کتب حدیثسنن الدارقطنيابوابباب : مقتدی پر سہو کرنا لازم نہیں ہوگا لیکن امام کے سہو (پر سجدہ کرنا) اس پر لازم ہوگا۔
حدیث نمبر: 1413
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ هَارُونَ بْنِ رُسْتُمَ الْسَقْطِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو يَحْيَى الْعَطَّارُ ، ثنا شَبَابَةُ ، ثنا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ أَبِي الْحُسَيْنِ الْمَدِينِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ عَلَى مَنْ خَلْفَ الإِمَامِ سَهْوٌ ، فَإِنْ سَهَا الإِمَامُ فَعَلَيْهِ وَعَلَى مَنْ خَلْفَهُ السَّهْوُ ، وَإِنْ سَهَا مَنْ خَلْفَ الإِمَامِ فَلَيْسَ عَلَيْهِ سَهْوٌ وَالإِمَامُ كَافِيهِ " .
محمد محی الدین
سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کے حوالے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص امام کی اقتداء میں ہو (اس کی کسی اپنی غلطی کی وجہ سے) اس پر سجدہ سہو کرنا لازم نہیں ہو گا، لیکن اگر امام سے کوئی غلطی ہو جائے، تو امام پر بھی سجدہ سہو کرنا لازم ہو گا اور اس کی اقتداء میں نماز ادا کرنے والوں پر بھی لازم ہو گا، لیکن اگر امام کی اقتداء میں نماز ادا کرنے والے سے کوئی غلطی ہوتی ہے، تو اب اس پر سجدہ سہو لازم نہیں ہو گا، بلکہ امام اس کے لیے کافی ہو گا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1413
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3955، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1413، قال ابن الملقن : هذا الحديث إسناده ضعيف فيه خارجة بن مصعب عن أبى الحسين المدائني ، البدر المنير فى تخريج الأحاديث والآثار الواقعة فى الشرح الكبير: 228/4»
حدیث نمبر: 1414
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمَّادٍ الآمُلِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْعَبْسِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا سَهْوَ فِي وَثْبَةِ الصَّلاةِ إِلا قِيَامٌ عَنْ جُلُوسٍ أَوْ جُلُوسٌ عَنْ قِيَامٍ " .
محمد محی الدین
سالم بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”نماز میں کسی بھی غلطی پر سجدہ سہو اسی وقت لازم ہو گا، جب آدمی بیٹھنے کی بجائے کھڑا ہو جائے یا کھڑے ہونے کی بجائے بیٹھ جائے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1414
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1216، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3924، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1414، قال ابن حجر: وفيه أبو بكر العنسي وهو ضعيف وقال البيهقي مجهول التلخيص الحبير فى تخريج أحاديث الرافعي الكبير: 6/2»
حدیث نمبر: 1415
حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْبُهْلُولُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَمَّارُ بْنُ سَلامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الْوَاسِطِيِّ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : ذَاكَرَنِي عُمَرُ السَّهْوَ فِي الصَّلاةِ ، فَأَتَانَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَوَقَفَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ شَكَّ فِي صَلاتِهِ فَلْيُصَلِّ حَتَّى يَكُونَ شَكُّهُ فِي الزِّيَادَةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میرے ساتھ نماز میں سہو ہوجانے کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے، اسی دوران سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے، وہ ہمارے پاس آ کر ٹھہرے، انہوں نے بتایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے، تو وہ اتنی نماز ادا کرے کہ اس کا وہ شک نماز میں اضافے کے بارے میں ہو جائے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1415
تخریج حدیث «أخرجه الضياء المقدسي فى ((الأحاديث المختارة))، 899، 900، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1215، 1217، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 398، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1209، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3875، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1415 ، 1416 ، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1678»
حدیث نمبر: 1416
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ عُمَرَ نَتَذَاكَرُ الصَّلاةَ فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، فَقَالَ : أَلا أُخْبِرُكُمْ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا شَكَكْتَ فِي النُّقْصَانِ فَصَلِّ حَتَّى تَشُكَّ فِي الزِّيَادَةِ " .
محمد محی الدین
عبیداللہ بن عبداللہ (سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ بیان) نقل کرتے ہیں: ایک دفعہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا، ہم نماز کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے، اسی دوران سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تشریف لائے، انہوں نے بتایا: کیا میں آپ کو وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے؟ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب تمہیں نماز کے دوران کسی کمی کے بارے میں شک ہو، تو تم نماز ادا کرتے رہو، یہاں تک کہ وہ شک اضافے کے بارے میں ہو جائے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1416
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه الضياء المقدسي فى ((الأحاديث المختارة))، 899، 900، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1215، 1217، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 398، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1209، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3875، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1415 ، 1416 ، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1678»
«قال ابن حجر: في إسناده إسماعيل بن مسلم المكي وهو ضعيف ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 306)»