کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان " امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے" ۔
حدیث نمبر: 1243
قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا " . تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الأَشْهَلِيُّ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش رہو۔“
حدیث نمبر: 1244
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا ، وَالْحَسَنُ بْنُ الْخَضِرِ ، قَالا : نا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الأَشْهَلِيُّ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا " . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : كَانَ الْمُخَرِّمِيُّ يَقُولُ : هُوَ ثِقَةٌ ، يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو، اور جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش رہو۔“ امام ابوعبدالرحمن نے یہ بات بیان کی ہے۔ مخرمی کہتے ہیں، یہ شخص ثقہ ہے یعنی محمد بن سعد نامی راوی (ثقہ) ہے۔
حدیث نمبر: 1245
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَطِيرِيُّ ، نا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ الْغَنَوِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَمُصْعَبِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَلا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا ، وَإِذَا قَالَ : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، فَقُولُوا : آمِينَ ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا ، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعِينَ " . إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے، تاکہ اس کی پیروی کی جائے۔ تم اس سے اختلاف نہ کرو۔ جب وہ تکبیر کہے، تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قراءت کرے، تو تم خاموش رہو۔ جب ’غیر المغضوب علیھم ولا الضالین‘ کہے، تو تم آمین کہو۔ جب وہ رکوع میں جائے، تو تم بھی رکوع میں جاؤ۔ جب وہ ’سمع اللہ لمن حمدہ‘ کہے، تو تم ’ربنا لك الحمد‘ کہو۔ جب وہ سجدہ میں جائے، تو تم سجدے میں جاؤ۔ جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے، تو تم سب لوگ بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔“ اس روایت کا راوی اسماعیل بن ابان رحمہ اللہ ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 1246
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ ، ثنا أَبُو سَعْدٍ الصَّاغَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ مُيَسَّرٍ ، ثنا ابْنُ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا . أَبُو سَعْدٍ الصَّاغَانِيُّ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ اس روایت کا راوی ابوسعد الصاغانی ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 1247
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا قِرَاءَةَ خَلْفَ الإِمَامِ " . هَذَا مُرْسَلٌ.
محمد محی الدین
امام شعبی روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”امام کی اقتداء میں قراءت نہیں کی جائے گی۔“ یہ روایت مرسل ہے۔
حدیث نمبر: 1248
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ التَّغْلِبِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ، وَجَمَاعَةٌ ، قَالُوا : ثنا غَسَّانُ . ح وَقُرِئَ عَلَى أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ التَّغْلِبِيُّ ، قَالا : غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ أَوْ أُنْصِتُ ؟ قَالَ : " بَلْ أَنْصِتْ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ " . تَفَرَّدَ بِهِ غَسَّانُ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَيْسٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ ضَعِيفَانِ ، وَالْمُرْسَلُ الَّذِي قَبْلَهُ أَصَحُّ مِنْهُ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: ”کیا میں امام کی اقتداء میں قراءت کر لیا کروں یا میں خاموش رہوں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم خاموش رہا کرو یہ تمہارے لیے کافی ہو گا۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں غسان نامی راوی منفرد ہیں اور یہ صاحب ضعیف ہیں جبکہ اس روایت کے دوسرے دو راوی قیس اور محمد بن سالم ضعیف ہیں۔ اس سے پہلے نقل کی جانے والی ’مرسل‘ روایت اس سے زیادہ مستند ہے۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
حدیث نمبر: 1249
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ، ثنا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا أَبُو مُوسَى ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُنَا إِذَا صَلَّى بِنَا قَالَ : " إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا " . هَكَذَا أَمْلاهُ عَلَيْنَا أَبُو حَامِدٍ مُخْتَصَرًا ، سَالِمُ بْنُ نُوحٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
محمد محی الدین
حطان بن عبداللہ رقاشی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ سیدنا ابوموسیٰ نے ہمیں بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمیں نماز پڑھاتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تعلیم دیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”امام کو اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ قراءت کرے تو تم لوگ خاموش رہو۔“ شیخ ابوحامد نے اس روایت کو اسی طرح مختصر طور پر ہمیں املاء کروایا ہے۔ اس روایت کا راوی سالم بن نوح مستند نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1250
ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَبُو الأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أبِي ، عَنْ قَتَادَةَ . ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي غَلابٍ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : صَلَّيْنَا مَعَ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ صَلاةَ الْعَتَمَةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، وَقَالَ فِيهِ : فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَكَانَ يُعَلِّمُنَا صَلاتَنَا وَيُبَيِّنُ لَنَا سُنَّتَنَا ، قَالَ : " أَقِيمُوا الصُّفُوفَ ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ ، فَإِذَا كَبَّرَ الإِمَامُ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا " . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ . وَرَوَاهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، وَسَعِيدٌ ، وَشُعْبَةُ ، وَهَمَّامٌ ، وَأَبُو عَوَانَةَ ، وَأَبَانُ ، عَدِيُّ بْنُ أَبِي عُمَارَةَ ، كُلُّهُمْ عَنْ قَتَادَةَ ، فَلَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ " وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا " ، وَهُمْ أَصْحَابُ قَتَادَةَ الْحُفَّاظُ عَنْهُ.
محمد محی الدین
حطان بن عبداللہ رقاشی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں ہم نے عشاء کی نماز ادا کی۔ اس کے بعد انہوں نے طویل حدیث ذکر کی ہے جس میں یہ الفاظ ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز کا طریقہ سکھایا اور ہمارے سامنے اپنی سنت کو بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’تم لوگ صفوں کو قائم رکھو (یعنی سیدھا رکھو) پھر تم میں سے کوئی ایک شخص تمہاری امامت کرے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ قراءت کرے تو تم لوگ خاموش ہو جاؤ۔‘“ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے حوالے سے منقول ہے تاہم بعض راویوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”اور جب وہ قراءت کرے تو تم لوگ خاموش رہو۔“
حدیث نمبر: 1251
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ ثَابِتٍ الصَّيْدَلانِيُّ ، وَأَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالا : نا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، نا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَالَ الإِمَامُ : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، فَأَنْصِتُوا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب امام ’غیر المغضوب علیھم ولا الضالین‘ پڑھے، تو تم خاموش رہو۔“
حدیث نمبر: 1252
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زَكَرِيَّا التَّمَّارُ ، ثنا أَبُو مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ ، عَنْ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَكْفِيكَ قِرَاءَةُ الإِمَامِ خَافَتَ أَوْ جَهَرَ " . عَاصِمٌ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ ، وَرَفْعُهُ وَهْمٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”امام کا قراءت کرنا تمہارے لیے کافی ہو گا خواہ وہ پست آواز سے قراءت کرے یا بلند آواز میں قراءت کرے۔“ اس روایت کا راوی عاصم مستند نہیں ہے۔ اس روایت کو مرفوع حدیث کے طور پر نقل کرنا وہم ہے۔
حدیث نمبر: 1253
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الدُّورِيُّ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَجَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَتُهُ لَهُ قِرَاءَةٌ " . جَابِرٌ وَلَيْثٌ ضَعِيفَانِ .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص کا امام ہو (یعنی جو باجماعت نماز ادا کر رہا ہو) تو امام کا قراءت کرنا اس شخص کا قراءت کرنا شمار ہو گا۔“
حدیث نمبر: 1254
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ، وشَاذَانُ ، وأَبُو غَسَّانَ ، قَالُوا : نا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا أَبُو نُعَيْمٍ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 1255
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا بَدْرُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ الأَصْبَهَانِيِّ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " مَنْ قَرَأَ خَلْفَ الإِمَامِ فَقَدْ أَخْطَأَ الْفِطْرَةَ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ”جو شخص امام کی اقتداء میں قراءت کرے اس نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے۔“
حدیث نمبر: 1256
حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا الْحَسَّانِيُّ ، ثنا وَكِيعٌ ، مِثْلَهُ . خَالَفَهُ قَيْسٌ ، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ ابْنِ الأَصْبَهَانِيِّ ، ولا يَصِحُّ إِسْنَادُهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تاہم اس کی سند مستند نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1257
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، ثنا عَمِّي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا قَيْسٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " مَنْ قَرَأَ خَلْفَ الإِمَامِ فَقَدْ أَخْطَأَ الْفِطْرَةَ " . خَالَفَهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، فَقَالَ : عَنِ ابْنِ الأَصْبَهَانِيِّ ، عَنِ الْمُخْتَارِ ، عَنْ عَلِيٍّ وَلا يَصِحُّ.
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ”جو شخص امام کی اقتداء میں قراءت کرتا ہے اس نے سنت کی خلاف ورزی کی۔“
حدیث نمبر: 1258
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُنْذِرِ مِنْ أَصْلِ كِتَابِ أَبِيهِ ، ثنا أبِي ، ثنا قَيْسٌ ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " مَنْ قَرَأَ خَلْفَ الإِمَامِ فَقَدْ أَخْطَأَ الْفِطْرَةَ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ”جو شخص امام کی اقتداء میں قراءت کرتا ہے اس نے سنت کی خلاف ورزی کی۔“ یہی روایت ایک اور حوالے سے منقول ہے تاہم یہ مستند نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1259
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ سَلَمَةَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ ، وأَبُو شِهَابٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَلِيًّا ، قَالَ : " إِنَّمَا يَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ مَنْ لَيْسَ عَلَى الْفِطْرَةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ”امام کی اقتداء میں وہ شخص قراءت کرے گا جو سنت پر عمل پیرا نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 1260
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا الصَّاغَانِيُّ ، ثنا أَبُو النَّضْرِ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ ، يُحَدِّثُ عنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " يَكْفِيكَ قِرَاءَةُ الإِمَامِ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ”تمہارے لیے امام کا قراءت کرنا کافی ہے۔“
حدیث نمبر: 1261
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ ، ثنا آدَمُ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ ، يُحَدِّثُ عَنْ عَلِيٍّ ، مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 1262
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَغَيْرُهُ ، قَالُوا : نا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، ثنا أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : " سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفِي كُلِّ صَلاةٍ قِرَاءَةٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ : وَجَبَتْ هَذِهِ ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنْتُ أَقْرَبَ الْقَوْمِ إِلَيْهِ : " مَا أَرَى الإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ إِلا كَفَاهُمْ " . كَذَا قَالَ وَهُوَ وَهْمٌ مِنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ ، وَالصَّوَابُ ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : " مَا أَرَى الإِمَامَ إِلا قَدْ كَفَاهُمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: ”کیا ہر نماز میں قراءت کی جائے گی؟“ آپ نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں!“ تو انصار میں سے ایک شخص نے عرض کی: ”تو یہ واجب ہو گئی۔“ (راوی کہتے ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کیونکہ میں حاضرین میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریب بیٹھا ہوا تھا: ”امام جب لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہو تو اس کا قراءت کرنا ہی ان لوگوں کے لیے کافی ہو گا۔“ راوی نے اسے اسی طرح نقل کیا ہے تاہم زید نامی راوی کو اس میں وہم ہوا ہے۔ (سابقہ روایت کی درست شکل یہ ہے) سیدنا ابودرداء نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”میں یہ سمجھتا ہوں کہ امام کا قراءت کر لینا ان سب لوگوں کے لیے کافی ہو گا۔“
حدیث نمبر: 1263
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بِهَذَا ، وَقَالَ : فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ " يَا كَثِيرُ مَا أَرَى الإِمَامَ إِلا قَدْ كَفَاهُمْ ".
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے حوالے سے منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں: سیدنا ابودرداء نے ارشاد فرمایا: ”اے کثیر! میں یہ سمجھتا ہوں کہ امام کا قراءت کر لینا ان سب کے لیے کافی ہو گا۔“
حدیث نمبر: 1264
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الرَّازِيُّ ، ثنا أَبُو يَحْيَى التَّيْمِيُّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَتُهُ لَهُ قِرَاءَةٌ " . أَبُو يَحْيَى التَّيْمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ ضَعِيفَانِ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص کا امام ہو تو امام کا قراءت کرنا اس کا قراءت کرنا شمار ہو گا۔“ ابویحییٰ تیمی اور محمد بن عبادیہ دونوں ضعیف ہیں۔
حدیث نمبر: 1265
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ الْمَرْوَزِيُّ ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَقَّارُ ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، ثنا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةً فَلَمَّا قَضَاهَا ، قَالَ : " هَلْ قَرَأَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعِيَ بِشَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ فِي الْقُرْآنِ إِذَا أَسْرَرْتُ بِقِرَاءَتِي فَاقْرَءُوا مَعِيَ ، وَإِذَا جَهَرْتُ بِقِرَاءَتِي فَلا يَقْرَأَنَّ مَعِيَ أَحَدٌ " . تَفَرَّدَ بِهِ زَكَرِيَّا الْوَقَّارُ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ مَتْرُوكٌ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی جب آپ نے اسے مکمل کر لیا تو دریافت کیا: ”کیا تم میں سے کسی شخص نے میرے ساتھ قرآن کی قراءت کی ہے؟“ حاضرین میں سے ایک شخص نے عرض کی: ”میں نے یا رسول اللہ!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی یہ سوچ رہا تھا کہ قراءت میں کون میرا مقابلہ کر رہا ہے جب میں پست آواز میں قراءت کر رہا ہوں تو تم بھی میرے ساتھ قراءت کر لیا کرو اور جب میں بلند آواز میں قراءت کروں تو کوئی شخص میرے ساتھ قراءت نہ کرے۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں زکریا نامی راوی منفرد ہے اور یہ شخص منکر الحدیث ہے اور متروک ہے۔
حدیث نمبر: 1266
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ صَالِحٍ الْوَزَّانُ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ ، عَنْ عَوْنٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَكْفِيكَ قِرَاءَةُ الإِمَامِ خَافَتَ أَوْ قَرَأَ " . قَالَ أَبُو مُوسَى : قُلْتُ : لأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ : فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ هَذَا فِي الْقِرَاءَةِ ؟ فَقَالَ : هَكَذَا مُنْكَرٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تمہارے لیے امام کا قراءت کر لینا کافی ہے خواہ وہ پست آواز میں قراءت کرے یا بلند آواز میں کرے۔“ ابوموسیٰ نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے امام احمد بن حنبل سے سیدنا عبداللہ بن عباس سے منقول قراءت کے بارے میں اس روایت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ روایت منکر ہے۔“