کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب : اذان اور امامت کا حکم دینا، ان دونوں کا زیادہ حق دار کون ہوگا ؟
حدیث نمبر: 1068
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثنا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ : أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَقِيقًا فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا إِلَى أَهْلِنَا ، وَسَأَلْنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا فِي أَهْلِنَا فَأَخْبَرَنَاهُ ، فَقَالُ : " ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ ، فَأَقِيمُوا فِيهِمْ وَعَلِّمُوهُمْ وَبِرُّوهُمْ وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي ، وَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم جوان لوگ تھے ہماری عمریں ایک دوسرے کے قریب قریب تھیں ہم آپ کی خدمت میں بیس دن ٹھہرے رہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے مہربان اور نرم طبیعت کے مالک تھے، آپ کو یہ اندازہ ہو گیا کہ اب ہمارے لیے اپنے گھر سے دور رہنا مشکل ہو رہا ہے آپ نے ہم سے اس بارے میں دریافت کیا ہم اپنے گھر میں کیا چھوڑ کر آئے ہیں ہم نے آپ کو بتایا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اب اپنے گھر واپس چلے جاؤ، اور وہیں قیام کرو ان لوگوں کو تعلیم دو ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو جس طرح تم نے مجھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے اسی طرح نماز ادا کرتے رہنا، جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور تم میں سے جو شخص عمر میں بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرائے۔“
حدیث نمبر: 1069
ثنا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ثنا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، ثنا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ ، وَقَالَ فِيهِ أَيْضًا : " صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي " .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا مالک بن حویرث کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”تم لوگ اسی طرح نماز ادا کرو جس طرح تم نے مجھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“
حدیث نمبر: 1070
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، ثنا أبِي ، نا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ أَبُو سَعِيدٍ الأَحْوَلُ الْهِلالِيُّ ، ثنا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اجْتَمَعَ ثَلاثَةٌ أَمَّهُمْ أَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمْ بِالإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تین آدمی اکٹھے ہوں تو ان میں سے کوئی ایک ان کی امامت کروائے، (یعنی انہیں باجماعت نماز ادا کرنی چاہیے) اور ان میں سے امامت کا زیادہ حق دار وہ ہو گا جو قراءت اچھے طریقے سے کر سکتا ہو (یا زیادہ آیات کا حافظ ہو)۔“