حدیث نمبر: 1278
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، ثنا هُشَيْمٌ ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : " كُنَّا نَحْزُرُ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الظُّهْرِ قَدْرَ ثَلاثِينَ آيَةً قَدْرَ سُورَةِ السَّجْدَةِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ ، وَفِي الأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ فِي الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ ، وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الأُخْرَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ " . هَذَا ثَابِتٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہر اور عصر کی نماز میں قیام کا اندازہ لگایا، تو ہم نے یہ اندازہ لگایا کہ ظہر کی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام اتنا طویل ہوتا ہے جتنی دیر میں تیس آیات تلاوت کی جا سکتی ہیں، یعنی جتنی سورة السجدة بڑی ہے۔ یہ اندازہ پہلی دو رکعتوں کے بارے میں تھا، جبکہ آخری دو رکعتوں میں اس سے نصف ہوتا تھا۔ اسی طرح ہم نے عصر کی پہلی دو رکعتوں میں آپ کے قیام کا اندازہ لگایا، تو وہ ظہر کی آخری دو رکعتوں جتنا ہوتا تھا، اور ہم نے عصر کی آخری دو رکعتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگایا، تو وہ اس کے نصف ہوتا تھا۔ یہ روایت ثابت اور صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 1279
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْبَجَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَوْدِيُّ ، نا سَهْلُ بْنُ عَامِرٍ الْبَجَلِيُّ ، ثنا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ ، فَقَرَأَ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ بِ الْحَمْدِ ، وَأَوَّلِ آيَةٍ مِنَ الْبَقَرَةِ ، ثُمَّ قَامَ فِي الثَّانِيَةِ فَقَرَأَ الْحَمْدَ ، وَالآيَةَ الثَّانِيَةَ مِنَ الْبَقَرَةِ ، ثُمَّ رَكَعَ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : وإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ : فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ سورة المزمل آية 20 " . هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ ، وَفِيهِ حُجَّةٌ لِمَنْ يَقُولُ : إِنَّ مَعْنَى قَوْلِهِ : فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ سورة المزمل آية 20 ، إِنَّمَا هُوَ بَعْدَ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی اقتداء میں بصرہ میں نماز ادا کی۔ انہوں نے پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ پڑھی اور سورۃ بقرہ کی پہلی آیت پڑھی۔ پھر وہ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے، تو انہوں نے سورۃ فاتحہ پڑھی اور سورۃ بقرہ کی دوسری آیت پڑھی۔ پھر وہ رکوع میں چلے گئے۔ جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو انہوں نے ہماری طرف رخ کر کے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تم اس میں سے جو آسانی سے پڑھ سکو، اس کی تلاوت کر لو۔“ اس روایت کی سند حسن ہے۔ اس میں ان لوگوں کے لیے دلیل موجود ہے، جو اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ کے اس فرمان: ”تم اس میں سے جو آسانی سے پڑھا جا سکتا ہے، پڑھ لو“ سے مراد تلاوت ہے، جو سورۃ فاتحہ پڑھنے کے بعد کی جاتی ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
حدیث نمبر: 1280
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، قَالا : نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي كُلِّ صَلاةٍ قُرْآنٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : وَجَبَ هَذَا ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : يَا كَثِيرُ ، وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ لا أَرَى الإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ إِلا قَدْ كَفَاهُمْ . وَرَوَاهُ زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ فِيهِ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَرَى الإِمَامَ إِلا قَدْ كَفَاهُمْ " . وَوَهِمَ فِيهِ وَالصَّوَابُ أَنَّهُ مِنْ قَوْلِ أَبِي الدَّرْدَاءِ كَمَا قَالَ ابْنُ وَهْبٍ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہر رکعت میں تلاوت کی جائے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں۔“ حاضرین میں سے ایک بولے: یہ لازم ہو گئی ہے۔ (اس روایت کے راوی) سیدنا ابودرداء نے (اپنے شاگرد سے) فرمایا: اے کثیر! (کثیر کہتے ہیں: میں اس وقت ان کے پہلو میں موجود تھا) میں یہ سمجھتا ہوں کہ امام جب لوگوں کو نماز پڑھاتا ہے، تو اس کا قراءت کرنا ہی ان لوگوں کے لیے کافی ہو گا۔ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ منقول ہے، تاہم ان میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”میں یہ سمجھتا ہوں کہ امام کا قراءت کر لینا ان لوگوں کے لیے کافی ہو گا۔“ راوی کو اس روایت میں وہم ہوا ہے، درست یہ ہے: یہ الفاظ سیدنا ابودرداء کے ہیں، جیسا کہ ابن وہب نامی راوی نے نقل کیا ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔