کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب : صبح صادق کی علامت ، شفق کی علامت اور ان کی وجہ سے کون سی نماز فرض ہوتی ہے ؟
حدیث نمبر: 1053
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، نا يَزِيدُ ، نا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْفَجْرُ فَجْرَانِ فَأَمَّا الْفَجْرُ الَّذِي يَكُونُ كَذَنَبِ السَّرْحَانِ فَلا يُحِلُّ الصَّلاةَ وَلا يُحَرِّمُ الطَّعَامَ ، وَأَمَّا الَّذِي يَذْهَبُ مُسْتَطِيلا فِي الأُفُقِ فَإِنَّهُ يُحِلُّ الصَّلاةَ وَيُحَرِّمُ الطَّعَامَ " .
محمد محی الدین
محمد بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”صبح صادق دو قسم کی ہوتی ہے، ایک وہ صبح صادق ہوتی ہے جو سانپ کی دم کی طرح (چوڑائی کی سمت میں) پھیلتی ہے، ایسے وقت میں (فجر کی نماز) ادا کرنا جائز نہیں ہوتا اور سحری کرنے والے کے لیے کھانا حرام نہیں ہوتا، البتہ جو (روشنی) افق میں لمبائی کی سمت میں پھیلتی ہے وہ (فجر کی) نماز کو حلال کر دیتی ہے (یعنی اس وقت نماز کا وقت شروع ہو جاتا ہے) اور سحری کرنے والے کے لیے کھانے کو حرام کر دیتی ہے (یعنی اس وقت سحری کا وقت ختم ہو جاتا ہے)۔“