کتب حدیثسنن الدارقطنيابوابباب : ایک کپڑا پہن کر نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 1091
قُرِئَ عَلَى يَحْيَى بْنِ صَاعِدٍ ، حَدَّثَكُمْ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، ثنا هِشَامٌ الْقُرْدُوسِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُصَلِّي الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ؟ قَالَ : " أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ ؟ " ، قَالَ : فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَيُصَلِّي الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ؟ قَالَ : إِذَا وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَأَوْسِعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ ، ثُمَّ جَمَعَ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ فَصَلَّى فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ ، فِي إِزَارٍ وَقَمِيصٍ ، فِي إِزَارٍ وَقَبَاءٍ ، فِي سَرَاوِيلَ وَرِدَاءٍ ، فِي سَرَاوِيلَ وَقَمِيصٍ ، فِي سَرَاوِيلَ وَقَبَاءٍ ، قَالَ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : فِي تُبَّانٍ وَقَمِيصٍ ، فِي تُبَّانٍ وَرِدَاءٍ ، فِي تُبَّانٍ وَقَبَاءٍ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص کھڑا ہوا اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز ادا کر سکتا ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم سب لوگوں کے پاس دو کپڑے ہیں؟“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک شخص ان کے سامنے کھڑا ہوا اور بولا: ”اے امیر المؤمنین! کیا کوئی شخص ایک کپڑا پہن کر نماز ادا کر سکتا ہے؟“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”جب اللہ نے تمہیں گنجائش دی ہے تو تم بھی اپنے آپ کو گنجائش دو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد وہ شخص تہبند پہن کر اوپر چادر اوڑھ کر یا قمیص پہن کر اور تہبند پہن کر، یا شلوار پر قباء پہن کر یا شلوار پہن کر اور اوپر چادر لپیٹ کر یا شلوار پہن کر اور اوپر قمیص پہن کر یا قباء پہن کر نماز پڑھا کرتا تھا۔ راوی کو شک ہے: شاید یہ الفاظ ہیں: وہ پائجامہ اور قمیص پہن کر یا پائجامہ پہن کر اوپر چادر لپیٹ کر یا پائجامہ پہن کر اوپر قباء پہن کر نماز ادا کیا کرتا تھا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1091
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 358، 365، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 515، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 465 ، 466، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 758، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1714، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 762 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 625، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1410، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1047، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1091، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 966، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 149، 1117، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7270»
حدیث نمبر: 1092
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نا عُثْمَانُ بْنُ خَرَّزَاذَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمْ يَمُتْ نَبِيٌّ حَتَّى يَؤُمَّهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ " . ابْنُ أَبِي أُمَيَّةَ لَيْسَ بِقَوِيٍّ.
محمد محی الدین
عروہ بن مغیرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”کسی بھی نبی کا اس وقت تک وصال نہیں ہوا جب تک اس کی قوم کے کسی شخص نے اس کی امامت نہیں کی۔“ (امام دارقطنی رحمہ اللہ یہ کہتے ہیں) اس روایت کا ایک راوی ابن ابوامیہ مستند نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1092
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 895، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1092»
«قال الدارقطني: ابْنُ أَبِى أُمَيَّةَ لَيْسَ بِقَوِىٍّ.»