کتب حدیثسنن الدارقطنيابوابباب : تشہد میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجنا واجب ہے ، اس بارے میں منقول روایات کا اختلاف
حدیث نمبر: 1338
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الزَّعْفَرَانِيُّ ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ الْخَيَّاطُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ مُجَاهِدٍ ، حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، أَوْ أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ : عَلَّمَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ التَّشَهُّدَ ، وَقَالَ : عَلَّمَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ بَيْتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْنَا مَعَهُمُ ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَيْنَا مَعَهُمْ ، صَلَوَاتُ اللَّهِ وَصَلَوَاتُ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ ، السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ " . قَالَ : وَكَانَ مُجَاهِدٌ يَقُولُ : إِذَا سَلَّمَ فَبَلَغَ ، وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ فَقَدْ سَلَّمَ عَلَى أَهْلِ السَّمَاءِ وَأَهْلِ الأَرْضِ . ابْنُ مُجَاهِدٍ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
محمد محی الدین
مجاہد بیان کرتے ہیں: ابن ابی لیلیٰ (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) ابومعمر نے یہ بات بیان کی ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھے تشہد کے کلمات سکھائے اور یہ بات بیان کی کہ یہ کلمات مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح سکھائے تھے، جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کو قرآن کی کسی سورت کی تعلیم دیا کرتے تھے (وہ کلمات یہ ہیں): ”تمام پاکیزہ اور جسمانی اور قولی عبادتیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اور ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، اے اللہ! تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نازل کر اور ان کے اہل بیت پر بھی، جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم پر درود نازل کیا، بیشک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے، اے اللہ! تو ان کے ساتھ ہم پر بھی درود نازل کر، اے اللہ! تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہل بیت پر برکتیں نازل کر، جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم پر برکتیں نازل کیں، بیشک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے، اے اللہ! ان کے ساتھ ہم پر بھی برکتیں نازل کر، اللہ کا درود، اہل ایمان کا درود محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو، جو نبی ہیں، امی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام ہو، اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔“ مجاہد فرماتے ہیں: جب انسان سلام بھیجتے ہوئے یہ الفاظ استعمال کرے، اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو، تو اس نے آسمان اور زمین میں بسنے والے تمام لوگوں پر سلام بھیج دیا ہے۔ عبدالوہاب بن مجاہد نامی راوی ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1338
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف ولکن عند الشواھد الحدیث صحیح
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ولکن عند الشواھد الحدیث صحیح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 831، 835، 1202، 6230، 6265، 6328، 7381، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 402، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 702، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 996، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1161 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 968 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 289، 1105، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 899، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1327، 1328، 1333، 1334، 1335، 1336، 1337، 1338، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3632، ، وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 703، 845»
«قال الدارقطني: ابن مجاهد ضعيف الحديث ، فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (5 / 186)»
حدیث نمبر: 1339
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَبُو الأَزْهَرِ أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، ثنا أبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي فِي الصَّلاةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ صَلَّى عَلَيْهِ فِي صَلاتِهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ الأَنْصَارِيِّ أَخِي بِالْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : أَقْبَلَ رَجُلٌ حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَّا السَّلامُ عَلَيْكَ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ إِذَا نَحْنُ صَلَّيْنَا فِي صَلاتِنَا ؟ قَالَ : فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحْبَبْنَا أَنَّ الرَّجُلَ لَمْ يَسْأَلْهُ ، ثُمَّ قَالَ : " إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَيَّ فَقُولُوا : اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " . هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ مُتَّصِلٌ.
محمد محی الدین
ابن اسحاق نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے: انہوں نے نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کے بارے میں مجھے یہ حدیث سنائی ہے، جب کوئی مسلمان شخص نماز کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتا ہے۔ (ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں) سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گیا، ہم اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس موجود تھے، اس شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ پر سلام بھیجنے کے طریقے سے تو ہم واقف ہو چکے ہیں، جب ہم نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں، تو اس دوران آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے یہ آرزو کی کہ اس شخص نے آپ سے یہ سوال نہ کیا ہوتا، لیکن پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم مجھ پر درود بھیجنا چاہو، تو یہ پڑھو: اے اللہ! تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نازل کر، جو امی ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر بھی (درود نازل کر)، جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم اور سیدنا ابراہیم کی آل پر درود نازل کیا تھا، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم، جو امی نبی ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر برکتیں نازل کر، جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم اور سیدنا ابراہیم کی آل پر برکتیں نازل کیں، بیشک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1339
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 405، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 573 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 711، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1958، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 993، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1284 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3220، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1382، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2892، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1339، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17341»
«قال البيهقي: هذا إسناد صحيح ، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (5 / 360)»
حدیث نمبر: 1340
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ كَعْبٍ ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْخَزَّازُ . ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا أبِي ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ ، ثنا عَمْرُو بْنُ شِمْرٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا بُرَيْدَةَ ، إِذَا جَلَسْتَ فِي صَلاتِكَ فَلا تَتْرُكَنَّ التَّشَهُّدَ وَالصَّلاةَ عَلَيَّ فَإِنَّهَا زَكَاةُ الصَّلاةِ ، وَسَلِّمْ عَلَى جَمِيعِ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ وَرُسُلِهِ ، وَسَلِّمْ عَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ " .
محمد محی الدین
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے بریدہ! جب تم نماز میں تشہد میں بیٹھو، تشہد کے کلمات اور مجھ پر درود بھیجنا ہرگز ترک نہ کرنا، کیونکہ یہ نماز کی زکوٰة ہے، اور اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء اور رسولوں پر بھی سلام بھیجنا اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام بھیجنا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1340
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدا ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1284، 1340، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 4462، إسناده ضعيف جدا ، فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: 131/5»
حدیث نمبر: 1341
حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِيسَى الْكَاتِبُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ مُسْلِمٍ الْحِيرِيُّ ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ الْخَزَّازُ ، ثنا عَمْرُو بْنُ شِمْرٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ الشَّعْبِيُّ سَمِعْتُ مَسْرُوقَ بْنَ الأَجْدَعِ ، يَقُولُ : قَالَتْ عَائِشَةُ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا تُقْبَلُ صَلاةٌ إِلا بِطَهُورٍ وَبِالصَّلاةِ عَلَيَّ " . عَمْرُو بْنُ شِمْرٍ ، وَجَابِرٌ ، ضَعِيفَانِ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”وضو اور مجھ پر درود بھیجے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی۔“ عمرو بن شمر اور جابر جعفی یہ دونوں راوی ضعیف ہیں۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1341
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1341 ، قال ابن حجر: وفيه عمرو بن شمر وهو متروك ورواه عن جابر الجعفي وهو ضعيف ، التلخيص الحبير فى تخريج أحاديث الرافعي الكبير: 472/1»
حدیث نمبر: 1342
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الشَّافِعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ ، لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اس شخص کی نماز نہیں ہوتی، جو اپنے نبی پر درود نہیں بھیجتا۔“ اس روایت کا ایک راوی عبدالمہیمن عباس مستند نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1342
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 997، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 400، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 4036، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1342، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 5699»
«قال ابن حجر: وإسناده ضعيف ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 472)»
حدیث نمبر: 1343
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَجِيحٍ الْكِنْدِيُّ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ صُبَيْحٍ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَرِيرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى صَلاةً لَمْ يُصَلِّ فِيهَا عَلَيَّ وَلا عَلَى أَهْلِ بَيْتِي لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ " . جَابِرٌ ضَعِيفٌ ، وَقَدِ اخْتُلِفَ عَنْهُ.
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص نماز پڑھتے ہوئے اس میں مجھ پر اور میرے اہل بیت پر درود نہیں بھیجتا، اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔“ اس روایت کا ایک راوی جابر ضعیف ہے، اس سے روایت نقل کرنے میں اختلاف کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1343
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 4037، 4038، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1343، 1344، 1345»
«قال الدارقطني: جابر ضعيف واختلف عنه ، سنن الدارقطني: (2 / 171) برقم: (1343)»
حدیث نمبر: 1344
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَلامٍ ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، ثنا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : " لَوْ صَلَّيْتُ صَلاةً لا أُصَلِّي فِيهَا عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ مَا رَأَيْتُ أَنَّ صَلاتِي تَتِمُّ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اگر میں نماز پڑھتے ہوئے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر درود نہیں بھیجتا، تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ میری نماز مکمل نہیں ہوئی۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1344
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 4037، 4038، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1343، 1344، 1345»
«قال الدارقطني: جابر ضعيف واختلف عنه ، سنن الدارقطني: (2 / 171) برقم: (1343)»
حدیث نمبر: 1345
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الطَّلْحِيُّ ، بِالْكُوفَةِ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُوسَى الْكِنْدِيُّ أَبُو عُمَرَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، ثنا زُهَيْرٌ ، ثنا جَابِرٌ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : " مَا صَلَّيْتُ صَلاةً لا أُصَلِّي فِيهَا عَلَى مُحَمَّدٍ إِلا ظَنَنْتُ أَنَّ صَلاتِي لَمْ تَتِمَّ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں جس نماز کے دوران محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجوں، اس کے بارے میں میرا یہی گمان ہوتا ہے کہ میری نماز مکمل نہیں ہوئی۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1345
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 4037، 4038، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1343، 1344، 1345»
«قال الدارقطني: جابر ضعيف واختلف عنه ، سنن الدارقطني: (2 / 171) برقم: (1343)»