حدیث نمبر: 1275
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ يَزِيدَ ، وعَلِيُّ بْنُ أَشْكَابٍ ، والْحُسَيْنُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْبُسْتَنْبَانِيُّ ، قَالُوا : نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ : حَفِظْتُ سَكْتَتَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلاةِ ، وَقَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ سَعِيدٍ : قَالَ سَمُرَةُ : " حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكْتَتَيْنِ فِي الصَّلاةِ : سَكْتَةٌ إِذَا كَبَّرَ الإِمَامُ حَتَّى يَقْرَأَ ، وَسَكْتَةٌ إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ " . فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، فَكَتَبُوا إِلَى الْمَدِينَةِ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فَصَدَّقَ سَمُرَةَ الْحَسَنُ مُخْتَلِفٌ فِي سَمَاعِهِ مِنْ سَمُرَةَ ، وَقَدْ سَمِعَ مِنْهُ حَدِيثًا وَاحِدًا وَهُوَ حَدِيثُ الْعَقِيقَةِ ، فِيمَا زَعَمَ قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ.
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات یاد ہے آپ نماز کے دوران دو مرتبہ سکوت کرتے تھے، ایک اس وقت جب امام نے تکبیر کہہ دی ہو اور قراءت شروع کرنی ہو اور دوسرا سکوت اس وقت ہوتا تھا جب آپ سورہ فاتحہ پڑھ کر فارغ ہوتے تھے۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا، تو ان لوگوں نے مدینہ منورہ میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں خط لکھا تو انہوں نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کے بیان کی تصدیق کی۔ حسن بصری کے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے احادیث کے سماع کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ حسن بصری نے ان سے ایک حدیث سنی ہے اور یہ وہ حدیث ہے جو عقیقہ کے بارے میں ہے جسے قریش بن انس نے حبیب نامی راوی سے نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 1276
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، ثنا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ " أَنَّهُ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ سَكَتَ هُنَيْهَةً ، وَإِذَا قَرَأَ : وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، سَكَتَ سَكْتَةً " . فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، فَكَتَبَ فِي ذَلِكَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، فَكَتَبَ : أَنَّ الأَمْرَ كَمَا صَنَعَ سَمُرَةُ.
محمد محی الدین
حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نماز کا جب آغاز کرتے تھے، تو تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہتے تھے۔ پھر جب ”ولا الضالین“ پڑھ لیتے تھے، تو تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہتے تھے۔ اس بارے میں ان پر اعتراض کیا گیا۔ اس بارے میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا گیا، تو انہوں نے فرمایا: حکم اسی طرح ہے، جیسے سمرہ نے کیا ہے۔
حدیث نمبر: 1277
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلاةِ سَكَتَ هُنَيْهَةً ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا تَقُولُ فِي صَلاتِكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ ؟ قَالَ : " أَقُولُ : اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے آغاز میں جب تکبیر کہتے تھے، تو تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہتے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ تکبیر کہنے اور قراءت کرنے کے درمیان کیا پڑھتے تھے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں یہ پڑھتا ہوں: اے اللہ! تو میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنا فاصلہ پیدا کر دے جتنا تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ رکھا ہے، اور اے اللہ! مجھے خطاؤں سے اس طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صاف کر دیا جاتا ہے، اے اللہ! میری خطاؤں کو برف، پانی اور اولوں کے ذریعے دھو دے۔“