حدیث نمبر: 1085
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، ثنا الْمُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ الأَنْصَارِيُّ ، نا الْحَجَّاجُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَؤُمُّ النَّاسَ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً ، وَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَفْقَهُهُمْ فِي الدِّينِ ، وَإِنْ كَانُوا فِي الدِّينِ سَوَاءً فَأَقْرَؤُهُمْ لِلْقُرْآنِ ، وَلا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي سُلْطَانِهِ وَلا يُقْعَدُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلا بِإِذْنِهِ " ، وَكَانَ يُسَوِّي مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلاةِ ، وَيَقُولُ : " لا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ ، وَلْيَلِيَنِي مِنْكُمْ أُولُو الأَحْلامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”لوگوں کی امامت وہ کرے جس نے سب سے پہلے ہجرت کی ہو، اگر وہ سب ہجرت میں برابر ہوں تو وہ امامت کرے جسے دین کی سمجھ حاصل ہو اگر وہ دین کی معلومات کے لحاظ سے برابر ہوں تو وہ شخص امامت کرے جو قرآن کو زیادہ اچھی طرح پڑھ سکتا ہو (یا جسے قرآن کی زیادہ آیات یاد ہوں) کوئی شخص کسی دوسرے کی بادشاہی میں، یعنی اس کے گھر میں جہاں وہ بڑا ہو اس کی امامت نہ کرے اور اس کے بیٹھنے کی مخصوص جگہ پر نہ بیٹھے البتہ اس کی اجازت کے ساتھ بیٹھ سکتا ہے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں): نماز کے آغاز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے کندھے سیدھے کروایا کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے تھے: ”تم آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف آ جائے گا اور تم میں سے میرے نزدیک زیادہ سمجھ دار اور تجربہ کار لوگ کھڑے ہوں، پھر اس کے بعد درجہ بدرجہ (سمجھدار اور تجربہ کار) لوگ کھڑے ہوں۔“
حدیث نمبر: 1086
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نا أَبُو الزِّنْبَاعِ ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، نا اللَّيْثُ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَكْثَرُهُمْ قُرْآنًا ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقُرْآنِ وَاحِدًا فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ وَاحِدًا فَأَفْقَهُهُمْ فِقْهًا ، فَإِنْ كَانَ الْفِقْهُ وَاحِدًا فَأَكْبَرُهُمْ سِنًّا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو قرآن زیادہ جانتا ہو اگر وہ قرآن کے علم کے حوالے سے برابر ہوں تو وہ شخص کرے، جس نے پہلے ہجرت کی ہو اگر وہ ہجرت کے حساب سے برابر ہوں تو وہ شخص ان کی امامت کرے جس کو دین کی زیادہ معلومات ہوں اور اگر وہ دین کے علم کے حساب سے برابر ہوں تو پھر وہ شخص امامت کرے جس کی عمر زیادہ ہو۔“