کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب : سفر کے دوران نماز کا طریقہ ، کسی عذر کے بغیر دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرنا ، کشتی میں نماز ادا کرنے کا طریقہ
حدیث نمبر: 1472
حَدَّثَنَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا ابْنُ دَاوُدَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ مِنْ ثَقِيفٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ قَائِمًا إِلا أَنْ يَخْشَى الْغَرَقَ " . قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : يَعْنِي فِي السَّفِينَةِ ، فِيهِ رَجُلٌ مَجْهُولٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی تھی: ”وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کیا کریں، ماسوائے اس صورت کے کہ انہیں ڈوبنے کا اندیشہ ہو۔“ امام دار قطنی بیان کرتے ہیں: مراد یہ ہے کہ وہ کشتی میں کھڑے ہو کر نماز ادا کیا کریں۔
حدیث نمبر: 1473
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا جَابِرٌ ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عُلْوَانَ الْكَلْبِيُّ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ إِلَى الْحَبَشَةِ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ أُصَلِّي ؟ قَالَ : " صَلِّ فِيهَا قَائِمًا إِلا أَنْ تَخَافَ الْغَرَقَ " . حُسَيْنُ بْنُ عُلْوَانَ مَتْرُوكٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو حبشہ بھیجا، تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم کشتی میں کس طرح نماز ادا کریں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس میں کھڑے ہو کر نماز ادا کرو، البتہ تمہیں ڈوبنے کا اندیشہ ہو (تو بیٹھ کر نماز ادا کرو)۔“ اس روایت کا ایک راوی حسین بن علوان متروک ہے۔
حدیث نمبر: 1474
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ سَهْلٍ الْبَرْبَهَارِيُّ مِنْ أَصْلِهِ ، ثنا بِشْرُ بْنُ فَافَا ، ثنا أَبُو نُعَيْمُ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلاةِ ، قَالَ : " صَلِّ قَائِمًا إِلا أَنْ تَخَافَ الْغَرَقَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کشتی میں نماز کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”وہ کھڑے ہو کر ادا کی جائے گی، البتہ اگر تمہیں ڈوب جانے کا اندیشہ ہو (تو حکم مختلف ہے)۔“
حدیث نمبر: 1475
ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِي حَيَّةَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالا : نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ جَمَعَ بَيْنَ صَلاتَيْنِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَقَدْ أَتَى بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْكَبَائِرِ " . حَنَشٌ هَذَا أَبُو عَلِيٍّ الرَّحَبِيُّ مَتْرُوكٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کسی عذر کے بغیر دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرے گا، وہ کبیرہ گناہ کا مرتکب ہو گا۔“ شیخ فرماتے ہیں: حنش ابوعلی رحبی ہیں اور یہ متروک ہیں۔