حدیث نمبر: 1375
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةً مَكْتُوبَةً ، فَضَمَّ يَدَهُ فِي الصَّلاةِ فَلَمَّا صَلَّى قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدَثَ فِي الصَّلاةِ شَيْءٌ ؟ قَالَ : " لا ، إِلا أَنَّ الشَّيْطَانَ أَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيَّ فَخَنَقَتْهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ لِسَانِهِ عَلَى يَدَيْ ، وَأَيْمُ اللَّهِ لَوْلا مَا سَبَقَنِي إِلَيْهِ أَخِي سُلَيْمَانُ لارْتَبَطَ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى يَطُوفَ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایک فرض نماز ادا کی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران اپنے ہاتھوں کو ملا لیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے نماز کے دوران ایک نیا کام کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں، شیطان یہ چاہتا تھا کہ وہ میرے آگے سے گزرے، تو میں نے اسے گردن سے پکڑ لیا، یہاں تک کہ میں نے اس کی زبان کی ٹھنڈک اپنے ہاتھوں پر محسوس کی، اللہ کی قسم! اگر مجھ سے پہلے میرے بھائی سلیمان علیہ السلام یہ دعا نہ کر چکے ہوتے، تو میں اس شیطان کو اس مسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیتا اور مدینہ منورہ کے بچے اس کے گرد گھومتے (اور اس کا مذاق اڑاتے)۔“
حدیث نمبر: 1376
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، ثنا شَبَابَةُ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى صَلاةً ، فَقَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ عَرَضَ لِي يُفْسِدُ عَلَيَّ الصَّلاةَ ، فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ فَذَعَتُّهُ ، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أُوثِقَهُ إِلَى سَارِيَةٍ حَتَّى تُصْبِحُوا وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ أَجْمَعُونَ أَوْ كُلُّكُمْ ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ سُلَيْمَانَ : رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لا يَنْبَغِي لأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي سورة ص آية 35 ، فَرَدَّهُ اللَّهُ خَائِبًا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ آپ نے نماز ادا کی (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) آپ نے ارشاد فرمایا: ”شیطان میرے سامنے آیا تھا تاکہ میری نماز خراب کرے، تو اللہ نے مجھے اس پر قابودے دیا، میں نے اسے پکڑ لیا۔ میں نے یہ ارادہ کیا کہ اسے ایک ستون کے ساتھ باندھ دوں، تاکہ صبح تم لوگ اسے دیکھ لو۔“ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) پھر مجھے سیدنا سلیمان علیہ السلام کی یہ دعا یاد آگئی: ”اے میرے پروردگار! مجھے ایسی بادشاہی عطا کر جو میرے بعد کسی اور کو نہ ملے۔“ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) تو اللہ نے اس شیطان کو رسوا کر کے واپس کر دیا۔
حدیث نمبر: 1377
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ شَاذَانُ ، ثنا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ . ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْهَرَوِيُّ ، ثنا الْمُقْرِئُ ، قَالا : نا أَبُو حَنِيفَةَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوُضُوءُ مِفْتَاحُ الصَّلاةِ ، وَالتَّكْبِيرُ تَحْرِيمُهَا ، وَالتَّسْلِيمُ تَحْلِيلُهَا ، وَفِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ فَسَلِّمْ " . قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ : يَعْنِي التَّشَهُّدَ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”وضو نماز کی کنجی ہے، تکبیر کہہ کر اس کا آغاز ہوتا ہے اور سلام پھیر کر یہ ختم ہوتی ہے، ہر دو رکعت کے بعد تم سلام پھیر دیا کرو۔“ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سے مراد تشہد پڑھنا ہے (یعنی ہر دو رکعت کے بعد تم تشہد پڑھا کرو)۔