کتب حدیثسنن الدارقطنيابوابباب : نماز کے دوران سہو کی صورت میں اور اس کے احکام، اس بارے میں منقول روایات میں اختلاف کسی بھی چیز کے آگے سے گزرنے کی وجہ سے نماز نہیں ٹوٹتی۔
حدیث نمبر: 1378
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاتِي الْعَشِيِّ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ ، قَالَ : فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهَا إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ ، ثُمَّ خَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ : قُصِرَتِ الصَّلاةُ قُصِرَتِ الصَّلاةُ ، وَفِي النَّاسِ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ ، فَقَامَ رَجُلٌ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّيهِ : ذَا الْيَدَيْنِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَسِيتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلاةُ ، فَقَالَ : " لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلاةُ " ، قَالَ : بَلْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَوْمِ ، فَقَالَ : " أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ " ، فَأَوْمَئُوا ، أَيْ نَعَمْ ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَقَامِهِ فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ الْبَاقِيَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مثل سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ . فَقِيلَ لِمُحَمَّدٍ : ثُمَّ سَلَّمَ فِي السَّهْوِ ، قَالَ : لَمْ أَحْفَظْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَلَكِنْ نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " ثُمَّ سَلَّمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر یا شاید عصر کی نماز پڑھائی، راوی بیان کرتے ہیں: آپ نے دو رکعت پڑھانے کے بعد سلام پھیر دیا، پھر آپ مسجد کے اگلے حصے میں موجود لکڑی کے پاس کھڑے ہوئے، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اس پر رکھ دیے، آپ نے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کے اوپر رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے ناراضگی کا اظہار ہو رہا تھا، جلد باز لوگ مسجد سے باہر چلے گئے، وہ یہ کہہ رہے تھے: نماز مختصر ہو گئی ہے، نماز مختصر ہو گئی ہے، حاضرین میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے، لیکن انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرنے کی جرات نہیں ہوئی، ایک شخص کھڑا ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ذوالیدین (دو ہاتھوں والا) کا نام دیا تھا، اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ بھول گئے تھے یا نماز مختصر ہو گئی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہ تو میں بھولا ہوں اور نہ ہی نماز مختصر ہوئی ہے۔“ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! شاید آپ بھول گئے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین کی طرف دیکھا اور دریافت کیا: ”کیا ذوالیدین ٹھیک کہہ رہا ہے؟“ تو لوگوں نے اشارہ کیا: جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس اپنی جگہ تشریف لائے اور آپ نے بقیہ دو رکعت پڑھانے کے بعد پھر سلام پھیرا، پھر آپ نے تکبیر کہتے ہوئے عام سجدوں کی طرح یا اس سے کچھ زیادہ طویل سجدہ کیا، پھر آپ نے سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔ محمد نامی راوی سے دریافت کیا گیا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو کرنے سے پہلے سلام پھیرا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا: مجھے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ الفاظ یاد نہیں ہیں، البتہ مجھے یہ بات بتائی گئی ہے: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے یہ بات نقل کی ہے: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1378
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 482، 714، 715، 1227، 1228، 1229، 6051، 7250، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 573، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 309 ، 310 ، 311 ، 312 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 860، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2249، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1223 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1008، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 394، 399، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1537، 1538، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1214، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1378، 1379، 1394، 1395، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1013، 1014، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 293، 310، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 5046»
حدیث نمبر: 1379
حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ثنا أَيُّوبُ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَكُلُّ مَنْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ ، لَمْ يَقُلْ " فَأَوْمَئُوا " ، إِلا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ.
محمد محی الدین
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: تو لوگوں نے اشارہ کیا، یہ الفاظ صرف حماد بن زید نامی راوی نے نقل کیے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1379
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 482، 714، 715، 1227، 1228، 1229، 6051، 7250، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 573، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 309 ، 310 ، 311 ، 312 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 860، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2249، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1223 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1008، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 394، 399، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1537، 1538، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1214، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1378، 1379، 1394، 1395، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1013، 1014، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 293، 310، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 5046»
حدیث نمبر: 1380
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْطَاكِيُّ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ الْخَوْلانِيُّ ، نا إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى أَبُو عَمْرٍو الْمَعْرُوفُ بِالْخَوْلانِيِّ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ ، عَنْ صَخْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، يَقُولُ : عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالنَّاسِ فَمَرَّ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حِمَارٌ ، فَقَالَ عَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ الْمُسَبِّحُ آنِفًا سُبْحَانَ اللَّهِ ؟ " ، قَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي سَمِعْتُ أَنَّ الْحِمَارَ يَقْطَعُ الصَّلاةَ ، قَالَ : " لا يَقْطَعُ الصَّلاةَ شَيْءٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، آپ کے سامنے سے کچھ گدھے گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کرنے والوں میں عیاش بن ابوربیعہ نے سبحان اللہ کہنا شروع کر دیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، تو ارشاد فرمایا: ”ابھی کون سبحان اللہ کہہ رہا تھا؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے کہا ہے، کیونکہ میں نے یہ بات سن رکھی ہے کہ گدھا آگے سے گزرے، تو نماز ٹوٹ جاتی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی چیز (آگے سے گزرے) نماز کو نہیں توڑتی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1380
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3560، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1380، وقال ابن حجر: فى إسناد كل منهما ضعف ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: 275/1»
حدیث نمبر: 1381
حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ ، نا أَبِي . ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ ، ثنا جَدِّي . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْبُهْلُولِ ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ ، ثنا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، قَالُوا : " لا يَقْطَعُ صَلاةَ الْمُسْلِمِ شَيْءٌ ، وَادْرَأْ مَا اسْتَطَعْتَ " .
محمد محی الدین
سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”مسلمان کی نماز کو کوئی بھی چیز نہیں توڑتی، البتہ جہاں تک ہو سکے، تم اسے روکنے کی کوشش کرو (کہ وہ نماز کے دوران تمہارے آگے سے نہ گزرے)۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1381
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 534، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3561، 3567، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1381، 1384، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 2366، 2368، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 2902، 2903، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 2664، 2665، 2666»
«قال ابن حجر: إسنادها ضعيف ، (فيه إبراهيم بن يزيد الخوزي وهو ضعيف) تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 275)»
حدیث نمبر: 1382
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ ، ثنا مُجَالِدٌ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَقْطَعُ الصَّلاةَ شَيْءٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی چیز نماز کو نہیں توڑتی (یعنی آگے سے گزر کر نماز کو نہیں توڑتی)۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1382
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 509، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 505، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 525 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 816، 817، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2367، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 697، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 954، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1382، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11250»
حدیث نمبر: 1383
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ الصُّغْدِيُّ ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ ، ثنا عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَقْطَعُ الصَّلاةَ شَيْءٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کوئی بھی چیز نماز کو نہیں توڑتی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1383
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1383، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 7688، وقال ابن حجر: فى إسناد كل منهما ضعف ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: 275/1»
حدیث نمبر: 1384
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، وَآخَرُونَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الأَشْيَبُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سَالِمٍ ، وَنَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ يُقَالُ لا يَقْطَعُ صَلاةَ الْمُسْلِمِ شَيْءٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں: یہ بات کہی جاتی ہے: مسلمان کی نماز کو کوئی بھی چیز نہیں توڑتی (یعنی کسی بھی چیز کے آگے سے گزرنے کی وجہ سے نماز نہیں ٹوٹتی)۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1384
درجۂ حدیث محدثین: موقوف
تخریج حدیث «موقوف، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 534، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3561، 3567، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1381، 1384، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 2366»
«قال الدارقطني: والصحيح عن ابن عمر موقوفا ، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (142/13)»
حدیث نمبر: 1385
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ ، ثنا أبِي ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَقْطَعُ صَلاةَ الْمَرْءِ امْرَأَةٌ وَلا كَلْبٌ وَلا حِمَارٌ ، وَادْرَأْ مِنْ بَيْنَ يَدَيْكَ مَا اسْتَطَعْتَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ”آدمی کی نماز کو کتا، عورت، گدھا (آگے سے گزر کر) نہیں توڑتے، البتہ جہاں تک تم سے ہو سکے، انہیں اپنے آگے سے گزرنے سے روکو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1385
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1385 ، وله شاهد من حديث على بن أبى طالب أخرجه الطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 2668»
حدیث نمبر: 1386
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، حَدَّثَنِي جَابِرٌ ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " زَارَ الْعَبَّاسَ فِي بَادِيَةٍ لَهُ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ كُلَيْبَةٌ وَحِمَارٌ لَمْ يُؤَخَّرَا وَلَمْ يُزْجَرَا " .
محمد محی الدین
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لیے ان کے نواحی علاقے میں ان کے پاس آئے، وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی، آپ کے آگے سے چھوٹا کتا اور گدھا گزرے، لیکن انہیں پرے نہیں کیا گیا اور انہیں جھڑکا نہیں گیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1386
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 752، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 831، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 718، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3562، 3563، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1386، 1387، 1388، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1822»
«قال ابن حزم: هذا باطل والعباس بن عبيد الله لم يدرك عمه الفضل ، تحفة التحصيل في المراسيل: (1 / 229) »
حدیث نمبر: 1387
ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا حَجَّاجٌ الأَعْوَرُ ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَبَّاسَ ، مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لیے آئے (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1387
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 752، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 831، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 718، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3562، 3563، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1386، 1387، 1388، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1822»
«قال ابن حزم: هذا باطل والعباس بن عبيد الله لم يدرك عمه الفضل ، تحفة التحصيل في المراسيل: (1 / 229) »
حدیث نمبر: 1388
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْجَمَّالِ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي بَادِيَةٍ لَنَا ، فَصَلَّى بِنَا الْعَصْرَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ كُلَيْبَةٌ وَحِمَارٌ لَنَا ، فَمَا نَهْنَهَهُمَا وَمَا رَدَّهُمَا " .
محمد محی الدین
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اس وقت ہم اپنی رہائش گاہ میں تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی، آپ کے سامنے سے چھوٹا کتا اور گدھا گزرے، جو ہمارے (پالتو) تھے، لیکن ہم نے انہیں روکا نہیں اور انہیں واپس نہیں کیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1388
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 752، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 831، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 718، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3562، 3563، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1386، 1387، 1388، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1822»
«قال ابن حزم: هذا باطل والعباس بن عبيد الله لم يدرك عمه الفضل ، تحفة التحصيل في المراسيل: (1 / 229) »
حدیث نمبر: 1389
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الأَبْرَشُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الصَّلاةِ فَأَتَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، فَقَالَ : أَلا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي النُّقْصَانِ فَلْيُصَلِّ حَتَّى يَكُونَ الشَّكُّ فِي الزِّيَادَةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز کے کسی مسئلے پر گفتگو کر رہا تھا، اسی دوران سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی ہمارے پاس تشریف لائے، انہوں نے فرمایا: کیا میں آپ لوگوں کو وہ حدیث سناؤں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کسی شخص کو نماز میں کسی کمی کے بارے میں شک ہو، تو وہ اتنی نماز ادا کرے کہ وہ شک اضافے کے بارے میں ہو جائے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1389
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 899، 900، 901، 902، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1215، 1217، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 398، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1209، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3875، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1389، 1390، 1391، 1392، 1393، 1415، 1416، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1678»
«قال ابن حجر: في إسناده إسماعيل بن مسلم المكي وهو ضعيف ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 306)»
حدیث نمبر: 1390
حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَلا يَدْرِي أَزَادَ أَمْ نَقَصَ ، فَإِنْ كَانَ شَكَّ فِي الْوَاحِدَةِ وَالثِّنْتَيْنِ فَلْيَجْعَلْهُمَا وَاحِدَةً ، وَإِنْ كَانَ شَكَّ فِي الثَّلاثِ وَالثِّنْتَيْنِ فَلْيَجْعَلْهُمَا ثِنْتَيْنِ ، وَإِنْ كَانَ شَكَّ فِي الثَّلاثِ وَالأَرْبَعِ فَلْيَجْعَلْهَا ثَلاثًا ، حَتَّى يَكُونَ الْوَهْمُ فِي الزِّيَادَةِ " . وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ : قَالَ لِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : أَسْنَدَ لَكَ مَكْحُولٌ هَذَا الْحَدِيثَ ، قُلْتُ : مَا سَأَلْتُهُ ، قَالَ : فَإِنَّهُ ذَكَرَهُ عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ .
محمد محی الدین
مکحول بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو اور اسے یہ اندازہ نہ ہو سکے کہ اس نے زیادہ (رکعات) پڑھ لی ہیں یا کم پڑھی ہیں، تو اگر شک ایک رکعت یا دو رکعت کے بارے میں ہو، تو اسے ایک سمجھے، اگر دو اور تین ہونے کے بارے میں ہو، تو اسے دو سمجھے، اگر تین اور چار ہونے کے بارے میں ہو، تو اسے تین سمجھے، یہاں تک کہ اسے وہم زیادہ ہو جانے کے بارے میں ہو۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے سیدنا عبدالرحمن بن عوف سے منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1390
تخریج حدیث «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 899، 900، 901، 902، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1215، 1217، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 398، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1209، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3875، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1389، 1390، 1391، 1392، 1393، 1415، 1416، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1678»
«: (1 / 306)»
حدیث نمبر: 1391
حَدَّثَنَا أَبُو ذَرٍّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَرِيرِ بْنِ جَبَلَةَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ الأَيْلِيُّ ، ثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جس شخص کی نماز کی رکعت تین یا چار ہونے کے بارے میں شک ہو، وہ نماز کو مکمل کر لے (یعنی ایک مزید رکعت ادا کر لے) کیونکہ اس میں اضافہ ہو جانا اس میں کمی رہ جانے سے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1391
تخریج حدیث «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 899، 900، 901، 902، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1215، 1217، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 398، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1209، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3875، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1389، 1390، 1391، 1392، 1393، 1415، 1416، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1678»
«: (1 / 306)»
حدیث نمبر: 1392
وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ أَبُو بَكْرٍ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ ، ثنا عَمَّارُ بْنُ مَطَرٍ الْعَنْبَرِيُّ يَنْزِلُ الرَّهَا ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَهَى فِي ثَلاثَةٍ أَوْ أَرْبَعَةٍ فَلْيُتِمَّ ، فَإِنَّ الزِّيَادَةَ خَيْرٌ مِنَ النُّقْصَانِ " .
محمد محی الدین
یعقوب بن ابراہیم البزاز، ابوبکر نے ہمیں بیان کیا، انہوں نے جعفر بن محمد بن فضیل سے روایت کی، انہوں نے عمار بن مطر العنبری (جو رحا میں آتے تھے) سے روایت کی، انہوں نے عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان سے روایت کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے مکحول سے، انہوں نے کریب (ابن عباس کے غلام) سے، انہوں نے ابن عباس سے، انہوں نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص نماز میں تین یا چار (رکعتوں) پر غفلت کر جائے، تو وہ نماز کو پورا کر لے، کیونکہ زیادہ کرنا کم کرنے سے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1392
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 899، 900، 901، 902، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1215، 1217، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 398، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1209، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3875، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1389، 1390، 1391، 1392، 1393، 1415، 1416، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1678»
«قال الذھبي : فيه عمار بن مطر الرهاوي وقد تركوه ، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (7 / 312) »
حدیث نمبر: 1393
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الرَّهَاوِيُّ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، ثنا عَمَّارُ بْنُ مَطَرٍ ، ثنا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَهَى أَحَدُكُمْ فِي الثِّنْتَيْنِ أَوِ الْوَاحِدَةِ فَلْيَجْعَلْهَا وَاحِدَةً ، وَإِذَا شَكَّ فِي الثِّنْتَيْنِ أَوِ الثَّلاثِ فَلْيَجْعَلْهَا اثْنَتَيْنِ ، وَإِذَا شَكَّ فِي الثَّلاثِ أَوِ الأَرْبَعِ فَلْيَجْعَلْهَا ثَلاثًا ، ثُمَّ لِيُتِمَّ مَا بَقِيَ حَتَّى يَكُونَ الْوَهْمُ فِي الزِّيَادَةِ ، وَلا يَكُونَ فِي النُّقْصَانِ ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کسی شخص کو دو یا ایک رکعت کے بارے میں غلطی لگ جائے، تو وہ اسے ایک سمجھے اور جب اسے دو یا تین کے بارے میں شک ہو، تو وہ انہیں دو سمجھے اور جب اسے تین یا چار کے بارے میں شک ہو، تو وہ انہیں تین سمجھے اور پھر باقی رہ جانے والی نماز کو مکمل کر لے، یہاں تک کہ اسے وہم زیادہ ہو جانے کے بارے میں ہو، کمی کے بارے میں نہ ہو، اس کے بعد جب وہ بیٹھا ہوا ہو (یعنی تشہد پڑھ رہا ہو) اس وقت دو سجدے کرے (یعنی سجدہ سہو کرے)۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1393
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 899، 900، 901، 902، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1215، 1217، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 398، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1209، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3875، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1389، 1390، 1391، 1392، 1393، 1415، 1416، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1678»
«قال الذھبی: فيه عمار بن مطر الرهاوي وقد تركوه ، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (7 / 312)»
حدیث نمبر: 1394
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ " أَنَّهُ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ يَوْمَ جَاءَهُ ذُو الْيَدَيْنِ بَعْدَ السَّلامِ " . لَفْظُهُمَا وَاحِدٌ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں: جس دن سیدنا ذوالیدین آپ کے پاس آئے تھے (یعنی جس دن انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں سہو ہو جانے کے بارے میں بتایا) اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کیے تھے۔ ان دونوں روایات کا لفظ ایک ہی ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1394
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 482، 714، 715، 1227، 1228، 1229، 6051، 7250، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 573، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 309 ، 310 ، 311 ، 312 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 860، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2249، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1223 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1008، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 394، 399، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1537، 1538، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1214، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1378، 1379، 1394، 1395، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1013، 1014، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 293، 310، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 5046»
حدیث نمبر: 1395
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالا : نا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، ثنا قَتَادَةُ بْنُ دِعَامَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذِي الْيَدَيْنِ بَعْدَ السَّلامِ " . وَاللَّفْظُ لأَحْمَدَ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ذوالیدین (کے توجہ دلانے والے دن) سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کیا تھا۔ روایت کے یہ الفاظ احمد بن عبدالرحمن کے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1395
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 482، 714، 715، 1227، 1228، 1229، 6051، 7250، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 573، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 309 ، 310 ، 311 ، 312 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 860، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2249، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1223 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1008، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 394، 399، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1537، 1538، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1214، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1378، 1379، 1394، 1395، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1013، 1014، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 293، 310، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 5046»
حدیث نمبر: 1396
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ كَمْ صَلَّى ثَلاثًا أَوْ أَرْبَعًا فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً ثُمَّ يَسْجُدُ بَعْدَ ذَلِكَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ وَهُوَ جَالِسٌ ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعَتَا لَهُ صَلاتَهُ ، وَإِنْ كَانَتْ أَرْبَعًا أَرْغَمَتَا أَنْفَ الشَّيْطَانِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کسی شخص کو اندازہ نہ ہو سکے کہ اس نے کتنی رکعت ادا کی ہیں، تین یا چار، تو وہ مزید ایک رکعت پڑھ لے اور پھر اس کے بعد سجدہ سہو کے دو سجدے کرے، جب وہ بیٹھا ہوا ہو (یعنی تشہد پڑھ رہا ہو)، اگر وہ پانچ رکعت ادا کر لیتا ہے، تو اس میں سے جفت تعداد (یعنی چار رکعت) اس کی نماز ہو جائے گی اور اگر وہ چار رکعت ادا کر لیتا ہے، تو یہ دونوں شیطان کو رسوا کر دیں گے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1396
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 571، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 315 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 29، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2663، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 463، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1237 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1024، 1026، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 396، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1536، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 514، 1204، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1396، 1397، 1398، 1399، 1400، 1405، 1406، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11241»
حدیث نمبر: 1397
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالا : حَدَّثَنَا الْمَاجِشُونُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فِي الثَّلاثِ وَالأَرْبَعِ فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً حَتَّى يَكُونَ الشَّكُّ فِي الزِّيَادَةِ ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعَتَا لَهُ صَلاتَهُ ، وَإِنْ كَانَ أَتَمَّهَا فَهُمَا تُرْغِمَانِ أَنْفَ الشَّيْطَانِ " . زَادَ هَذَا فِي حَدِيثِهِ : " قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ " ، وَتَابَعَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ مِنْ رِوَايَةِ مُوسَى بْنِ دَاوُدَ عَنْهُ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کسی شخص کو نماز پڑھنے کے دوران شک ہو جائے کہ اس نے تین رکعت ادا کی ہیں یا چار رکعت ادا کی ہیں، تو ایک مزید رکعت ادا کرے، یہاں تک کہ اسے وہ شک زیادہ ہو جانے کے بارے میں ہو، پھر اس کے بعد سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کر لے، اگر اس نے پانچ رکعت ادا کی ہوں گی، تو اس میں سے چار جفت تعداد اس کی نماز ہو جائے گی اور اگر اس نے مکمل نماز ادا کی ہو گی، تو یہ دونوں شیطان کی رسوائی کا باعث ہوں گی۔“ اس روایت میں راوی نے ’سلام سے پہلے‘ کے الفاظ نقل کیے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1397
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 571، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 315 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 29، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2663، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 463، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1237 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1024، 1026، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 396، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1536، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 514، 1204، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1396، 1397، 1398، 1399، 1400، 1405، 1406، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11241»
حدیث نمبر: 1398
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْجَرَائِيُّ ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ثَلاثًا أَمْ أَرْبَعًا ، فَلْيَطْرَحِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا كَانَتَا شَفْعًا لِصَلاتِهِ ، وَإِنْ كَانَ صَلَّى تَمَامَ الأَرْبَعِ كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کسی شخص کو نماز کے دوران شک ہو جائے اور اسے اندازہ نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعت ادا کی ہیں، تین یا چار، تو وہ شک کو ایک طرف رکھ دے اور جس پر یقین ہو، اس پر بنیاد رکھے، پھر سلام پھیرنے سے پہلے دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے، اگر اس نے پانچ رکعت ادا کی ہوں گی، تو اس میں سے جفت تعداد اس کی نماز ہو جائے گی، اور اگر اس نے چار رکعت ادا کی ہوں گی، تو یہ دونوں (سجدے) شیطان کے لیے رسوائی کا باعث ہوں گے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1398
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 571، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 315 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 29، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2663، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 463، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1237 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1024، 1026، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 396، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1536، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 514، 1204، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1396، 1397، 1398، 1399، 1400، 1405، 1406، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11241»
حدیث نمبر: 1399
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، ثنا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَلْيُلْقِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ ، فَإِنِ اسْتَيْقَنَ التَّمَامَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، فَإِنْ كَانَتْ صَلاتُهُ تَامَّةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ نَافِلَةً وَالسَّجْدَتَانِ ، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً كَانَتِ الرَّكْعَةُ تَمَامًا لِصَلاتِهِ وَالسَّجْدَتَانِ تُرْغِمَانِ أَنْفَ الشَّيْطَانِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے، تو وہ شک کو ایک طرف رکھے اور یقین پر بنیاد رکھے اور جب وہ یقینی طور پر مکمل نماز ادا کرے (تو آخر میں) دو مرتبہ سجدہ سہو کرے، اگر اس کی نماز مکمل ہو گی، تو ایک رکعت اور دو سجدے اس کے لیے نفل کی حیثیت اختیار کر جائیں گے اور اگر اس کی نماز پہلے نامکمل تھی، تو اس ایک رکعت کے ذریعے اس کی نماز مکمل ہو جائے گی اور سہو کے دونوں سجدے شیطان کی ناک کو خاک آلود کر دیں گے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1399
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 571، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 315 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 29، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2663، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 463، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1237 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1024، 1026، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 396، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1536، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 514، 1204، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1396، 1397، 1398، 1399، 1400، 1405، 1406، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11241»
حدیث نمبر: 1400
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ ابْنِ أَخِي أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى أَرْبَعًا أَوْ ثَلاثًا ، فَلْيَطْرَحِ الشَّكَّ وَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ ، ثُمَّ لِيَقُمْ فَيُصَلِّي رَكْعَةً ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ ، فَإِنْ كَانَتْ صَلاتُهُ أَرْبَعًا وَقَدْ زَادَ رَكْعَةً كَانَتْ هَاتَانِ السَّجْدَتَانِ تُشْفِعَانِ الْخَامِسَةَ ، وَإِنْ كَانَتْ صَلاتُهُ ثَلاثًا كَانَتِ الرَّابِعَةُ تَمَامَهَا وَالسَّجْدَتَانِ تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے اور اسے یہ اندازہ نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعت ادا کی ہیں: چار یا تین؟ تو وہ شک کو ایک طرف رکھے اور یقین پر بنیاد رکھے، پھر اٹھ کر قرات کرے اور ایک رکعت ادا کرے، پھر جب وہ بیٹھا ہوا ہو (یعنی تشہد پڑھ رہا ہو)، تو سلام پھیرنے سے پہلے دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے، اگر اس نے پہلے چار رکعت ادا کی تھی، تو اب اس کی ایک رکعت زائد ہو جائے گی اور یہ دونوں سجدے اسے جفت کر دیں گے، جو پانچویں رکعت تھی اور اگر اس نے پہلے تین رکعت ادا کی تھیں، تو چوتھی رکعت اسے مکمل کر دے گی اور سہو کے دونوں سجدے شیطان کی ناک کو خاک آلود کر دیں گے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1400
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 571، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 315 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 29، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2663، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 463، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1237 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1024، 1026، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 396، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1536، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 514، 1204، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1396، 1397، 1398، 1399، 1400، 1405، 1406، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11241»
حدیث نمبر: 1401
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يُونُسَ بْنِ يَاسِينَ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَإِنِ اسْتَيْقَنَ أَنَّهُ قَدْ صَلَّى ثَلاثًا فَلْيُصَلِّ وَاحِدَةً بِرَكْعَتِهَا وَسَجْدَتَيْهَا ، ثُمَّ لِيَتَشَهَّدْ فَإِذَا فَرَغَ فَلَمْ يَبْقَ إِلا أَنْ يُسَلِّمَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ يُسَلِّمُ ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى ثَلاثًا وَكَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي صَلَّى رَابِعَةً كَانَتِ السَّجْدَتَانِ تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ ، وَإِنْ كَانَ صَلَّى أَرْبَعًا وَكَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي صَلَّى خَامِسَةً شَفَعَهَا بِسَجْدَتَيْنِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب کسی شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے، اگر اسے یہ یقین ہو کہ وہ تین رکعت ادا کر چکا ہے، تو وہ مزید ایک رکعت ادا کرے اور دو سجدے کرے، پھر اس کے بعد تشہد میں بیٹھے اور پھر جب اس سے فارغ ہو جائے اور کچھ پڑھنے کے لیے باقی نہ رہ جائے، صرف سلام پھیرنا ہو، اس وقت وہ دو سجدے سہو کر لے، پھر وہ سلام پھیر دے، اگر اس نے تین رکعت ادا کی تھی، تو اب جو رکعت ادا کی ہے، وہ چوتھی رکعت ہو جائے گی اور سجدہ سہو کے دونوں سجدے شیطان کی ناک کو خاک آلود کر دیں گے اور اگر اس نے پہلے چار رکعت ادا کی تھی، تو اب جو اس نے ادا کی ہے، اس کے ساتھ یہ پانچویں ہو جائے گی اور یہ دونوں سجدے اس پانچویں رکعت کو جفت کر دیں گے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1401
تخریج حدیث «أخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2668، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 587، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1401، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 5285»
حدیث نمبر: 1402
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي ذُؤَيْبُ بْنُ عِمَامَةَ ، ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ عَمْرٍو ، وَكَانَ مِنَ النُّقَبَاءِ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ التَّسْلِيمِ " .
محمد محی الدین
عبدالمہیمن اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سیدنا منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: یہ صحابی بنو ساعدہ کے نقباء میں سے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے سے پہلے دو مرتبہ سجدہ سہو کیا تھا، ایک قول کے مطابق سیدنا منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صرف یہی ایک روایت منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1402
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1402، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 1403
حَدَّثَنَا أَبُو شَيْبَةَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ بَكْرٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ أَزَادَ أَمْ نَقَصَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ يُسَلِّمُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”جب کوئی شخص نماز ادا کر رہا ہو اور اسے اندازہ نہ ہو سکے، اس نے زیادہ رکعت ادا کر لی ہے یا کم ادا کی ہیں؟ تو وہ دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے، جب وہ بیٹھا ہوا ہو (یعنی تشہد کے دوران ایسا کرے)، پھر اس کے بعد وہ سلام پھیر دے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1403
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 608، 1222، 1231، 1232، 3285، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 389، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 223 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 392، 1020، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 16، 1662، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 669 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 516، 1030، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 397، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1240، 1535، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1216، 1217، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1403، 1404، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7406، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 977، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 5958»
«قال ابن حجر: إسناده قوي ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (3 / 124)»