کتب حدیثسنن الدارقطنيابوابباب : تشہد کا طریقہ، اس کا واجب ہونا، اس بارے میں روایات کا اختلاف
حدیث نمبر: 1324
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ يَدْعُو ، يَعْنِي فِي التَّشَهُّدِ ، يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى وَيُشِيرُ بِإِصْبُعِهِ الْيُمْنَى السَّبَّابَةِ ، وَيَضَعُ الإِبْهَامَ عَلَى الْوُسْطَى ، وَيَضَعُ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى ، وَيُلْقَمُ كَفَّهُ الْيُسْرَى فَخِذَهُ الْيُسْرَى " .
محمد محی الدین
عامر بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما) یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب (نماز کے دوران) تشریف فرما ہوتے تھے، تو دعا کیا کرتے تھے (راوی کہتے ہیں: یعنی تشہد میں دعا کیا کرتے تھے)، آپ اپنا دایاں دست مبارک رکھتے تھے اور پھر شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کیا کرتے تھے، آپ اس وقت اپنا انگوٹھا درمیانی انگلی پر رکھتے تھے، جبکہ آپ نے اپنا بایاں دست مبارک اپنے بائیں زانوں پر رکھا ہوتا تھا، آپ نے اپنے بائیں دست مبارک سے اپنے بائیں زانوں کو پکڑا ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1324
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ،وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 579، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 696، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1943، 1944، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1160 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 988، 989، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1324، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16350، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 903، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 6807»
حدیث نمبر: 1325
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، ثنا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، ثنا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَطَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ ، وَكَانَ يَقُولُ : " التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ ، سَلامٌ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، سَلامٌ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ " . هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد کے کلمات اسی طرح تعلیم دیا کرتے تھے، جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں قرآن کی تعلیم دیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھا کرتے تھے: ”تمام قولی اور جسمانی مبارک پاکیزہ عبادات اللہ کے لیے مخصوص ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلام ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔“ اس روایت کی سند صحیح ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1325
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 403، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 705، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1952، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 988، 989، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1173 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 974، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 290، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 900، 902، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1325، 1326، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2709»
«قال الدارقطني: هذا إسناد صحيح ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 20)»
حدیث نمبر: 1326
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي بِاللَّهِ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ بْنِ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَطَاوُسٍ ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ : التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس تشہد کی تعلیم (ان الفاظ میں) دیتے تھے: ”تمام مبارک پاکیزہ عبادتیں اللہ کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خاص بندے ہیں اور اللہ کے رسول ہیں۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1326
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 403، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 705، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1952، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 988، 989، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1173 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 974، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 290، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 900، 902، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1325، 1326، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2709»
«قال الدارقطني: هذا إسناد صحيح ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 20)»
حدیث نمبر: 1327
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، إِمْلاءً ، ثنا أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنَّا نَقُولُ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ التَّشَهُّدُ : السَّلامُ عَلَى اللَّهِ ، السَّلامُ عَلَى جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تَقُولُوا هَكَذَا فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلامُ ، وَلَكِنْ قُولُوا : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: تشہد فرض ہونے سے پہلے ہم یہ پڑھا کرتے تھے: اللہ تعالیٰ پر سلام ہو، جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام پر سلام ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم یہ نہ پڑھا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ خود سلامتی عطا کرنے والا ہے، بلکہ تم یہ پڑھا کرو: تمام جسمانی اور قولی عبادتیں، پاکیزہ عبادتیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلام ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“ اس کی سند مستند ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1327
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 831، 835، 1202، 6230، 6265، 6328، 7381، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 402، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 702، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 996، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1161 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 968 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 289، 1105، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 899، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1327، 1328، 1333، 1334، 1335، 1336، 1337، 1338، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3632، ، وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 703، 845»
«قال الدارقطني: إسناده صحيح ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 12)»
حدیث نمبر: 1328
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ، ثنا الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ أَسْبَاطٍ ، وعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَمَنْصُورٍ ، وَالأَعْمَشِ ، وَحَمَّادٍ ، وَمُغِيرَةَ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد کی تعلیم ان الفاظ میں دیتے تھے: ”تمام عبادتیں اللہ کے لیے ہیں“ (اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے)۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1328
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 831، 835، 1202، 6230، 6265، 6328، 7381، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 402، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 702، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 996، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1161 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 968 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 289، 1105، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 899، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1327، 1328، 1333، 1334، 1335، 1336، 1337، 1338، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3632، ، وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 703، 845»
«قال الدارقطني: إسناده صحيح ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 12)»
حدیث نمبر: 1329
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنِي أبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي التَّشَهُّدِ : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : زِدْتُ فِيهَا وَبَرَكَاتُهُ : " السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ " ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : وَزِدْتُ فِيهَا وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ : " وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ عَنْ تَابَعَهُ عَلَى رَفْعِهِ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، وَوَقَفَهُ غَيْرَهُمَا.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشہد میں یہ پڑھتے تھے: ”تمام قولی اور جسمانی عبادتیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں نازل ہوں۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے اس میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے: اور اس کی برکتیں بھی نازل ہوں (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشہد کے یہ الفاظ ہیں) ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں اس میں ان الفاظ کا اضافہ کرتا ہوں: وہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشہد کے یہ الفاظ ہیں) میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس روایت کی سند مستند ہے، بعض راویوں نے بھی اسے مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا، جبکہ دیگر نے اسے موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1329
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 971، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2866، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1329، 1330، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 5460»
«قال الدارقطني: إسناده صحيح ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 26)»
حدیث نمبر: 1330
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ السُّكَّرِيُّ ، ثنا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبِ بْنِ خَارِجَةَ . ح وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ الْغَازِي أَبُو سَعِيدٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ ، ثنا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبِ بْنِ خَارِجَةَ ، ثنا مُغِيثُ بْنُ بُدَيْلٍ ، ثنا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ : التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الزَّاكِيَاتُ لِلَّهِ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . هَذَا لَفْظُ ابْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَخَارِجَةُ ضَعِيفَانِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ میں تشہد کی تعلیم دیتے تھے: ”تمام پاکیزہ عبادتیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے ہیں اور اس کے رسول ہیں۔“ (راوی کہتے ہیں) پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے تھے۔ روایت کے یہ الفاظ ابن ابوعثمان نامی راوی کے ہیں، اس روایت کے دو راوی موسیٰ بن عبیدہ اور خارجہ یہ دونوں ضعیف ہیں۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1330
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 971، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2866، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1329، 1330، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 5460»
«قال الدارقطني: في إسناده موسى بن عبيدة وخارجة وهما ضعيفان ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 26)»
حدیث نمبر: 1331
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الدِّمَشْقِيُّ ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الأَشَجِّ ، أَنَّ عَوْنَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ كَتَبَ لِي فِي التَّشَهُّدِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَأَخَذَ بِيَدِي فَزَعَمَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخَذَ بِيَدِهِ ، فَزَعَمَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ الْمُبَارَكَاتُ لِلَّهِ " . هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
محمد محی الدین
یعقوب بن اشجع نامی راوی بیان کرتے ہیں: عون بن عبداللہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول تشہد کے کلمات مجھے لکھ کر دیے، پھر انہوں نے میرا ہاتھ تھاما اور بتایا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک بار ان کا ہاتھ تھام کر یہ بتایا تھا، ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ تھام کر انہیں تشہد کے کلمات کی تعلیم دی تھی (وہ کلمات یہ ہیں): ”التحیات للہ الصلوۃ الطیبات المبارکات للہ، تمام قولی اور جسمانی عبادتیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں۔“ اس روایت کی سند حسن ہے اور اس کا راوی ابن لہیعہ مستند نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1331
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 300، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 985، 986، 987، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2876، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1331، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 3067»
«قال الدارقطني: هذا إسناد حسن وابن لهيعة ليس بالقوي ، سنن الدارقطني: (2 / 162) برقم: (1331)»
حدیث نمبر: 1332
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، ثنا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي غَلابٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، أَنَّهُمْ صَلَّوْا مَعَ أَبِي مُوسَى ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَكَانَ يُبَيِّنُ لَنَا مِنْ صَلاتِنَا وَيُعَلِّمُنَا سُنَّتَنَا ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ : فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ قَوْلِ أَحَدِكُمُ : " التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . زَادَ فِيهِ عَلَى أَصْحَابِ قَتَادَةَ : " وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ " . وَخَالَفَهُ هِشَامٌ ، وَسَعِيدٌ ، وَأَبَانُ ، وَأَبُو عَوَانَةَ وَغَيْرُهُمْ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَهَذَا إِسْنَادٌ مُتَّصِلٌ حَسَنٌ.
محمد محی الدین
حطان بن عبداللہ رقاشی بیان کرتے ہیں: ان لوگوں نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز ادا کی، تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری نے بتایا: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ہمارے سامنے نماز پڑھنے کا طریقہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنت کی تعلیم دی۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے، جس میں یہ الفاظ بھی ہیں: جب کوئی شخص قعدہ میں بیٹھے، تو یہ الفاظ پڑھے: ”تمام قولی اور جسمانی عبادتیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر بھی سلام ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، وہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی بھی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ قتادہ نامی راوی کے شاگردوں نے اس میں یہ الفاظ اضافی نقل کیے ہیں: وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں، جبکہ دیگر راویوں نے قتادہ کے حوالے سے اس کے برعکس نقل کیا ہے۔ اس روایت کی سند متصل ہے اور حسن ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1332
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 404، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1584، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2167، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 829 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 972، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 847، 901، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2661، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1332، 1249، 1250، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19813»
«قال الدارقطني: هذا إسناد حسن متصل ، سنن الدارقطني: (2 / 163) برقم: (1332)»
حدیث نمبر: 1333
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ سَيَّارٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ رَاشِدٍ ، وَعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَغَيْرُهُمْ ، قَالُوا : ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالا : نا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَرِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، قَالَ : أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي ، وَقَالَ : أَخَذَ عَبْدُ اللَّهِ بِيَدِي ، وَقَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَعَلَّمَنِي التَّشَهُّدَ : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . تَابَعَهُ ابْنُ عَجْلانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَرِّ .
محمد محی الدین
قاسم نامی راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ علقمہ نے میرا ہاتھ تھاما اور بتایا: ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ تھام کر یہ بتایا تھا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ تھاما اور مجھے نماز کے دوران تشہد کے کلمات کی تعلیم دی (وہ کلمات یہ ہیں): ”تمام قولی اور بدنی عبادتیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اور ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ دیگر راویوں نے اسے نقل کرنے میں متابعت کی ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1333
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 831، 835، 1202، 6230، 6265، 6328، 7381، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 402، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 702، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 996، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1161 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 968 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 289، 1105، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 899، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1327، 1328، 1333، 1334، 1335، 1336، 1337، 1338، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3632، ، وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 703، 845»
«قال الدارقطني: إسناده صحيح ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 12)»
حدیث نمبر: 1334
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ رِشْدِينَ ، عَنْ حَيْوَةَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَجْلانَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَرِّ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ . وَرَوَاهُ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَرِّ ، فَزَادَ فِي آخِرِهِ كَلامًا وَهُوَ قَوْلُهُ : إِذَا قُلْتَ هَذَا أَوْ فَعَلْتَ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ صَلاتَكَ ، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ . فَأَدْرَجَهُ بَعْضُهُمْ عَنْ زُهَيْرٍ فِي الْحَدِيثِ وَوَصَلَهُ بِكَلامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفَصَلَهُ شَبَابَةُ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، وَجَعَلَهُ مِنْ كَلامِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودِ ، وَقَوْلُهُ : أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ مِنْ قَوْلِ مَنْ أَدْرَجَهُ فِي حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لأَنَّ ابْنَ ثَوْبَانَ ، رَوَاهُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ ، كَذَلِكَ وَجَعَلَ آخِرَهُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَلاتِّفَاقِ حُسَيْنٍ الْجُعْفِيِّ ، وَابْنِ عَجْلانَ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ فِي رِوَايَتِهِمْ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَرِّ عَلَى تَرْكِ ذِكْرَهُ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ مَعَ اتِّفَاقِ كُلِّ مَنْ رَوَى التَّشَهُّدَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَعَنْ غَيْرِهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَلَى ذَلِكَ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، بعض راویوں نے اس کے آخر میں اضافی کلمات نقل کیے ہیں، وہ یہ ہیں: ”جب تم یہ پڑھ لو گے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) تم ایسا کر لو گے، تو تم نے اپنی نماز کو مکمل کر لیا، اب اگر تم اٹھنا چاہو، تو اٹھ جاؤ، اگر بیٹھے رہنا چاہو، تو بیٹھے رہو۔“ بعض راویوں نے اس روایت کو زہیر کے حوالے سے نقل کرتے ہوئے ان کلمات کو حدیث میں درج کر دیا ہے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے ساتھ ملا دیا ہے، جبکہ شبابہ نامی راوی نے اسے زہیر کے حوالے سے الگ سے نقل کیا ہے اور ان کلمات کو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے کلام کے طور پر نقل کیا ہے اور ان کلمات کا سیدنا عبداللہ کے کلام ہونے کی زیادہ مناسبت لگتی ہے بہ نسبت اس کے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں درج کیا جائے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1334
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 831، 835، 1202، 6230، 6265، 6328، 7381، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 402، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 702، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 996، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1161 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 968 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 289، 1105، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 899، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1327، 1328، 1333، 1334، 1335، 1336، 1337، 1338، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3632، ، وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 703، 845»
«قال الدارقطني: إسناده صحيح ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 12)»
حدیث نمبر: 1335
وَأَمَّا حَدِيثُ شَبَابَةَ عَنْ زُهَيْرٍ ، فَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْحَرِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، قَالَ : أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي ، قَالَ : وَأَخَذَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ بِيَدِي ، قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَعَلَّمَنِي التَّشَهُّدَ : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَإِذَا قُلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ مِنَ الصَّلاةِ فَإِذَا شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ . شَبَابَةُ ثِقَةٌ ، وَقَدْ فَصَلَ آخِرَ الْحَدِيثِ جَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ مَنْ أَدْرَجَ آخِرَهُ فِي كَلامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . وَقَدْ قَالَ : تَابَعَهُ غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَغَيْرُهُ ، فَرَوَوْهُ عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَرِّ كَذَلِكَ ، وَجَعَلَ آخِرَ الْحَدِيثِ مِنْ كَلامِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد محی الدین
قاسم نامی راوی بیان کرتے ہیں: علقمہ نے میرا ہاتھ تھاما اور بتایا: ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ تھام کر یہ بتایا تھا: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ تھاما اور مجھے تشہد کے کلمات کی تعلیم دی (وہ کلمات یہ ہیں): ”تمام قولی اور بدنی عبادتیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اور ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب تم یہ پڑھ لو گے، تو تم نے اپنے اوپر لازم نماز کو ادا کر دیا، اب اگر تم اٹھنا چاہو، تو اٹھ جاؤ، اگر بیٹھے رہنا چاہو، تو بیٹھے رہو۔ یہاں پر اس روایت کے راوی شبابہ ثقہ ہیں، انہوں نے روایت کے آخر میں الگ سے یہ بات ذکر کی ہے، یہ کلمات سیدنا عبداللہ بن مسعود کا کلام ہیں اور یہ روایت اس روایت کے مقابلے میں زیادہ مستند ہے، جس میں ان کلمات کو نبی کے الفاظ کے ساتھ ملا دیا گیا ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ بعض دیگر راویوں نے بھی اسے اسی طرح سیدنا عبداللہ کے کلام کے طور پر نقل کیا ہے، انہوں نے (اضافی کلمات کو) مرفوع حدیث کے طور پر نقل نہیں کیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1335
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 831، 835، 1202، 6230، 6265، 6328، 7381، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 402، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 702، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 996، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1161 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 968 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 289، 1105، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 899، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1327، 1328، 1333، 1334، 1335، 1336، 1337، 1338، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3632، ، وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 703، 845»
«قال الدارقطني: إسناده صحيح ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 12)»
حدیث نمبر: 1336
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَرِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، قَالَ : أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي ، وَزَعَمَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ أَخَذَ بِيَدِهِ ، وَزَعَمَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ قَالَ : إِذَا قَضَيْتَ هَذَا أَوْ فَعَلْتَ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ صَلاتَكَ ، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَجْلِسَ فَاجْلِسْ " .
محمد محی الدین
قاسم نامی راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ علقمہ نے میرا ہاتھ تھاما اور بتایا: ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا ہاتھ تھاما، انہیں یہ بتایا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ تھاما اور انہیں تشہد کے کلمات کی تعلیم دی (جو یہ ہیں): ”تمام قولی اور بدنی عبادتیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اور ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: جب تم یہ پورا کر لو گے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) جب تم ایسا کر لو گے، تو تم نے اپنی نماز کو ادا کر لیا، اب اگر تم اٹھنا چاہو، تو اٹھ جاؤ، اگر بیٹھے رہنا چاہو، تو بیٹھے رہو۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1336
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 831، 835، 1202، 6230، 6265، 6328، 7381، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 402، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 702، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 996، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1161 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 968 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 289، 1105، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 899، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1327، 1328، 1333، 1334، 1335، 1336، 1337، 1338، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3632، ، وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 703، 845»
«قال الدارقطني: إسناده صحيح ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 12)»
حدیث نمبر: 1337
وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ ثَوْبَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ ، الَّذِي رَوَاهُ عَنْهُ غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، بِمُتَابَعَةِ شَبَابَةَ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَرِّ ، فَحَدَّثَنَا بِهِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْكُمَيْتِ ، ثنا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ . ح وَحَدَّثَنَا بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الْحَرَّانِيُّ ، وَعُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُعَدَّلُ ، وَآخَرُونَ قَالُوا : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، ثنا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَرِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي ، وَأَخَذَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِيَدِ عَلْقَمَةَ ، وَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ " . ثُمَّ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : إِذَا فَرَغْتَ مِنْ هَذَا فَقَدْ فَرَغْتَ مِنْ صَلاتِكَ فَإِنْ شِئْتَ فَاثْبُتْ وَإِنْ شِئْتَ فَانْصَرِفْ.
محمد محی الدین
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں: قاسم نامی راوی بیان کرتے ہیں: علقمہ نے میرا ہاتھ تھاما اور (روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ کا ہاتھ تھاما اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھاما اور تشہد کے کلمات کی تعلیم دی تھی (جو یہ ہیں): ”تمام قولی اور بدنی عبادتیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اور ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر سلام ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ ارشاد فرمایا: جب تم اس سے فارغ ہو جاؤ گے، تو تم نماز سے فارغ ہو جاؤ گے، اب تم چاہو، تو بیٹھے رہو اور اگر چاہو، تو اٹھ جاؤ۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1337
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 831، 835، 1202، 6230، 6265، 6328، 7381، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 402، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 702، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 996، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1161 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 968 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 289، 1105، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 899، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1327، 1328، 1333، 1334، 1335، 1336، 1337، 1338، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3632، ، وأخرجه الطبراني فى ((الصغير)) برقم: 703، 845»
«قال الدارقطني: إسناده صحيح ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 12)»