کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب : نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
حدیث نمبر: 1209
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي مُوسَى النَّهْرُتِيرِيُّ حَدَّثَهُمْ ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ ، ثنا فَيْضُ بْنُ إِسْحَاقَ الرَّقِّيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى صَلاةً مَكْتُوبَةً مَعَ الإِمَامِ فَلْيَقْرَأْ بِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي سَكَتَاتِهِ ، وَمَنِ انْتَهَى إِلَى أُمِّ الْقُرْآنِ فَقَدْ أَجْزَأَهُ " . مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص امام کے ساتھ نماز ادا کرے اسے امام کے سکتہ کے دوران سورہ فاتحہ پڑھ لینی چاہیے اور جو شخص سورت مکمل پڑھ لے تو ایسا کرنا ہی اس کے لیے کافی ہو گا۔“ محمد بن عبداللہ بن عبید نامی راوی ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 1210
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الإِصْطَخْرِيُّ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ ، مِنْ كِتَابِهِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ ، ثنا أبِي ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ جَوَّابٍ التَّيْمِيِّ ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ عُمَرَ عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ ، فَقَالَ : " اقْرَأْ بِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، قُلْتُ : وَإِنْ كُنْتَ أَنْتَ ؟ قَالَ : وَإِنْ كُنْتُ أَنَا ، قُلْتُ : وَإِنْ جَهَرْتَ ؟ قَالَ : وَإِنْ جَهَرْتُ " . رُوَاتُهُ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
محمد محی الدین
یزید بن شریک بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے امام کی اقتداء میں قراءت کا مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”تم سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو۔“ (راوی کہتے ہیں) میں نے دریافت کیا: اگرچہ (امام) آپ ہوں؟ تو انہوں نے فرمایا: ”اگرچہ (امام) میں ہوں۔“ (راوی کہتے ہیں) میں نے دریافت کیا: اگرچہ آپ بلند آواز سے قراءت کر رہے ہوں؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”اگرچہ میں بلند آواز سے قراءت کر رہا ہوں (پھر بھی تم سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو)۔“ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
حدیث نمبر: 1211
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ جَوَّابٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عُمَرَ عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ ، قَالَ : قُلْتُ وَإِنْ كُنْتَ أَنْتَ ؟ قَالَ : " وَإِنْ كُنْتُ أَنَا " ، قُلْتُ : وَإِنْ جَهَرْتَ ؟ قَالَ : " وَإِنْ جَهَرْتُ " . هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
یزید بن شریک بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے امام کی اقتداء میں قراءت کرنے کا مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے مجھے ہدایت کی: ”میں قراءت کر لیا کروں۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: ”خواہ آپ امام ہوں (تو بھی قراءت کر لیا کروں)؟“ انہوں نے جواب دیا: ”خواہ میں امام ہوں (تو تم بھی قراءت کر لیا کرو)۔“ (راوی کہتے ہیں) میں نے عرض کیا: ”اگرچہ آپ بلند آواز سے قراءت کر رہے ہوں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”اگرچہ میں بلند آواز میں قراءت کر رہا ہوں۔“ اس کی سند مستند ہے۔
حدیث نمبر: 1212
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَتِيقُ ، ثنا إِسْحَاقُ الرَّازِيُّ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، قَالَ : سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ " أَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
محمد محی الدین
عبداللہ بن ہذیل بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا میں امام کے پیچھے قراءت کر لیا کروں؟ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“
حدیث نمبر: 1213
ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، ثنا الْمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيِّ ، وَكَانَ يَسْكُنُ إِيلِيَا ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : " إِنِّي لأَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ مِنْ وَرَاءِ إِمَامِكُمْ " ، قَالَ : قُلْنَا : أَجَلْ ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا ، قَالَ : " فَلا تَفْعَلُوا إِلا بِ أُمِّ الْقُرْآنِ ، فَإِنَّهُ لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا " . هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ .
محمد محی الدین
سیدنا محمود بن ربیع انصاری جو ایلیاء میں قیام پذیر تھے وہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی آپ کو قراءت کرنے میں کچھ دشواری محسوس ہوئی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: ”میرا خیال ہے تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قراءت کر رہے تھے۔“ راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کیا: ”اللہ کی قسم یا رسول اللہ! ایسا ہی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کیا کرو البتہ سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو چونکہ جو شخص اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز (کامل) نہیں ہوتی۔“ یہ سند ’حسن‘ ہے۔
حدیث نمبر: 1214
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَمِّيُّ ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَاضِي ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَقَالَ : " كَأَنَّكُمْ تَقْرَءُونَ خَلْفِي ؟ " ، قُلْنَا : أَجَلْ ، هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَلا تَفْعَلُوا إِلا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَإِنَّهُ لا صَلاةَ إِلا بِهَا " .
محمد محی الدین
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ اسی طرح منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”(یوں لگتا ہے) گویا تم میرے پیچھے قراءت کرتے ہو۔“ ہم نے عرض کیا: ”جی ہاں، یا رسول اللہ! تیزی کے ساتھ ہم قراءت کرتے ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو، البتہ سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو کیونکہ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔“
حدیث نمبر: 1215
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بِهَذَا .
محمد محی الدین
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 1216
أَخْبَرَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ ، ثنا عَمِّي ، ثنا أبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ بِهَذَا ، وَقَالَ فِيهِ " إِنِّي لأَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ خَلْفَ إِمَامِكُمْ إِذَا جَهَرَ " ، قُلْنَا : أَجَلْ ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا ، قَالَ : " لا تَفْعَلُوا إِلا بِ أُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا ".
محمد محی الدین
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ منقول ہیں تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’میرا خیال ہے تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قراءت کرتے ہو جب وہ بلند آواز سے قراءت کر رہا ہوتا ہے۔‘“ ہم نے عرض کی: ”جی ہاں، یا رسول اللہ! اللہ کی قسم ہم تیزی سے پڑھ لیتے ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کیا کرو البتہ سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو کیونکہ جو شخص اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔“
حدیث نمبر: 1217
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ نَافِعٌ : أَبْطَأَ عُبَادَةُ عَنْ صَلاةِ الصُّبْحِ ، فَأَقَامَ أَبُو نُعَيْمٍ الْمُؤَذِّنُ الصَّلاةَ ، وَكَانَ أَبُو نُعَيْمٍ أَوَّلَ مَنْ أَذَّنَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ أَبُو نُعَيْمٍ ، وَأَقْبَلَ عُبَادَةُ وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى صَفَفْنَا خَلْفَ أَبِي نُعَيْمٍ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ فَجَعَلَ عُبَادَةُ يَقْرَأُ بِ أُمِّ الْقُرْآنِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ لِعُبَادَةَ : قَدْ صَنَعْتَ شَيْئًا فَلا أَدْرِي أَسُنَّةٌ هِيَ أَمْ سَهْوٌ ، كَانَتْ مِنْكَ ، قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِ أُمِّ الْقُرْآنِ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ ، قَالَ : أَجَلْ ، صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يُجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : " هَلْ تَقْرَءُونَ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ ؟ " ، فَقَالَ بَعْضُنَا : إِنَّا لَنَصْنَعُ ذَلِكَ ، قَالَ : " فَلا تَفْعَلُوا وَأَنَا أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ؟ فَلا تَقْرَءُوا بِشَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ إِلا بِ أُمِّ الْقُرْآنِ " . كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
محمد محی الدین
سیدنا نافع بن محمود بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ صبح کی نماز میں تاخیر سے پہنچے۔ ابونعیم نامی موذن نے نماز کے لیے اقامت کہہ دی۔ ابونعیم وہ پہلے فرد ہیں جنہوں نے بیت المقدس میں اذان دی تھی، ابونعیم لوگوں کو نماز پڑھانے لگے اسی دوران سیدنا عبادہ بن صامت آگئے۔ میں ان کے ساتھ تھا، ہم نے ابونعیم کی اقتداء میں صف قائم کر لی۔ ابونعیم نے بلند آواز میں قراءت کرنا شروع کی تو سیدنا عبادہ بھی سورہ فاتحہ پڑھنے لگے۔ (راوی کہتے ہیں) جب انہوں نے نماز مکمل کر لی تو میں نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ نے ایک ایسا عمل کیا ہے جس کے بارے میں مجھے اندازہ نہیں ہو سکا کہ کیا یہ سنت ہے؟ یا آپ نے غلطی سے ایسا کر لیا ہے؟“ سیدنا عبادہ نے دریافت کیا: ”وہ کون سا ہے؟“ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: ”آپ کو سورہ فاتحہ پڑھنے ہوئے سنا ہے جبکہ ابونعیم بلند آواز سے قراءت کر رہے تھے۔“ تو حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایسا ہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک نماز پڑھائی جس میں بلند آواز سے قراءت کی جاتی ہے تو اس دوران آپ کو قراءت کرنے میں دشواری ہوئی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے ہماری طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا: ’جب میں بلند آواز میں قراءت کر رہا تھا تو کیا تم بھی قراءت کر رہے تھے؟‘ تو ہم میں سے بعض حضرات نے کہا: ’ہم نے ایسا کیا ہے۔‘ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’تم ایسا نہ کرو۔ میں بھی یہ سوچ رہا تھا کہ کیا قرآن کے حوالے سے میرے ساتھ مقابلہ کیا جا رہا ہے جب میں بلند آواز میں قراءت کر رہا ہوں تو تم قرآن کی قراءت نہ کیا کرو البتہ سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو۔‘“ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
حدیث نمبر: 1218
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو ، بِدِمَشْقَ ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْهُمْ : سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مَحْمُودٍ أَبِي نُعَيْمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " هَلْ تَقْرَءُونَ فِي الصَّلاةِ مَعِيَ ؟ " ، قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : " فَلا تَفْعَلُوا إِلا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " . وَقَالَ ابْنُ صَاعِدٍ : قَوْلُهُ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ إِنَّمَا كَانَ أَبُو نُعَيْمٍ الْمُؤَذِّنُ وَلَيْسَ هُوَ كَمَا قَالَ الْوَلِيدُ ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ ، عَنْ عُبَادَةَ.
محمد محی الدین
ابونعیم بیان کرتے ہیں: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے: ”کیا تم لوگ میرے ساتھ نماز ادا کرتے ہوئے قراءت کرتے ہو؟“ ہم نے عرض کی: ”جی ہاں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو ہاں البتہ سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 1219
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ الْحِمْصِيُّ ، ثنا بَقِيَّةُ ، ثنا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : سَأَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ تَقْرَءُونَ مَعِيَ وَأَنَا أُصَلِّي ؟ " ، قُلْنَا : إِنَّا نَقْرَأُ نَهُذُّهُ هَذًّا وَنَدْرُسُهُ دَرْسًا ، قَالَ : " فَلا تَقْرَءُوا إِلا بِ أُمِّ الْقُرْآنِ سِرًّا فِي أَنْفُسَكُمْ " . هَذَا مُرْسَلٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دریافت کیا: ”کیا تم لوگ میرے ساتھ قراءت کرتے ہو، جب میں نماز پڑھ رہا ہوتا ہوں؟“ ہم نے عرض کیا: ”ہم قراءت کرتے ہیں لیکن ہم تیزی سے پڑھ لیتے ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم قراءت نہ کیا کرو البتہ سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو اور وہ بھی دل میں پڑھا کرو۔“ یہ روایت مرسل ہے۔
حدیث نمبر: 1220
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو قَالا : نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، ثنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ ، وَمَكْحُولٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، كَذَا قَالَ إِنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، يَقْرَأُ بِ أُمِّ الْقُرْآنِ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ ، فَقُلْتُ : رَأَيْتُكَ صَنَعْتَ فِي صَلاتِكَ شَيْئًا ، قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِ أُمِّ الْقُرْآنِ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ ، قَالَ : نَعَمْ ، صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يُجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ : " مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَقْرَأُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ ؟ " ، قُلْنَا : نَعَمْ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَنَا أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ فَلا يَقْرَأَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ إِلا بِ أُمِّ الْقُرْآنِ " . هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ كُلُّهُمْ . وَرَوَاهُ يَحْيَى الْبَابَلُتِّيُّ ، عَنْ صَدَقَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودٍ .
محمد محی الدین
نافع بن محمود بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو (باجماعت نماز میں) سورہ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا، ابونعیم (امام صاحب) بلند آواز سے قراءت کر رہے تھے۔ (نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں نے سیدنا عبادہ سے کہا) میں نے آپ کو نماز کے دوران ایک ایسا عمل کرتے ہوئے دیکھا ہے (جس پر مجھے حیرانگی ہوئی ہے)۔ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”وہ کون سا ہے؟“ نافع نے کہا: ”میں نے آپ کو سورہ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا ہے حالانکہ امام بلند آواز میں قراءت کر رہے تھے۔“ تو سیدنا عبادہ نے فرمایا: ”جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک نماز پڑھائی جس میں آپ نے بلند آواز میں قراءت کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: ’جب میں بلند آواز میں قراءت کر رہا تھا کیا تم میں سے کوئی شخص قرآن کی تلاوت کر رہا تھا؟‘ ہم نے عرض کی: ’جی ہاں یا رسول اللہ!‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’میں بھی یہ سوچ رہا تھا کہ کیا قرآن میں میرے ساتھ مقابلہ کیا جا رہا ہے، تم میں سے کوئی بھی شخص قرآن کا کوئی بھی حصہ نہ پڑھے اس وقت جب میں بلند آواز میں قراءت کر رہا ہوں البتہ سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو۔‘“ اس روایت کی سند ’حسن‘ ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 1221
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ الْحَرَّانِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الضَّحَّاكِ ، ثنا صَدَقَةُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ ، وَقَالَ فِيهِ : " فَلا يَقْرَأَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلا بِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، فَإِنَّهُ لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا ".
محمد محی الدین
نافع بن محمود بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کی ہے (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے) تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا): ”تم میں سے کوئی بھی شخص ہرگز قراءت نہ کرے البتہ سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرے کیونکہ جو شخص اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔“
حدیث نمبر: 1222
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْوَانَ الْعَتِيقُ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَامَ إِلَى جَنْبِي عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَقَرَأَ مَعَ الإِمَامِ وَهُوَ يَقْرَأُ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ لَهُ : أَبَا الْوَلِيدِ ، تَقْرَأُ وَتَسْمَعُ وَهُوَ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، إِنَّا قَرَأْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَلَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ سَبَّحَ ، فَقَالَ لَنَا حِينَ انْصَرَفَ : " هَلْ قَرَأَ مَعِيَ أَحَدٌ ؟ " ، قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : " قَدْ عَجِبْتُ ، قُلْتُ مَنْ هَذَا الَّذِي يُنَازِعُنِي الْقُرْآنَ ، إِذَا قَرَأَ الإِمَامُ فَلا تَقْرَءُوا مَعَهُ إِلا بِ أُمِّ الْقُرْآنِ ، فَإِنَّهُ لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا " . مُعَاوِيَةُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ أَبِي فَرْوَةَ ضَعِيفَانِ.
محمد محی الدین
سیدنا محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ میرے ساتھ آکر کھڑے ہوئے اور انہوں نے امام کی اقتداء میں قراءت شروع کر دی، حالانکہ امام بھی اس وقت قراءت کر رہا تھا۔ جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو میں نے ان سے کہا: ابوولید! آپ بھی قراءت کرنے لگ پڑے تھے، حالانکہ آپ سن رہے تھے کہ امام بلند آواز میں قراءت کر رہا ہے۔ تو سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں، ایک مرتبہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں اسی طرح قراءت کی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قراءت میں دشواری ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سبحان اللہ“ کہا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”کیا کوئی شخص میرے ساتھ قراءت کر رہا تھا؟“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھی حیران ہو رہا تھا، میں یہ سوچ رہا تھا کہ کون شخص میرے ساتھ قرآن میں مقابلہ کر رہا ہے۔ جب امام قراءت کر رہا ہو، تو تم اس کے ساتھ قراءت نہ کیا کرو، البتہ سورۃ فاتحہ پڑھ لیا کرو، کیونکہ جو شخص اسے نہیں پڑھتا، اس کی نماز نہیں ہوتی۔“ معاویہ رحمہ اللہ اور اسحاق بن ابوفروہ رحمہ اللہ نامی راوی ضعیف ہیں۔
حدیث نمبر: 1223
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى صَلاةً مَكْتُوبَةً أَوْ تَطَوُّعًا فَلْيَقْرَأْ فِيهَا بِ أُمِّ الْكِتَابِ وَسُورَةً مَعَهَا ، فَإِنِ انْتَهَى إِلَى أُمِّ الْكِتَابِ فَقَدْ أَجْزَى ، وَمَنْ صَلَّى صَلاةً مَعَ إِمَامٍ يَجْهَرُ ، فَلْيَقْرَأْ بِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي بَعْضِ سَكَتَاتِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَصَلاتُهُ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ " . مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص فرض یا نفل نماز ادا کر رہا ہو، وہ اس میں سورہ فاتحہ پڑھے اور اس کے ساتھ ایک سورت کی تلاوت کرے اگر وہ صرف سورہ فاتحہ پڑھتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے کافی ہو گی، اور جو شخص امام کے ساتھ نماز ادا کر رہا ہو جس میں امام بلند آواز سے قراءت کر رہا ہو تو اسے چاہیے کہ امام کے سکوت کے دوران سورہ فاتحہ پڑھ لے اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو اس کی نماز نامکمل ہو گی پوری نہیں ہو گی۔“ محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر نامی راوی ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 1224
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَخْرُجَ يُنَادِي فِي النَّاسِ أَنْ لا صَلاةَ إِلا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، فَمَا زَادَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی تھی کہ وہ جا کر لوگوں میں یہ اعلان کریں: ”نماز اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک سورہ فاتحہ نہ پڑھ لی جائے اور مزید تلاوت نہ کی جائے۔“
حدیث نمبر: 1225
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، ثنا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمَانَ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لِسَوَّارٍ ، قَالُوا : ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ " . قَالَ زِيَادٌ فِي حَدِيثِهِ : " لا تُجْزِيءُ صَلاةٌ لا يَقْرَأُ الرَّجُلُ فِيهَا بِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ " ، هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
محمد بن ربیع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے یہ بات نقل کی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا۔“ زیاد نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”اس شخص کی نماز درست نہیں ہوتی جو شخص اس میں سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا۔“ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 1226
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِ أُمِّ الْقُرْآنِ " . هَذَا صَحِيحٌ أَيْضًا وَكَذَلِكَ رَوَاهُ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، وَمَعْمَرٌ ، وَالأَوْزَاعِيُّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَغَيْرُهُمْ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
محمد محی الدین
سیدنا محمود بن ربیع، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا۔“ (یہ روایت بھی مستند ہے) یہی روایت بعض دیگر راویوں نے بھی نقل کی ہے۔
حدیث نمبر: 1227
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ ، ثنا مُوسَى بْنُ شَيْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كُلَيْبٍ هُوَ ابْنُ جَابِرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَابِرٍ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الإِمَامُ ضَامِنٌ فَمَا صَنَعَ فَاصْنَعُوا " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : هَذَا تَصْحِيحٌ لِمَنْ قَالَ بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”امام ضامن ہوتا ہے جو وہ کرتے تم بھی وہ کرو۔“ شیخ ابوحاتم نے یہ بات بیان کی ہے اس روایت سے ان لوگوں کے موقف کی تصدیق ہوتی ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ امام کی اقتداء میں قراءت کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 1228
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ الْمَرْوَزِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَلادٍ ، ثنا أَشْهَبُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُمُّ الْقُرْآنِ عِوَضٌ مِنْ غَيْرِهَا وَلَيْسَ غَيْرُهَا مِنْهَا بِعِوَضٍ " . تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ خَلادٍ ، عَنْ أَشْهَبَ ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمد محی الدین
محمود بن ربیع، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سورہ فاتحہ دیگر تمام سورتوں کا عوض ہے، لیکن کوئی دوسری سورت اس کا عوض نہیں ہو سکتی۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں محمد بن خلاد نامی راوی منفرد ہے۔
حدیث نمبر: 1229
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ النُّعْمَانِ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، كَانَ يَأْمُرُ ، أَوْ يَقُولُ : " اقْرَأْ خَلْفَ الإِمَامِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ بِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، وَسُورَةٍ ، وَفِي الأُخْرَيَيْنِ بِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہ ہدایت کرتے تھے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یہ فرمایا کرتے تھے: ”امام کی اقتداء میں پہلی دو رکعت میں سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی سورت پڑھا کرو اور آخری دو رکعت میں صرف سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو۔“
حدیث نمبر: 1230
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِيُّ ، ثنا شَاذَانُ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ " أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ أَوْ يُحِبُّ أَنْ يَقْرَأَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ بِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، وَسُورَةٍ ، وَفِي الأُخْرَيَيْنِ بِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ " . هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَنْ شُعْبَةَ .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ اس بات کا حکم دیتے تھے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) وہ اس بات کو پسند کرتے تھے: ”ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعت میں سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی ایک سورت پڑھی جائے اور آخری دو رکعت میں صرف سورہ فاتحہ پڑھی جائے اس وقت جب انسان امام کی اقتداء میں نماز ادا کر رہا ہو۔“ اس روایت کی سند مستند ہے۔
حدیث نمبر: 1231
حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ بْنِ الصَّلْتِ ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ أَسْلَمَ ، ثنا شُعْبَةُ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 1232
ثنا ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْخَضِرِ ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ عَلِيٌّ ، يَقُولُ : " اقْرَءُوا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ خَلْفَ الإِمَامِ بِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، وَسُورَةٍ " . وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہ ارشاد فرماتے ہیں: ”ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعت میں امام کی اقتداء میں سورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی سورت پڑھا کرو۔“ اس کی سند مستند ہے۔