کتب حدیثسنن الدارقطنيابوابباب : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی امامت کا واقعہ
حدیث نمبر: 1009
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، إِمْلاءً ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، ثنا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : " جَاءَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ ، فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ ، فَجَاءَهُ الْعَصْرَ ، فَقَالَ : قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الْعَصْرَ ، فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ ، فَقَامَ فَصَلاهَا حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ سَوَاءً ، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى ذَهَبَ الشَّفَقُ فَجَاءَهُ ، فَقَالَ : قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ ، فَقَامَ فَصَلاهَا ، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ بِالصُّبْحِ ، فَقَالَ : قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ ، فَقَامَ فَصَلَّى الصُّبْحَ ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ ، فَقَالَ : قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَيْهِ ، فَقَالَ : قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الْعَصْرَ فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلْمَغْرِبِ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا لَمْ يَزَلْ عَنْهُ ، قَالَ : قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلْعِشَاءِ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلُ ، فَقَالَ : قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ فَصَلَّى ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلصُّبْحِ حِينَ أَسْفَرَ جِدًّا ، فَقَالَ : قُمْ فَصَلِّ الصُّبْحَ ، ثُمَّ قَالَ : مَا بَيْنَ هَذَيْنِ كُلُّهُ وَقْتٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت سورج ڈھل چکا تھا اور بولے: ”اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! اٹھیے اور ظہر کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج ڈھل جانے کے بعد ظہر کی نماز ادا کی۔ پھر کچھ وقت گزر گیا اتنا کہ جب کسی شخص کا سایہ اس کے جتنا ہو جاتا تو وہ عصر کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے: ”اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! اٹھیے اور عصر کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے عصر کی نماز ادا کی، پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، تو جبرائیل علیہ السلام بولے: ”اٹھیے اور مغرب کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے یہ نماز اس وقت ادا کی جب سورج مکمل غروب ہو چکا تھا، پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ شفق رخصت ہو گئی، تو جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے: ”اٹھیے اور عشاء کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے یہ نماز ادا کی، پھر جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب صبح صادق ہو چکی تھی، وہ بولے: ”اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! اٹھیے اور نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے صبح کی نماز ادا کی، اگلے دن جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ظہر کے وقت اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے جتنا ہو چکا تھا، اور بولے: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! اٹھیے اور ظہر کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے ظہر کی نماز ادا کی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس سے دوگنا ہو چکا ہوتا ہے اور بولے: ”اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! اٹھیے اور عصر کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے عصر کی نماز ادا کی پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مغرب کے وقت آئے جب سورج غروب ہو چکا تھا، یہ وہی ایک ہی وقت تھا (اس میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی) وہ بولے: ”اٹھیے اور مغرب کی نماز ادا کیجیے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا کی، پھر جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عشاء کی نماز کے لیے اس وقت آئے جب ایک تہائی رات گزر چکی تھی اور بولے: ”اٹھیے اور عشاء کی نماز ادا کیجیے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز ادا کی، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صبح کی نماز کے لیے اس وقت آئے جب روشنی اچھی طرح پھیل چکی تھی، اور بولے: ”اٹھیے اور صبح کی نماز ادا کیجیے۔“ پھر انہوں نے بتایا: ”ان دونوں کے درمیان کا وقت (نمازوں کا مخصوص شرعی) وقت ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1009
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 560، 565، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 646، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 353، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1472، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 700، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 503 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 397، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 150، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1222،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1009، 1010، 1011، 1012، 1013، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14467»
حدیث نمبر: 1010
ثنا الْقَاضِي أَبُو عُمَرَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، ثنا جَابِرٌ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1010
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 560، 565، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 646، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 353، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1472، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 700، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 503 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 397، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 150، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1222،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1009، 1010، 1011، 1012، 1013، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14467»
حدیث نمبر: 1011
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ ، بِالْبَصْرَةِ ، ثنا عَمْرُو بْنُ بِشْرٍ الْحَارِثُ ، ثنا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنَّ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ الصَّلاةَ ، فَجَاءَهُ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، فَتَقَدَّمَ جَبْرَائِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ صَارَ الظِّلُّ مثل قَامَةِ شَخْصِ الرَّجُلِ ، فَتَقَدَّمَ جَبْرَائِيلُ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ فَتَقَدَّمَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ ، وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ ، وَقَالَ فِيهِ : ثُمَّ أَتَاهُ الْيَوْمَ الثَّانِيَ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ لِوَقْتٍ وَاحِدٍ فَتَقَدَّمَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ ، وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ : ثُمَّ قَالَ : مَا بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ وَقْتٌ ، قَالَ : فَسَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلاةِ ، فَصَلَّى بِهِمْ كَمَا صَلَّى بِهِ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ ، ثُمَّ قَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الصَّلاةِ ؟ مَا بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ وَقْتٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو نماز کے بارے میں بتائیں وہ آپ کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈھل چکا تھا، جبرائیل علیہ السلام آگے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے پھر آپ نے ظہر کی نماز ادا کی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو گیا جبرائیل علیہ السلام آگے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو چکا تھا، جبرائیل علیہ السلام آگے کھڑے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے انہوں نے مغرب کی نماز ادا کی۔ اس کے بعد انہوں نے باقی حدیث ذکر کی ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: اگلے دن جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو چکا تھا یہ ایک ہی وقت تھا جبرائیل آگے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے انہوں نے مغرب کی نماز ادا کی۔ اس روایت کے آخر میں یہ ہے: جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ”ان دونوں نمازوں کے درمیان (نمازوں کا شرعی) وقت ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں (کے اوقات) کے بارے میں دریافت کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس طرح نماز پڑھائی جس طرح جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو پڑھائی تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے؟ ان دونوں (اوقات کے) کے درمیان نماز کا وقت ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1011
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 560، 565، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 646، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 353، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1472، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 700، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 503 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 397، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 150، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1222،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1009، 1010، 1011، 1012، 1013، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14467»
حدیث نمبر: 1012
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ ، ثنا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ ، نا عَبْدُ الْكَرِيمِ . ح وَثنا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ . ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّنِي جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ بِمَكَّةَ مَرَّتَيْنِ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ فِيهِ : " وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي فِي وَقْتِهَا بِالأَمْسِ " . حَدِيثُ صَالِحِ بْنِ مَالِكٍ مُخْتَصَرٌ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جبرائیل نے مکہ میں مجھے دو بار نماز پڑھائی۔“ اس کے بعد انہوں نے حدیث ذکر کی ہے، جس میں ان کے یہ الفاظ ہیں: ”اور مغرب کی نماز اس وقت ادا کی جب سورج غروب ہو چکا تھا، اگلے دن بھی مغرب کی نماز اس وقت میں ادا کی جس وقت میں پہلے دن ادا کی تھی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1012
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 560، 565، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 646، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 353، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1472، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 700، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 503 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 397، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 150، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1222،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1009، 1010، 1011، 1012، 1013، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14467»
حدیث نمبر: 1013
حَدَّثَنَا ابْنُ مَنِيعٍ ، ثنا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلا جَاءَ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ الصَّلاةِ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ يَوْمًا بِهَذَا وَيَوْمًا بِهَذَا ثُمَّ قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الصَّلاةَ ؟ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص آیا اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں اوقات میں نماز پڑھائی ایک دن اس وقت میں اور ایک دن اس وقت میں اور ارشاد فرمایا: ”نماز کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے؟ ان دونوں اوقات کے درمیان (نمازوں کا مخصوص وقت) ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1013
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 560، 565، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 646، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 353، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1472، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 700، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 503 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 397، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 150، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1222،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1009، 1010، 1011، 1012، 1013، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14467»
حدیث نمبر: 1014
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَدَنِيُّ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا بُنْدَارٌ ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، ومُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا : نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّنِي جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ مَرَّتَيْنِ عِنْدَ الْبَيْتِ " ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ فِيهِ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي : " وَصَلَّى بِي الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ وَقْتًا وَاحِدًا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جبرائیل نے بیت اللہ کے پاس دو مرتبہ مجھے نماز پڑھائی۔“ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے جس میں دوسرے دن کے بارے میں انہوں نے یہ بات نقل کی ہے: (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) ”انہوں نے مجھے مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ افطاری کر لیتا ہے یہ ایک ہی وقت تھا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1014
تخریج حدیث «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 167، 168، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 325، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 698، 704، 705، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 393، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 149، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1732، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1014، 1015، 1016، 1017، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3140»
حدیث نمبر: 1015
ثنا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا : نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ جَبْرَائِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِ الصَّلَوَاتِ وَقْتَيْنِ إِلا الْمَغْرِبَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام نمازیں دو اوقات میں پڑھائیں البتہ مغرب کی نماز (ایک ہی وقت میں پڑھائی)۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1015
تخریج حدیث «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 167، 168، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 325، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 698، 704، 705، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 393، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 149، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1732، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1014، 1015، 1016، 1017، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3140»
حدیث نمبر: 1016
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ خَالِدٍ ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا بِطُولِهِ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1016
تخریج حدیث «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 167، 168، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 325، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 698، 704، 705، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 393، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 149، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1732، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1014، 1015، 1016، 1017، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3140»
حدیث نمبر: 1017
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، ثنا جَدِّي ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّنِي جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ بِمَكَّةَ مَرَّتَيْنِ ، فَجَاءَنِي فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ فَذَكَرَ الْمَوَاقِيتَ " ، وَقَالَ : " ثُمَّ جَاءَنِي حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى بِي الْمَغْرِبَ ، وَكَذَلِكَ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي وَقْتًا وَاحِدًا " .
محمد محی الدین
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بیان کی ہے: ”جبرائیل علیہ السلام نے مجھے مکہ میں دو مرتبہ نماز پڑھائی۔“ پہلی مرتبہ وہ میرے پاس آئے پھر انہوں نے نماز کے اوقات کا ذکر کیا (اس کے بعد روایت میں یہ الفاظ ہیں): نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”وہ میرے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو چکا تھا انہوں نے مجھے مغرب کی نماز پڑھائی اس طرح دوسرے دن بھی اسی وقت میں پڑھائی جو ایک ہی وقت تھا۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1017
تخریج حدیث «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 167، 168، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 325، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 698، 704، 705، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 393، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 149، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1732، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1014، 1015، 1016، 1017، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3140»
حدیث نمبر: 1018
ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَبُو شَيْبَةَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالُوا : ثنا حُمَيْدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الرَّبِيعِ ، ثنا مَحْبُوبُ بْنُ الْجَهْمِ بْنِ وَاقِدٍ مَوْلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَانِي جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ " ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَالَ فِي وَقْتِ الْمَغْرِبِ : " ثُمَّ أَتَانِي حِينَ سَقَطَ الْقُرْصُ ، فَقَالَ : قُمْ فَصَلِّ ، فَصَلَّيْتُ الْمَغْرِبَ ثَلاثَ رَكَعَاتٍ ، ثُمَّ أَتَانِي مِنَ الْغَدِ حِينَ سَقَطَ الْقُرْصُ ، فَقَالَ : قُمْ فَصَلِّ ، فَصَلَّيْتُ الْمَغْرِبَ ثَلاثَ رَكَعَاتٍ " . وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جبرائیل علیہ السلام میرے پاس اس وقت آئے جب صبح صادق ہو چکی تھی۔“ (اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے) مغرب کی نماز کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ”پھر وہ میرے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو چکا تھا اور بولے: اٹھیے اور نماز ادا کیجیے، تو میں نے مغرب کی تین رکعت ادا کر لیں پھر وہ اگلے دن میرے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو چکا تھا اور بولے: اٹھیے اور نماز ادا کیجیے تو میں نے مغرب کی تین رکعت ادا کیں۔“ راوی نے اس روایت کو طویل حدیث کے طور پر ذکر کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1018
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1018، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«ضعيف ، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (3 / 224) »
حدیث نمبر: 1019
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَنَسٍ ، ثنا حَاتِمُ بْنُ عَبَّادٍ ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يُلْهِيهِ عَنْ صَلاةِ الْمَغْرِبِ طَعَامٌ وَلا غَيْرُهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ”کھانا یا کوئی اور مصروفیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مغرب کی نماز میں تاخیر نہیں کرتی تھی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1019
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3758، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 5123، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1019، 1020، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 5889، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 829، هذا حديث ضعيف لا يثبت فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (4 / 101)»
حدیث نمبر: 1020
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : ذَكَرْتُ لِجَابِرٍ تَأْخِيرَ الْمَغْرِبِ مِنْ أَجْلِ عَشَائِهِ ، فَقَالَ جَابِرٌ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يُؤَخِّرُ صَلاةً لِطَعَامٍ وَلا غَيْرِهِ " .
محمد محی الدین
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ”میں نے سیدنا جابر سے رات کے کھانے کی وجہ سے مغرب کی نماز تاخیر سے ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے یا کسی بھی اور کام کی وجہ سے (مغرب کی) نماز تاخیر سے ادا نہیں کرتے تھے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1020
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3758، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 5123، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1019، 1020، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 5889، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 829، هذا حديث ضعيف لا يثبت فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (4 / 101)»
حدیث نمبر: 1021
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، أنا ابْنُ لَهِيعَةَ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ التُّجِيبِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " بَادِرُوا بِصَلاةِ الْمَغْرِبِ طُلُوعَ النَّجْمِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ستارے نکلنے سے پہلے ہی مغرب کی نماز ادا کر لو۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1021
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1021، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24004، 24064، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 601، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 3351، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4057، 4058، 4059، 863»
حدیث نمبر: 1022
ثنا أَبُو طَالِبِ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ طَالِبٍ ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ إِدْرِيسُ بْنُ يُونُسَ بْنِ يَنَّاقٍ الْفَرَّاءُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جِدَارٍ ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ لِلنَّاسِ بِالصَّلاةِ حِينَ فُرِضَتْ عَلَيْهِمْ ، فَقَامَ جَبْرَائِيلُ أَمَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامُوا النَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لا يَجْهَرُ فِيهَا بِقِرَاءَةٍ ، يَأْتَمُّ النَّاسُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيَأْتَمُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِبْرَائِيلَ ، ثُمَّ أَمْهَلَ حَتَّى إِذَا دَخَلَ وَقْتُ الْعَصْرِ صَلَّى بِهِمْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لا يَجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ ، يَأْتَمُّ الْمُسْلِمُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيَأْتَمُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِبْرَائِيلَ ، ثُمَّ أَمْهَلَ حَتَّى إِذَا وَجَبَتِ الشَّمْسُ صَلَّى بِهِمْ ثَلاثَ رَكَعَاتٍ يَجْهَرُ فِي رَكْعَتَيْنِ بِالْقِرَاءَةِ وَلا يَجْهَرُ فِي الثَّالِثَةِ ، ثُمَّ أَمْهَلَهُ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ صَلَّى بِهِمْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَجْهَرُ فِي الأُولَيَيْنِ بِالْقِرَاءَةِ وَلا يَجْهَرُ فِي الأُخْرَيَيْنِ بِالْقِرَاءَةِ ، ثُمَّ أَمْهَلَ حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ يَجْهَرُ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جبرائیل علیہ السلام مکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے جب سورج ڈھل چکا تھا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز کے لیے بلائیں۔“ یہ اس وقت کی بات ہے جب نماز لوگوں پر فرض ہو گئی تھی، جبرائیل علیہ السلام آپ کے آگے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے راوی بیان کرتے ہیں انہوں نے چار رکعت نماز ادا کی جس میں بلند آواز میں قراءت نہیں کی، لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے رہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی اقتداء میں نماز ادا کرتے رہے پھر اس کے بعد وقت گزرا جب عصر کا وقت آیا تو جبرائیل علیہ السلام نے ان لوگوں کو چار رکعت پڑھائیں انہوں نے اس میں بھی بلند آواز میں قراءت نہیں کی، مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی کرتے رہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی اقتداء میں نماز ادا کرتے رہے، پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا تو انہوں نے لوگوں کو تین رکعت پڑھائیں جن میں سے پہلی دو رکعت میں بلند آواز میں قراءت کی اور تیسری رکعت میں بلند آواز میں قراءت نہیں کی، پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی، تو انہوں نے لوگوں کو چار رکعت نماز پڑھائی جن میں سے پہلی دو رکعت میں بلند آواز میں قراءت کی اور آخری دو رکعت میں بلند آواز میں قراءت نہیں کی، پھر کچھ وقت گزر گیا یہاں تک کہ صبح صادق ہوئی تو انہوں نے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور انہوں نے ان دو رکعت میں بلند آواز میں قراءت کی۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1022
درجۂ حدیث محدثین: [مرسل
تخریج حدیث «مرسل ، أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2555، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1022»
حدیث نمبر: 1023
حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِنَحْوِهِ ، مُرْسَلا.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ مرسل روایت کے طور پر منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1023
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1023، وأبو داود فى "المراسيل"، 12»
«قال ابن حجر: مرسل ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 307) »
حدیث نمبر: 1024
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الطَّيَالِسِيُّ ، ثنا أَبُو يَعْلَى مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ التُّوزِيُّ ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، ثنا ابْنُ نَمِرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَمِّهِ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ فَقَدَّمَ ثُمَّ أَخَّرَ ، وَقَالَ : " بَيْنَهُمَا وَقْتٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے پہلے ابتدائی وقت میں نماز ادا کی، پھر آخری وقت میں نماز ادا کی اور فرمایا: ”ان دونوں کے درمیان نماز کا وقت ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1024
تخریج حدیث «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 706، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1024»
حدیث نمبر: 1025
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ الدَّقَّاقُ ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ سَعْدَوَيْهِ ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " أَنَّ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَلَكَتِ الشَّمْسُ ، يَعْنِي زَالَتْ ، ثُمَّ ذَكَرَ الْمَوَاقِيتَ ، وَقَالَ : ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ : قُمْ فَصَلِّ ، فَصَلَّى ، ثُمَّ أَتَاهُ مِنَ الْغَدِ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا ، فَقَالَ : قُمْ فَصَلِّ ، فَصَلَّى " .
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت آئے جب سورج ڈھل چکا تھا (اس کے بعد راوی نے اس میں نمازوں کے اوقات کا ذکر کیا ہے انہوں نے یہ بات بیان کی ہے): پھر جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو چکا تھا، اور بولے: ”اٹھیے اور نماز ادا کیجیے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی، پھر وہ اگلے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہو چکا تھا (یعنی مغرب کی نماز کا) وقت ایک ہی تھا وہ بولے: ”اٹھیے اور نماز ادا کیجیے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1025
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 521، 3221، 4007، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 610، 611، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 5 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 352، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1448،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 697، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 493، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1494، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 394، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1223، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 668، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1723، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 456، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 986، 987، 992، 1025، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17364، 22785»
«قال محمد بن عبد الباقي الزرقاني: فذكره منقطعا لكن رواه الطبرا
حدیث نمبر: 1026
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ ، نا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ يُعَلِّمُكُمْ دِينِكُمْ " ، فَصَلَّى وَذَكَرَ حَدِيثَ الْمَوَاقِيتِ ، وَقَالَ فِيهِ : " ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، وَقَالَ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ فِي وَقْتٍ وَاحِدٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”یہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو تمہیں تمہارے دین کی تعلیم دینے کے لیے آئے تھے۔“ پھر آپ نے نماز ادا کی۔ اس کے بعد راوی نے نمازوں کے اوقات سے متعلق روایت ذکر کی ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز اس وقت ادا کی جب سورج غروب ہو چکا تھا دوسرے دن کے بارے میں راوی نے یہ بات نقل کی ہے: پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اگلے دن حاضر ہوئے اور مغرب کی نماز اس وقت ادا کی جب سورج غروب ہو چکا تھا یہ ایک ہی وقت تھا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1026
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 707، 708، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 501، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1505، 1526، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1026، 1027، 1028، 1030، 1031، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7293،برقم: 151»
« قال الترمذي : حسن ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 307)»
حدیث نمبر: 1027
ثنا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِي ، نا أحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نا أحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، نا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، نا محَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَقَالَ : " ثُمَّ جَاءَهُ الْغَدَ فَصَلَّى لَهُ الْمَغْرِبَ لِوَقْتٍ وَاحِدٍ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَحَلَّ فِطْرُ الصَّائِمِ ".
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: پھر وہ اگلے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو مغرب کی نماز ایک ہی وقت میں پڑھائی جب سورج غروب ہو چکا تھا اور جس وقت روزہ دار کے لیے افطاری کرنا جائز ہو جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1027
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 707، 708، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 501، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1505، 1526، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1026، 1027، 1028، 1030، 1031، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7293،برقم: 151»
« قال الترمذي : حسن ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 307)»
حدیث نمبر: 1028
حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَبُو عُمَرَ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، نا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُسَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ الْمُؤَذِّنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ ، أَنَّ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ أَتَاهُ فَصَلَّى الصَّلَوَاتِ وَقْتَيْنِ وَقْتَيْنِ إِلا الْمَغْرِبَ ، قَالَ : " فَجَاءَنِي فِي الْمَغْرِبِ ، فَصَلَّى بِي سَاعَةً حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ جَاءَنِي ، يَعْنِي مِنَ الْغَدِ فِي الْمَغْرِبِ ، فَصَلَّى فِي سَاعَةِ غَابَتِ الشَّمْسُ لَمْ يُغَيِّرْهُ " .
محمد محی الدین
محمد بن عمار نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے، انہوں نے اس بات کا تذکرہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ بات بتائی: ”جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور تمام نمازیں مختلف اوقات میں پڑھائیں البتہ مغرب کی نماز (ایک ہی وقت میں پڑھائی)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مغرب کے وقت میرے پاس آئے اور مجھے اس وقت نماز پڑھائی جب سورج غروب ہو چکا تھا پھر وہ میرے پاس آئے (یعنی راوی کہتے ہیں: اگلے دن) مغرب کی نماز کے وقت انہوں نے اسی ایک وقت میں نماز پڑھائی جب سورج غروب ہوا تھا اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1028
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 707، 708، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 501، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1505، 1526، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1026، 1027، 1028، 1030، 1031، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7293،برقم: 151»
« قال الترمذي : حسن ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 307)»
حدیث نمبر: 1029
نا ابْنُ الصَّوَّافِ ، نا الْحَسَنُ بْنُ فِهْرِ بْنِ حَمَّادِ الْبَزَّازُ ، نا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ ، نا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " لَمَّا فُرِضَتِ الصَّلاةُ نزل جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّى بِهِ الظُّهْرَ ، وَذَكَرَ الْمَوَاقِيتَ ، وَقَالَ : فَصَلَّى بِهِ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ ، وَقَالَ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي : فَصَلَّى بِهِ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نماز فرض ہو گئی تو جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو ظہر کی نماز پڑھائی اس کے بعد راوی نے نمازوں کے اوقات کا تذکرہ کیا جس میں یہ الفاظ ہیں: جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب سورج غروب ہو گیا تھا دوسرے دن کے بارے میں راوی نے یہی الفاظ نقل کیے ہیں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب سورج غروب ہو گیا تھا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1029
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ،وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1029، انفرد به المصنف من هذا الطريق ، قال ابن حجر: إسناد حسن لكن فيه عنعنة ابن إسحاق التلخيص الحبير فى تخريج أحاديث الرافعي الكبير: 307/1»
حدیث نمبر: 1030
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلصَّلاةِ أَوَّلا وَآخِرًا ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الظُّهْرِ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُ الْعَصْرِ ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعَصْرِ حِينَ يَدْخُلُ وَقْتُهَا ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَصْفَرُّ الشَّمْسُ ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْمَغْرِبِ حِينَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَغِيبُ الأُفُقُ ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْعِشَاءِ حِينَ يَغِيبُ الأُفُقُ ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَنْتَصِفُ اللَّيْلُ ، وَإِنَّ أَوَّلَ وَقْتِ الْفَجْرِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ ، وَإِنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ " . هَذَا لا يَصِحُّ مُسْنَدًا ، وَهِمَ فِي إِسْنَادِهِ ابْنُ فُضَيْلٍ ، وَغَيْرُهُ يَرْوِيهِ عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، مُرْسَلا .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”نماز کا ایک ابتدائی وقت ہوتا ہے اور ایک آخری وقت ہوتا ہے، ظہر کا ابتدائی وقت وہ ہے جب سورج ڈھل جاتا ہے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے، عصر کا ابتدائی وقت وہ ہے جب وہ شروع ہوتا ہے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب سورج زرد ہو جاتا ہے، مغرب کا ابتدائی وقت وہ ہے جب سورج غروب ہو جاتا ہے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب شفق غائب ہو جاتا ہے عشاء کا ابتدائی وقت وہ ہے جب شفق غائب ہو جاتی ہے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب نصف رات گزر جاتی ہے فجر کا ابتدائی وقت وہ ہے جب صبح صادق ہو جاتی ہے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب سورج نکل آتا ہے۔“ یہ روایت مسند ہونے کے طور پر مستند نہیں ہے دیگر راویوں نے اسے مجاہد کے حوالے سے مرسل روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1030
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 707، 708، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 501، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1505، 1526، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1026، 1027، 1028، 1030، 1031، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7293،برقم: 151»
« قال الترمذي : حسن ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 307)»
حدیث نمبر: 1031
نا أبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، نا زائِدَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : كَانَ يُقَالُ : إِنَّ لِلصَّلاةِ أَوَّلا وَآخِرًا ، ثُمَّ ذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ قَوْلِ ابْنِ فُضَيْلِ ، وَقَدْ تَابَعَ زَائِدَةَ عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ.
محمد محی الدین
مجاہد کہتے ہیں: یہ بات بیان کی گئی ہے: ”نماز کا ایک ابتدائی وقت ہوتا ہے اور ایک آخری وقت ہوتا ہے۔“ پھر انہوں نے یہ حدیث ذکر کی ہے یہ روایت پہلے نقل کردہ روایت کے مقابلے میں زیادہ مستند ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1031
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 707، 708، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 501، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1505، 1526، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1026، 1027، 1028، 1030، 1031، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7293،برقم: 151»
« قال الترمذي : حسن ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 307)»
حدیث نمبر: 1032
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو زُبَيْدٍ وَهُوَ عَبْثَرٌ ، نا الأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ ، وَقَالَ فِيهِ : " أَوَّلُ وَقْتِ الْعَصْرِ حِينَ تَكُونُ الشَّمْسُ بَيْضَاءَ إِلَى أَنْ تَحْضُرَ الْمَغْرِبُ " .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ مجاہد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”عصر کا ابتدائی وقت وہ ہوتا ہے جب سورج چمکدار ہوتا ہے یہاں تک کہ مغرب کا وقت آ جائے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1032
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1032، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 1033
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَعَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَوْنٍ ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ أَشْكَابٍ ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاةِ ، فَقَالَ : " صَلِّ مَعَنَا هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ ، قَالَ : فَأَمَرَ بِلالا حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَأَذَّنَ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ ، ثُمَّ لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّانِي أَمَرَهُ فَأَبْرَدَ بِالظُّهْرِ فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ أَخَّرَهَا فَوْقَ ذَلِكَ الَّذِي كَانَ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا ، ثُمَّ قَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاةِ ؟ فَقَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَقْتُ صَلاتِكُمْ مَا بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ " .
محمد محی الدین
سلیمان بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم دو دن ہمارے ساتھ نماز ادا کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال کو اذان دینے کا اس وقت حکم دیا جب سورج ڈھل چکا تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ نے انہیں حکم دیا انہوں نے عصر کے لیے اقامت کہی جب کہ سورج ابھی بلند روشن اور چمک دار تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے مغرب کے لیے اس وقت اقامت کہی جب سورج غروب ہو چکا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے عشاء کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب شفق غروب ہو چکی تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے فجر کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب صبح صادق طلوع ہو چکی تھی۔ جب دوسرا دن آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈے وقت میں ادا کریں تو انہوں نے اسے ٹھنڈے وقت میں ادا کیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی تو انہوں نے عصر کے لیے اقامت کہی جب کہ سورج ابھی بلند تھا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن پہلے دن کے مقابلے میں اس نماز کو ذرا تاخیر سے ادا کیا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی تو انہوں نے مغرب کی نماز کے لیے اقامت کہی اس وقت جب ابھی شفق غروب نہیں ہوئی تھی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے فجر کے لیے اقامت کہی اس وقت جب روشنی پھیل چکی تھی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”نماز کے وقت کے بارے میں سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ تمہاری نماز کے اوقات ان دونوں کے درمیان میں ہیں جو تم نے دیکھے ہیں۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1033
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحیح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 613،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 323، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1492، 1525، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 518، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1527، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 152، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 667، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1033، 1034، 1035، 1036، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23421»
«ال ابن خزيمة: هذا حديث صحيح رواه الثوري أيضا عن علقمة ، صحيح ابن خزيمة: (1 / 422) برقم: (324)»
حدیث نمبر: 1034
حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَبُو عُمَرَ ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، نا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، نا سُفْيَانُ ، بِهَذَا مُخْتَصَرًا فِي وَقْتَيِ الْمَغْرِبِ .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1034
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحیح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 613،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 323، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1492، 1525، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 518، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1527، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 152، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 667، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1033، 1034، 1035، 1036، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23421»
«ال ابن خزيمة: هذا حديث صحيح رواه الثوري أيضا عن علقمة ، صحيح ابن خزيمة: (1 / 422) برقم: (324)»
حدیث نمبر: 1035
وَنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ ، نا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُسْتَهَامُ ، ثنا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1035
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحیح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 613،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 323، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1492، 1525، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 518، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1527، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 152، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 667، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1033، 1034، 1035، 1036، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23421»
«ال ابن خزيمة: هذا حديث صحيح رواه الثوري أيضا عن علقمة ، صحيح ابن خزيمة: (1 / 422) برقم: (324)»
حدیث نمبر: 1036
حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَبُو عُمَرَ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا عَلِيُّ ، ثنا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ " ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَمَرَهُ مِنَ الْغَدِ بِالْمَغْرِبِ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ الشَّفَقُ " .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مغرب کی نماز کے لیے اقامت کا حکم دیا اس وقت جب سورج غروب ہو چکا تھا پھر اگلے دن مغرب کی نماز کے لیے اقامت کا حکم دیا اس وقت جب شفق ابھی غروب نہیں ہوئی تھی۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1036
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحیح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 613،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 323، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1492، 1525، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 518، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1527، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 152، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 667، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1033، 1034، 1035، 1036، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23421»
«ال ابن خزيمة: هذا حديث صحيح رواه الثوري أيضا عن علقمة ، صحيح ابن خزيمة: (1 / 422) برقم: (324)»
حدیث نمبر: 1037
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، ثنا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَتَاهُ سَائِلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا ، فَأَمَرَ بِلالا فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ انْشَقَّ بِالْفَجْرِ وَالنَّاسُ لا يَكَادُ يَعْرِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالظُّهْرِ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ : انْتَصَفَ النَّهَارُ أَوْ لَمْ وَكَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَقَعَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْعَشَاءِ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ، ثُمَّ أَخَّرَ الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا وَالْقَائِلُ يَقُولُ : طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ كَادَتْ ، ثُمَّ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنَ الْعَصْرِ ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعَصْرَ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ : احْمَرَّتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى كَانَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعِشَاءَ حَتَّى كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلُ ، ثُمَّ أَصْبَحَ فَبَعَثَ فَدَعَى السَّائِلَ ، فَقَالَ : " الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ " .
محمد محی الدین
ابوبکر بن موسیٰ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ واقعہ نقل کرتے ہیں: ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، آپ نے سیدنا بلال کو ہدایت کی تو انہوں نے فجر کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب صبح صادق ہو چکی تھی، اور اس وقت کوئی شخص اندھیرے کی وجہ سے ایک دوسرے کو پہچان نہیں سکتا تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے ظہر کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب سورج ڈھل چکا تھا، اور آدمی یہ اندازہ لگاتا تھا کہ نصف النہار ہو چکا ہے، یا نہیں ہوا ہے ویسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بارے میں زیادہ علم تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے عصر کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب سورج بلند ہو چکا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے مغرب کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب سورج غروب ہو چکا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے عشاء کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب شفق غروب ہو چکی تھی۔ پھر اگلے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کو تاخیر سے ادا کیا، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آدمی یہ کہہ سکتا تھا کہ سورج طلوع ہو چکا ہے یا ہونے والا ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز کا تاخیر سے ادا کیا یہاں تک کہ اسے پہلے دن کی عصر کی نماز کے قریب میں ادا کیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز کو تاخیر سے ادا کیا جب آپ لوگ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آدمی یہ کہہ سکتا تھا، سورج سرخ ہو چکا ہے (یعنی دھوپ ماند پڑ چکی ہے) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز کو تاخیر سے ادا کیا یہاں تک کہ وہ شفق غروب ہونے سے کچھ دیر پہلے ادا کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز کو اتنی تاخیر سے ادا کیا ایک تہائی رات گزر چکی تھی اگلے دن صبح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کرنے والے شخص کو بلوایا اور فرمایا: ”ان دونوں کے درمیان (ان نمازوں کا) وقت ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1037
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 614، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 522، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1511، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 395، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1744،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1037، 1038، 1039، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20047»
«قال البخاري: حسن ، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (3 / 224) »
حدیث نمبر: 1038
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، نا وَكِيعٌ ، ثنا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ سَائِلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا ، ثُمَّ أَمَرَ بِلالا فَأَقَامَ الصَّلاةَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ فَصَلَّى ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ : قَدْ زَالَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَزُلْ وَهُوَ كَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ ، قَالَ : وَصَلَّى الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ : طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَطْلُعْ وَهُوَ أَعْلَمُ مِنْهُمْ ، وَصَلَّى الظُّهْرَ قَرِيبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالأَمْسِ ، وَصَلَّى الْعَصْرَ ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ : احْمَرَّتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ ثُلُثَ اللَّيْلِ الأَوَّلَ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ ؟ الْوَقْتُ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ " .
محمد محی الدین
ابوبکر بن ابوموسیٰ اپنے والد سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو ہدایت کی تو انہوں نے صبح کی نماز کے لیے اقامت کہی جب صبح صادق ہو چکی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نماز ادا کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے ظہر کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب آدمی یہ سوچتا ہے کہ سورج ڈھل چکا ہے یا ابھی نہیں ڈھلا، ویسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بارے میں زیادہ علم ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے عصر کی نماز کے لیے اقامت کہی اس وقت جب سورج ابھی بلند تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت مغرب کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب سورج غروب ہو چکا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت عشاء کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب شفق غروب ہو چکی تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں: اگلے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز اس وقت ادا کی جب آدمی یہ سوچتا تھا کہ سورج نکل آیا ہے یا ابھی نہیں نکلا، ویسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں زیادہ پتا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز اس وقت ادا کی جس وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دن میں عصر کی نماز ادا کی تھی جب آپ نے عصر کی نماز ادا کی تو آدمی یہ سوچتا ہے کہ سورج تو سرخ ہو چکا ہے، یعنی دھوپ ماند پڑ گئی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز شفق غروب ہونے سے کچھ دیر پہلے ادا کی پھر عشاء کی نماز آپ نے ایک تہائی رات گزر جانے کے بعد ادا کی پھر آپ نے دریافت کیا: ”سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ ان دونوں وقتوں کے درمیان (نمازوں کا مخصوص) وقت ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1038
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 614، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 522، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1511، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 395، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1744،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1037، 1038، 1039، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20047»
«قال البخاري: حسن ، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (3 / 224) »
حدیث نمبر: 1039
حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَبُو عُمَرَ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، ثنا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ : " فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ ، قَالَ : ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ مِنَ الْغَدِ حَتَّى كَانَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ " . كَذَا قَالَ الْقَاضِي مُخْتَصَرًا.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ ابوبکر بن موسیٰ کے حوالے سے، ان کے والد کے حوالے سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے راوی نے اس حدیث کو ذکر کرتے ہوئے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”تو انہوں نے مغرب کی نماز کے لیے اس وقت اقامت کہی جب سورج غروب ہو چکا تھا۔“ راوی کہتے ہیں پھر اگلے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز کو تاخیر سے ادا کیا یہاں تک کہ شفق غروب ہونے کے قریب تھی۔ قاضی نامی راوی نے اسے اسی طرح مختصر روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1039
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 614، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 522، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1511، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 395، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1744،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1037، 1038، 1039، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20047»
«قال البخاري: حسن ، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (3 / 224) »