَلاةَ لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلا فِي الْمَسْجِدِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”مسجد کے پڑوس میں رہنے والے کی نماز صرف مسجد میں ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 1554
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، حَدَّثَنِي الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " مَنْ كَانَ جَارَ الْمَسْجِدِ فَسَمِعَ الْمُنَادِيَ يُنَادِي فَلَمْ يُجِبْهُ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلا صَلاةَ لَهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جو شخص مسجد کے پڑوس میں رہتا ہو اور موذن کو اذان دیتے ہوئے سنے اور کوئی عذر کے بغیر (نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد میں) نہ آئے، تو اس کی نماز نہیں ہوتی۔“
حدیث نمبر: 1555
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ، ثنا هُشَيْمٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، ثنا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، ثنا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِبْهُ فَلا صَلاةَ لَهُ إِلا مِنْ عُذْرٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص اذان سن کر اس کا جواب نہ دے (یعنی باجماعت نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں نہ آئے)، اس کی نماز نہیں ہوتی، البتہ اگر کوئی عذر ہو، تو (حکم مختلف ہے)۔“
حدیث نمبر: 1556
حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، وَآخَرُونَ ، قَالُوا : نا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، ثنا قُرَادٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ . قَالَ الشَّيْخُ : رَفَعَهُ هُشَيْمٌ ، وَقُرَادٌ شَيْخٌ مِنَ الْبَصْرِيِّينَ مَجْهُولٌ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، جبکہ بعض راویوں نے اسے مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 1557
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثنا جَرِيرٌ ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ ، عَنْ مَغْرَاءَ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِيَ فَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنِ اتِّبَاعِهِ عُذْرٌ " ، قَالُوا : وَمَا الْعُذْرُ ؟ قَالَ : " خَوْفٌ أَوْ مَرَضٌ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ مِنْهُ الصَّلاةَ الَّتِي صَلَّى " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”جو شخص اذان دینے والے کو سنے اور کوئی عذر اس کی بات ماننے (یعنی باجماعت نماز کے لیے جانے) میں رکاوٹ نہ ہو،“ لوگوں نے دریافت کیا: عذر سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”خوف یا بیماری،“ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”تو اس شخص نے (اپنے گھر میں) جو نماز ادا کی ہے، اللہ اس کی وہ نماز قبول نہیں کرے گا۔“