کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب : امام جب جنابت یا بےوضو حالت میں ہو، اس وقت اس کا نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 1361
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا : نا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي مَذْعُورٍ ، ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى الصَّلاةِ فَلَمَّا كَبَّرَ انْصَرَفَ ، وَأَوْمَأَ إِلَيْهِمْ : أَيْ كَمَا أَنْتُمْ ، ثُمَّ خَرَجَ ثُمَّ جَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَصَلَّى بِهِمْ فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا فَنَسِيتُ أَنْ أَغْتَسِلَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لائے، جب آپ نے تکبیر کہی، تو پھر آپ وہاں سے واپس مڑ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اشارہ کیا کہ تم جس حالت میں ہو، ویسے ہی رہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، جب آپ تشریف لائے، تو آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا: ”میں جنابت کی حالت میں تھا اور مجھے غسل کرنا یاد نہیں رہا۔“
حدیث نمبر: 1362
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ بِمِصْرَ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ بِشْرٍ ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، ثنا أبِي ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاتِهِ فَكَبَّرَ وَكَبَّرْنَا مَعَهُ ، ثُمَّ أَشَارَ إِلَى الْقَوْمِ كَمَا أَنْتُمْ ، فَلَمْ نزل قِيَامًا حَتَّى أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ اغْتَسَلَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً " . خَالَفَهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ.
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا آغاز کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ہم نے بھی تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین کو اشارہ کیا کہ تم جس حالت میں ہو، ایسے ہی رہنا، تو ہم قیام کی حالت میں رہے، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کر کے آئے تھے، آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ عبدالوہاب نامی راوی نے اس کے برعکس روایت نقل کی ہے۔
حدیث نمبر: 1363
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، ثنا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ فِي صَلاتِهِ فَكَبَّرَ وَكَبَّرَ مَنْ خَلْفَهُ ، فَانْصَرَفَ فَأَشَارَ إِلَى أَصْحَابِهِ أَيْ كَمَا أَنْتُمْ ، فَلَمْ يَزَالُوا قِيَامًا حَتَّى جَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ " . قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ : وَبِهِ نَأْخُذُ.
محمد محی الدین
سیدنا بکر بن عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا آغاز کیا، آپ نے تکبیر کہی، آپ کے پیچھے موجود لوگوں نے بھی تکبیر کہی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو توڑ دیا اور اپنے اصحاب کو اشارہ کیا کہ تم لوگ جس حالت میں ہو، ویسے ہی رہنا، تو وہ لوگ قیام کی حالت میں رہے، یہاں تک کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے، تو آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ عبدالوہاب نامی راوی بیان کرتے ہیں: ہم بھی اس کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1364
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الأَزْدِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ وَابِصَةَ " أَنَّهُ صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ الصَّلاةَ " .
محمد محی الدین
سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے صف کے پیچھے اکیلے کھڑے ہو کر نماز ادا کی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز دوبارہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 1365
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا وَكِيعٌ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدٍ ، عَنْ زِيَادٍ ، عَنْ وَابِصَةَ " أَنَّ رَجُلا صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ " .
محمد محی الدین
سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے صف کے پیچھے اکیلے کھڑے ہو کر نماز ادا کی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز دوبارہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 1366
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ أَبُو مُحَمَّدٍ ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحِمْصِيُّ ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ أَبُو يَحْمَدَ الْكَلاعِيُّ ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ جُوَيْبِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْمٍ وَلَيْسَ هُوَ عَلَى وُضُوءٍ ، فَتَمَّتْ لِلْقَوْمِ ، وَأَعَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ اس وقت وضو کی حالت میں نہیں تھے، لوگوں کی نماز مکمل ہو گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نماز کو دہرایا۔
حدیث نمبر: 1367
حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ دَاوُدَ الْخَفَّافُ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ ، ثنا بَقِيَّةُ ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِهَذَا ، وَقَالَ : إِذَا صَلَّى الإِمَامُ بِالْقَوْمِ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ أَجْزَأَتْ صَلاةُ الْقَوْمِ وَيُعِيدُ هُوَ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں آپ کے یہ الفاظ ہیں: ”جب امام لوگوں کو نماز پڑھائے، وہ اس وقت بھولے سے بے وضو حالت میں ہو، تو لوگوں کی نماز درست ہو گی اور امام اس نماز کو دوبارہ ادا کرے گا۔“
حدیث نمبر: 1368
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْبَزَّازُ يُعْرَفُ بِابْنِ الْمُطَبَّقِيِّ ، ثنا جَحْدَرُ بْنُ الْحَارِثِ ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ جُوَيْبِرٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا إِمَامٍ سَهَى فَصَلَّى بِالْقَوْمِ وَهُوَ جُنُبٌ فَقَدْ مَضَتْ صَلاتُهُمْ ، ثُمَّ لِيَغْتَسِلْ هُوَ ثُمَّ لِيُعِدْ صَلاتَهُ ، وَإِنْ صَلَّى بِغَيْرِ وُضُوءٍ فَمِثْلُ ذَلِكَ " . كَذَا قَالَ عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ.
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو امام بھول کر لوگوں کو جنابت کی حالت میں نماز پڑھا دے، تو ان لوگوں کی نماز درست ہو گی، پھر اس امام کو چاہیے کہ وہ غسل کر کے اپنی نماز کو دہرائے، اسی طرح اگر وہ (بھول کر) وضو کے بغیر نماز پڑھائے، تو بھی یہی حکم ہو گا۔“ عیسیٰ بن ابراہیم نامی راوی نے یہی الفاظ نقل کیے ہیں۔
حدیث نمبر: 1369
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَطَاءٍ الْجَلابُ ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ أَبِي جَابِرٍ الْبَيَاضِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى بِالنَّاسِ وَهُوَ جُنُبٌ فَأَعَادَ وَأَعَادُوا " . هَذَا مُرْسَلٌ ، وَأَبُو جَابِرٍ الْبَيَاضِيُّ ، مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنابت کی حالت میں (بھول کر) لوگوں کو نماز پڑھا دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی نماز کو دہرایا اور لوگوں نے بھی اپنی نماز کو دہرایا۔ یہ روایت مرسل ہے اور ابوجابر نامی راوی متروک الحدیث ہے۔
حدیث نمبر: 1370
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثنا أَبُو حَفْصٍ الأَبَّارُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، " أَنَّهُ صَلَّى بِالْقَوْمِ وَهُوَ جُنُبٌ فَأَعَادَ ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَأَعَادُوا " . عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ هُوَ أَبُو خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ . وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ رَمَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ بِالْكَذِبِ.
محمد محی الدین
عاصم بن ضمرہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ انہوں نے (بھولے سے) جنابت کی حالت میں لوگوں کو نماز پڑھا دی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دوبارہ نماز ادا کی اور لوگوں کو بھی یہ ہدایت کی کہ وہ نماز کو دہرائیں۔ اس روایت کا راوی عمرو بن خالد، یہ شخص ابوخالد واسطی ہے (جس نے امام زید کے حوالے سے مسند امام زید نقل کی ہے)، یہ شخص متروک الحدیث ہے، امام احمد بن حنبل نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 1371
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنِ الشَّرِيدِ الثَّقَفِيِّ أَنَّ عُمَرَ صَلَّى بِالنَّاسِ وَهُوَ جُنُبٌ ، فَأَعَادَ وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ أَنْ يُعِيدُوا " .
محمد محی الدین
شرید ثقفی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھا دی، وہ جنابت کی حالت میں تھے، انہوں نے اس نماز کو دہرایا، لیکن انہوں نے لوگوں کو وہ نماز دہرانے کا حکم نہیں دیا۔
حدیث نمبر: 1372
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، ثنا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ " صَلَّى بِالنَّاسِ وَهُوَ جُنُبٌ فَلَمَّا أَصْبَحَ نَظَرَ فِي ثَوْبِهِ احْتِلامًا ، فَقَالَ : " كَبِرْتُ وَاللَّهِ أَلا أَرَانِي أَجْنُبُ ثُمَّ لا أَعْلَمُ " ، ثُمَّ أَعَادَ وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ أَنْ يُعِيدُوا . قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : سَأَلْتُ سُفْيَانَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُهُ مِنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ ، وَلا أَجِيءُ بِهِ كَمَا أُرِيدُ ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : وَهُوَ هَذَا الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ الْجُنُبُ يُعِيدُ وَلا يُعِيدُونَ ، مَا أَعْلَمُ فِيهِ اخْتِلافًا ، وَقَالَ أَبُو عُبَيْدٍ : قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ ، وَلا أَحْفَظُهُ . وَلَمْ يَزِدْ عَلَى هَذَا.
محمد محی الدین
محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھا دی، وہ اس وقت جنابت کی حالت میں تھے، بعد میں جب انہوں نے اپنے کپڑے پر احتلام کا نشان دیکھا، تو بولے: میں بوڑھا ہو گیا ہوں، اللہ کی قسم! میرا خیال ہے مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، لیکن مجھے اس کا پتا نہیں چل سکا، پھر حضرت عثمان نے نماز کو دہرایا اور البتہ انہوں نے لوگوں کو وہ نماز دوبارہ ادا کرنے کا حکم نہیں دیا۔ عبدالرحمن نامی راوی بیان کرتے ہیں: اس بات پر اتفاق ہے کہ جنابت والا شخص اس نماز کو دہرائے گا، البتہ لوگ اس نماز کو دوبارہ ادا نہیں کریں گے، میرے علم کے مطابق اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1373
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ . ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالا : ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ " فِي رَجُلٍ صَلَّى بِقَوْمٍ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ ، قَالَ : يُعِيدُ وَلا يُعِيدُونَ " .
محمد محی الدین
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا ایسے شخص کے بارے میں فرمان نقل کرتے ہیں جو لوگوں کو بے وضو حالت میں نماز پڑھا دیتا ہے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: وہ شخص اس نماز کو دوبارہ ادا کرے، البتہ لوگ اس نماز کو دوبارہ ادا نہیں کریں گے۔
حدیث نمبر: 1374
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ ، ثنا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، صَلَّى بِأَصْحَابِهِ ، ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّهُ مَسَّ ذَكَرَهُ ، فَتَوَضَّأَ وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ أَنْ يُعِيدُوا " . قَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ : قُلْتُ لِسُفْيَانَ : " عَلِمْتُ أَنَّ أَحَدًا قَالَ : يُعِيدُونَ ، قَالَ : لا ، إِلا حَمَّادٌ ".
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی، بعد میں انہیں یاد آیا کہ انہوں نے اپنی شرمگاہ کو چھو لیا تھا (جس کی وجہ سے ان کا وضو ٹوٹ چکا تھا)، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دوبارہ وضو کیا (اور دوبارہ نماز ادا کی)، البتہ انہوں نے ان لوگوں کو وہ نماز دوبارہ ادا کرنے کی ہدایت نہیں کی۔ ابن مہدی بیان کرتے ہیں: میں نے سفیان سے دریافت کیا: کیا آپ اس بات سے واقف ہیں کہ کسی راوی نے یہ بات بھی نقل کی ہو؟ ان لوگوں نے بھی دوبارہ نماز ادا کی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، صرف حماد نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے۔