کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب : قبلہ (کی سمت معلوم کرنے کے لیے ) اجتہاد کرنا اور اس بارے میں اندازہ لگانے کا جائز ہونا۔
حدیث نمبر: 1060
حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الْخَلالُ يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ ، بِالْبَصْرَةِ ، نا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”(مدینہ منورہ کے حساب سے) مشرق اور مغرب کی درمیانی جگہ قبلہ ہے۔“
حدیث نمبر: 1061
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا جَابِرُ بْنُ الْكُرْدِيِّ ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُجَبِّرِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”(مدینہ منورہ کے حساب سے) مشرق اور مغرب کی درمیانی جگہ قبلہ ہے۔“
حدیث نمبر: 1062
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ أَبُو مُحَمَّدٍ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ الْعَرْزَمِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً كُنْتُ فِيهَا ، فَأَصَابَتْنَا ظُلْمَةٌ فَلَمْ تُعْرَفِ الْقِبْلَةُ ، فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنَّا : قَدْ عَرَفْنَا الْقِبْلَةَ هِيَ هَاهُنَا قِبَلَ الشِّمَالِ فَصَلُّوا وَخَطُّوا خَطًّا ، وَقَالَ بَعْضُنَا : الْقِبْلَةُ هَاهُنَا قِبَلَ الْجَنُوبِ وَخَطُّوا خَطًّا ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا وَطَلَعَتِ الشَّمْسُ أَصْبَحَتْ تِلْكَ الْخُطُوطُ لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ ، فَلَمَّا قَفَلْنَا مِنْ سَفَرِنَا سَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَسَكَتَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115 ، أَيْ حَيْثُ كُنْتُمْ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم روانہ کی، میں بھی اس میں موجود تھا۔ ایک مرتبہ انتہائی تاریکی میں ہمیں قبلہ کی سمت کا اندازہ نہ ہو سکا۔ ہم میں سے کچھ لوگوں نے کہا: ہمیں قبلہ کا اندازہ ہو گیا ہے، وہ اس طرف ہے۔ انہوں نے شمال کی طرف اشارہ کیا، اس طرف رخ کر کے نماز ادا کی، اور یادداشت کے طور پر ایک لکیر لگائی۔ بعض نے کہا: قبلہ اس سمت ہے۔ انہوں نے جنوب کی طرف اشارہ کیا اور اس طرف لکیر لگائی۔ جب صبح ہوئی اور سورج نکلا تو دونوں لکیریں قبلہ کی سمت میں نہ تھیں۔ جب ہم سفر سے واپس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ خاموش رہے۔ پھر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”مشرق اور مغرب اللہ ہی کے لیے ہیں، تم جس طرف بھی رخ کرو گے، وہاں اللہ کی ذات موجود ہو گی۔“
حدیث نمبر: 1063
قَالَ : وَنا قَالَ : وَنا عَبْدُ الْمَلِكِ الْعَرْزَمِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهَا نزلت فِي التَّطَوُّعِ خَاصَّةً حَيْثُ تَوَجَّهَ بِكَ بَعِيرُكَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”یہ آیت بطور خاص نفل نماز کے بارے میں نازل ہوئی تھی یعنی تمہاری سواری کا رخ جس طرح بھی ہو گا تم اس طرف منہ کر کے نماز پڑھ سکتے ہو۔“
حدیث نمبر: 1064
قُرِئَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ أَوْ سَفَرٍ فَأَصَابَنَا غَيْمٌ فَتَحَيَّرْنَا فَاخْتَلَفْنَا فِي الْقِبْلَةِ فَصَلَّى كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا عَلَى حِدَةٍ وَجَعَلَ أَحَدُنَا يَخُطُّ بَيْنَ يَدَيْهِ لِنَعْلَمَ أَمْكِنَتَنَا ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَأْمُرْنَا بِالإِعَادَةِ ، وَقَالَ : " قَدْ أَجْزَأَتْ صَلاتُكُمْ " . كَذَا قَالَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ ، وَقَالَ غَيْرُهُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ وَهُمَا ضَعِيفَانِ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں شریک تھے اور اسی دوران اندھیرا چھا گیا، ہم بہت پریشان ہوئے قبلہ کے بارے میں ہمارے درمیان اختلاف ہو گیا ہم میں سے ہر شخص نے اپنی پسندیدہ جہت کی طرف رخ کر کے نماز ادا کر لی اور کچھ لوگوں نے اپنے سامنے نشان بھی لگایا، تاکہ ہمیں اپنی جگہ کے بارے میں یاد رہے بعد میں اس کا تذکرہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے ہمیں نماز کو دہرانے کا حکم نہیں دیا، آپ نے یہ ارشاد فرمایا: ”تمہاری نماز درست ہوئی ہے۔“ محمد بن سالم نامی راوی کے حوالے سے اسی طرح منقول ہے، جبکہ بعض دیگر راویوں نے اسے دوسری سند سے نقل کیا ہے اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں۔
حدیث نمبر: 1065
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، ثنا وَكِيعٌ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، ثنا وَكِيعٌ ، ثنا أَشْعَثُ السَّمَّانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ فَلَمْ نَدْرِ كَيْفَ الْقِبْلَةُ ، فَصَلَّى كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا عَلَى حِيَالِهِ ، قَالَ : فَلَمَّا أَصْبَحْنَا ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فنزلت : فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115 " .
محمد محی الدین
عبداللہ بن عامر رحمہ اللہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم نے ایک سفر کے دوران انتہائی تاریک رات میں نماز ادا کی۔ ہمیں قبلہ کی سمت کا پتہ نہ چل سکا۔ ہم میں سے ہر شخص نے جس طرف اس کا رخ تھا، اسی طرف منہ کر کے نماز پڑھ لی۔ اگلے دن ہم نے اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ”تم جہاں بھی ہو، وہاں اللہ کی ذات موجود ہو گی۔“
حدیث نمبر: 1066
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، وَعَلِيُّ بْنُ أَشْكَابَ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالا : نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا أَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ بِهَذَا ، وَقَالَ : " فَجَعَلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا بَيْنَ يَدَيْهِ أَحْجَارًا يُصَلِّي إِلَيْهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا نَحْنُ إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ " فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ہم میں سے ہر شخص نے اپنے سامنے کی سمت موجود پتھروں کی طرف منہ کر کے نماز ادا کر لی جب صبح ہوئی تو ہمارا رخ قبلہ کی طرف نہیں تھا، ہم نے اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے)۔
حدیث نمبر: 1067
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ ، بِهَذَا مثل قَوْلِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔