کتب حدیثسنن الدارقطنيابوابباب : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
حدیث نمبر: 986
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ قَاعِدًا عَلَى الْمِنْبَرِ فَأَخَّرَ صَلاةَ الْعَصْرِ شَيْئًا ، فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ : أَمَا إِنَّ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ قَدْ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَقْتِ الصَّلاةِ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : أَعْلَمُ مَا تَقُولُ ، قَالَ عُرْوَةُ سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " نزل جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ فَأَخْبَرَنِي بِوَقْتِ الصَّلاةِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ " ، يَحْسِبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حِينَ يَشْتَدُّ الْحَرُّ ، وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَهَا الصُّفْرَةُ ، فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَأْتِي ذَا الْحُلَيْفَةِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسُ ، وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ حِينَ تَسْقُطُ الشَّمْسُ ، وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ حِينَ يَسْوَدُّ الأُفُقُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حَتَّى يَجْتَمِعَ النَّاسُ ، قَالَ الرَّبِيعُ : سَقَطَ مِنْ كِتَابِي ، حَتَّى فَقَطْ ، وَصَلَّى الصُّبْحَ مَرَّةً بِغَلَسٍ ، ثُمَّ صَلَّى مَرَّةً أُخْرَى ، فَأَسْفَرَ ثُمَّ كَانَتْ صَلاتَهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِالْغَلَسِ حَتَّى مَاتَ ، ثُمَّ لَمْ يَعُدْ إِلَى أَنْ يُسْفِرَ .
محمد محی الدین
ابن شہاب بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ عمر بن عبدالعزیز منبر پر بیٹھے ہوئے تھے (یعنی خطبہ دے رہے تھے) انہوں نے عصر کی نماز میں ذرا تاخیر کر دی، تو عروہ بن زبیر بولے: جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے وقت کے بارے میں بتایا تھا۔ عمر بن عبدالعزیز نے ان سے کہا: ”آپ ذرا سمجھنے کی کوشش کریں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔“ تو عروہ نے کہا: میں نے بشیر بن ابومسعود کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے انہوں نے یہ فرمایا ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ایک مرتبہ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے تو انہوں نے مجھے نماز کے وقت کے بارے میں بتایا، میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی پھر میں نے ان کے ساتھ اگلی نماز ادا کی پھر میں ان کے ساتھ اگلی نماز ادا کی، انہوں نے اپنی انگلیوں پر پانچ نمازوں کا حساب لگا کر بتایا۔“ (سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات یاد ہے آپ ظہر کی نماز اس وقت ادا کر لیتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا البتہ جب گرمی زیادہ ہوتی تھی تو آپ اس نماز کو موخر کر دیا کرتے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عصر کی نماز اس وقت ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے جب سورج بلند اور روشن ہوتا تھا، ابھی اس میں زردی نہیں آئی ہوتی تھی (یعنی دھوپ ماند نہیں ہوئی تھی) اور کوئی شخص نماز ادا کرنے کے بعد سورج غروب ہونے سے پہلے ذوالحلیفہ پہنچ سکتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج غروب ہو جاتا تھا۔ عشاء کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ادا کرتے تھے، جب افق سیاہ ہو جاتا تھا، بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اتنی دیر تک موخر کر دیتے تھے تاکہ لوگ اکٹھے ہو جائیں۔ (راوی کہتے ہیں: ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں) صبح کی نماز کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں ادا کر لیتے تھے اور کبھی روشنی میں ادا کیا کرتے تھے لیکن پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اندھیرے میں ہی ادا کرنا شروع کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک یہی معمول رہا۔ دوبارہ آپ نے کبھی روشنی میں یہ نماز ادا نہیں کی۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 986
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 521، 3221، 4007، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 610، 611، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 5 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 352، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1448،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 697، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 493، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1494، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 394، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1223، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 668، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1723، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 456، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 986، 987، 992، 1025، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17364، 22785»
حدیث نمبر: 987
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، ثنا مُحَمَّدُ أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ، ثنا أَبُو صَالِحٍ ، ثنا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَقَالَ : الْعَصْرُ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُرْتَفِعَةٌ يَسِيرُ الرَّجُلُ حَتَّى يَنْصَرِفَ مِنْهَا إِلَى ذِي الْحُلَيْفَةِ سِتَّةَ أَمْيَالٍ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ ، وَقَالَ فِيهِ أَيْضًا : وَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيُغَلِّسُ بِهَا ، ثُمَّ صَلاهَا يَوْمًا آخَرَ فَأَسْفَرَ ، ثُمَّ لَمْ يَعُدْ إِلَى الإِسْفَارِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: جب آپ عصر کی نماز ادا کرتے تھے اس وقت سورج روشن اور بلند ہوتا تھا، کوئی شخص چلتا ہوا جاتا تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد ذوالحلیفہ پہنچ سکتا تھا جو چھ میل کے فاصلے پر تھا اور وہ سورج غروب ہونے سے پہلے وہاں پہنچ سکتا تھا۔ اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: صبح کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں ادا کیا کرتے تھے پھر کسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے روشنی میں بھی ادا کر لیتے تھے (لیکن پھر اس کے بعد آپ نے اسے اندھیرے میں ہی ادا کرنے کا معمول اختیار کیا)۔ دوبارہ کبھی روشنی میں آپ نے یہ نماز ادا نہیں کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک آپ کا یہی معمول رہا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 987
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 521، 3221، 4007، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 610، 611، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 5 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 352، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1448،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 697، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 493، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1494، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 394، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1223، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 668، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1723، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 456، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 986، 987، 992، 1025، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17364، 22785»
حدیث نمبر: 988
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا ابْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالا : نا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْمَسْجِدِ الأَعْظَمِ ، وَالْكُوفَةُ يَوْمَئِذٍ أَخْصَاصٌ ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ ، فَقَالَ : الصَّلاةُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لِلْعَصْرِ ، فَقَالَ : " اجْلِسْ " ، فَجَلَسَ ، ثُمَّ عَادَ فَقَالَ ذَلِكَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " هَذَا الْكَلْبُ يُعَلِّمُنَا بِالسُّنَّةِ " ، فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَصَلَّى بِنَا الْعَصْرَ ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا فَرَجَعْنَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي كُنَّا فِيهِ جُلُوسًا ، فَجَثَوْنَا لِلرُّكَبِ لِنُزُولِ الشَّمْسِ لِلْمَغِيبِ نَتَرَآهَا . زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيُّ مَجْهُولٌ ، لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ.
محمد محی الدین
زیاد بن عبداللہ نخعی بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد اعظم میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کوفہ ان دنوں اخصاص تھا، موذن ان کے پاس آیا اور بولا: ”امیر المؤمنین! عصر کی نماز کا وقت ہو گیا ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ وہ بیٹھ گیا، اس نے پھر دوبارہ یہی عرض کی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ گدھا ہمیں سنت کی تعلیم دے گا۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی، پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد پھر اسی جگہ پر آکر بیٹھ گئے، جہاں پہلے بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر ہم نے گھٹنوں کے بل اٹھ کر اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کی کہ سورج غروب تو نہیں ہو گیا۔ اس روایت کا راوی زیادہ بن عبداللہ نخعی مجہول ہے، اس کے حوالے سے صرف عباس نامی راوی نے روایت نقل کی ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 988
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 695، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 988»
«قال الدارقطني: زياد بن عبد الله النخعي مجهول لم يرو عنه غير العباس بن ذريح سنن الدارقطني:، 988»
حدیث نمبر: 989
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، قَالا : نا أَبُو الأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ نا أَبُو عَاصِمٍ ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بِالْعَصْرِ ، قَالَ : وَشَيْخٌ جَالِسٌ فَلامَهُ ، وَقَالَ : إِنَّ أَبِي أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِتَأْخِيرِ هَذِهِ الصَّلاةِ " ، قَالَ : فَسَأَلْتُ عَنْهُ ، فَقَالُوا : هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجِ بْنِ رَافِعٍ . هَذَا لَيْسَ بِقَوِيٍّ ، وَرَوَاهُ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، فَكَنَّاهُ : أَبَا الرَّمَّاحِ ، وَخَالَفَ فِي اسْمِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، فَسَمَّاهُ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ.
محمد محی الدین
عبدالواحد بن نافع بیان کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ کی مسجد میں داخل ہوا تو موذن نے عصر کی اذان دی، راوی بیان کرتے ہیں وہاں ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے موذن کو ملامت کی اور یہ بولے: ”میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز کو تاخیر کے ساتھ ادا کرنے کی ہدایت کرتے تھے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے ان بزرگ کے بارے میں دریافت کیا تو لوگوں نے بتایا: یہ سیدنا عبداللہ بن رافع بن خدیج ہیں (یعنی صحابی رسول سیدنا رافع بن خدیج کے صاحبزادے ہیں)۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا رافع کے یہ صاحبزادے قوی نہیں ہیں۔ موسیٰ بن اسماعیل نامی راوی نے یہ روایت نقل کرتے ہوئے یہ بات بیان کی ہے: ان کی کنیت ابورماح تھی، اسی طرح ان کے نام کے بارے میں بھی اختلاف ہے، بعض راویوں نے ان کا نام عبدالرحمن نقل کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 989
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 989، 990، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16047، 17555، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4376»
«قال الدارقطني: حديث ضعيف الإسناد والصحيح عن رافع وغيره ضد هذا وعبد الله بن رافع ليس بالقوي، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 245)»
حدیث نمبر: 990
حَدَّثَنَا بِهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الْوَاحِدِ أَبَا الرَّمَّاحِ الْكِلابِيَّ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَأَذَّنَ مُؤَذِّنُهُ بِصَلاةِ الْعَصْرِ فَكَأَنَّهُ عَجَّلَهَا ، فَلامَهُ قَالَ : " وَيْحَكَ أَخْبَرَنِي أَبِي ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعَصْرِ " . وَرَوَاهُ حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ هَذَا ، وَقَالَ : عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ نُفَيْعٍ خَالَفَ فِي نَسَبِهِ ، وَهَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفُ الإِسْنَادِ مِنْ جِهَةِ عَبْدِ الْوَاحِدِ هَذَا ، لأَنَّهُ لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ غَيْرُهُ ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي اسْمِ ابْنِ رَافِعٍ هَذَا ، وَلا يَصِحُّ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ رَافِعٍ ، وَلا عَنْ غَيْرِهِ مِنَ الصَّحَابَةِ ، وَالصَّحِيحُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، وَعَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضِدُّ هَذَا ، وَهُوَ التَّعْجِيلُ بِصَلاةِ الْعَصْرِ وَالتَّبْكِيرِ بِهَا . فَأَمَّا الرِّوَايَةُ الصَّحِيحَةُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ.
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن رافع کے بارے میں منقول ہے: ایک مرتبہ موذن نے عصر کی اذان دی، اس نے اذان ذرا جلدی دے دی، تو سیدنا عبدالرحمن بن رافع نے اسے ملامت کرتے ہوئے فرمایا: ”تمہارا ستیاناس ہو! میرے والد نے (جو صحابی رسول تھے) مجھے یہ بات بتائی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عصر کی نماز تاخیر سے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔“ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے، جبکہ بعض دیگر صحابہ کرام سے اس کے برعکس منقول ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سیدنا رافع بن خدیج کے حوالے سے صحیح روایت یہ (درج ذیل) ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 990
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 989، 990، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16047، 17555، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4376»
«قال الدارقطني: حديث ضعيف الإسناد والصحيح عن رافع وغيره ضد هذا وعبد الله بن رافع ليس بالقوي، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 245)»
حدیث نمبر: 991
فَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، أَخْبَرَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ، أَخْبَرَنِي أبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ الأَوْزَاعِيَّ ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، قَالَ : " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْعَصْرِ ، ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ فَتُقْسَمُ عَشْرَ قَسْمٍ ، ثُمَّ تُطْبَخُ وَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ " . أَبُو النَّجَاشِيِّ هَذَا اسْمُهُ عَطَاءُ بْنُ صُهَيْبٍ ثِقَةٌ مَشْهُورٌ صَحِبَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ سِتَّ سِنِينَ ، وَرَوَى عَنْهُ عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَالأَوْزَاعِيُّ ، وَأَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، وَغَيْرُهُمْ ، وَحَدِيثُهُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَوْلَى مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنِ ابْنِ رَافِعٍ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُرْتَفِعَةٌ ، يَسِيرُ الرَّجُلُ حَتَّى يَنْصَرِفَ مِنْهَا إِلَى ذِي الْحُلَيْفَةِ سِتَّةَ أَمْيَالٍ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ " .
محمد محی الدین
ابونجاشی بیان کرتے ہیں: سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے وہ فرماتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز ادا کرتے تھے پھر اس کے بعد اونٹ قربان کیا جاتا تھا، اس کے گوشت کے دس حصے کیے جاتے تھے پھر انہیں پکایا جاتا تھا اور سورج غروب ہونے سے پہلے ہم بھنا ہوا گوشت کھا بھی لیتے تھے۔ ابونجاشی نامی راوی کا نام عطاء بن صہیب ہے، یہ ثقہ اور مشہور ہے، یہ چھ سال تک سیدنا رافع بن خدیج کی خدمت میں رہا ہے، اس کے حوالے سے عکرمہ بن عمار، امام اوزاعی، ایوب اور دیگر حضرات نے احادیث نقل کی ہیں۔ اس راوی کی نقل کردہ روایت جو سیدنا رافع بن خدیج سے منقول ہے، یہ اس روایت سے زیادہ بہتر ہے، جسے عبدالواحد نامی راوی نے سیدنا رافع کے صاحبزادے کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 991
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 559، 2485، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 625، 637، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1515، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 696، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 687، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1756، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 991، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17548»
حدیث نمبر: 992
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، ثنا اللَّيْثُ ، .
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا بشیر بن ابومسعود کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کی نماز ادا کرتے تھے اس وقت سورج چمکدار اور بلند ہوتا تھا، کوئی شخص نماز سے فارغ ہونے کے بعد سورج غروب ہونے سے پہلے ذوالحلیفہ پہنچ سکتا تھا جو چھ میل کے فاصلے پر تھا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 992
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 521، 3221، 4007، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 610، 611، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 5 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 352، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1448،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 697، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 493، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1494، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 394، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1223، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 668، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1723، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 456، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 986، 987، 992، 1025، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17364، 22785»
حدیث نمبر: 993
ح وحدثني أبي ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، ثنا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، يَقُولُ : قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا أُخْبِرُكُمْ بِصَلاةِ الْمُنَافِقِ ؟ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعَصْرَ ، حَتَّى إِذَا كَانَتْ كَثَرَبِ الْبَقَرَةِ صَلاهَا " .وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَغَيْرِهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ الْعَصْرِ .
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”کیا میں تمہیں منافق کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ عصر کی نماز کو موخر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ گائے کے منہ مارنے کی طرح سے ادا کرتا ہے۔“ اسی طرح سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عصر کی نماز کو جلدی پڑھنے کی حدیث روایت کی ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 993
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 993 ، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 994
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ الْبَاهِلِيُّ ، قَالا : نا أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ أَبُو عُتْبَةَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي فَيَأْتِيهَا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ، وَالْعَوَالِي مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى سِتَّةِ أَمْيَالٍ " . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ ، وَعُقَيْلٌ ، وَمَعْمَرٌ ، وَيُونُسُ ، وَاللَّيْثُ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَشُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَمَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الرُّصَافِيُّ ، وَالنُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ ، وَالزُّبَيْدِيُّ ، وَغَيْرُهُمْ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ وَرَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ ، ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى قُبَاءٍ قَالَ أَحَدُهُمَا : فَيَأْتِيهِمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ ، وَقَالَ الآخَرُ : وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت ادا کیا کرتے تھے جب سورج ابھی بلند اور روشن ہوتا تھا اور کوئی شخص مدینہ منورہ کے کسی نواحی علاقے میں جاتے ہوئے وہاں پہنچ بھی جاتا تھا، اور سورج پھر بھی بلند ہوتا تھا۔ مدینہ منورہ کا نواحی علاقہ چھ میل کے فاصلے پر تھا۔ یہی روایت بعض دیگر راویوں کے حوالے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 994
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحیح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 548، 550، 551، 7329، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 621، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 13 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1518، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 505 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1507، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 404، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 682 ، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 994، 995، 996، 997، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12525»
«قال ابن حجر: وقد أخرجا الرواية المحفوظة ، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (1 / 370) »
حدیث نمبر: 995
ثنا بِهِ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، ثنا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَالِكٍ بِذَلِكَ.
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے پھر کوئی شخص قبا چلا جاتا تھا۔ ایک راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: وہ شخص وہاں پہنچتا تو وہ لوگ ابھی نماز ادا کر رہے ہوتے تھے۔ ایک راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: اس وقت سورج ابھی بلند ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 995
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 548، 550، 551، 7329، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 621، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 13 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1518، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 505 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1507، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 404، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 682 ، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 994، 995، 996، 997، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12525»
حدیث نمبر: 996
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ أَبِي الأَبْيَضِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ " ، فَآتِي عَشِيرَتِي وَهُمْ جُلُوسٌ ، فَأَقُولُ : مَا يُجْلِسُكُمْ صَلُّوا ، فَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز عصر ادا کی تو سورج ابھی روشن تھا پھر میں اپنے خاندان میں آیا، وہ لوگ وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے کہا: ”تم لوگ کیوں بیٹھے ہو، تم لوگ نماز ادا کرو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو نماز ادا کر چکے ہیں۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 996
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 548، 550، 551، 7329، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 621، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 13 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1518، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 505 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1507، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 404، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 682 ، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 994، 995، 996، 997، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12525»
حدیث نمبر: 997
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبِي الأَبْيَضِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ " ، ثُمَّ آتِي عَشِيرَتِي وَهُمْ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ جُلُوسٌ لَمْ يُصَلُّوا ، فَأَقُولُ : مَا يُجْلِسُكُمْ قُومُوا صَلُّوا ، فَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھا دی جبکہ سورج ابھی روشن اور چمکدار تھا، پھر میں اپنے خاندان والوں کے پاس آیا، وہ مدینہ منورہ کے کنارے میں بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے ابھی نماز ادا نہیں کی تھی، میں نے کہا: ”تم لوگ کیوں بیٹھے ہو، اٹھو، نماز پڑھ لو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو نماز ادا کر چکے ہیں۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 997
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 548، 550، 551، 7329، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 621، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 13 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1518، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 505 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1507، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 404، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 682 ، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 994، 995، 996، 997، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12525»
حدیث نمبر: 998
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا أحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ أَبْعَدُ رَجُلَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَارا : أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ ، وَأَهْلُهُ بِقُبَاءٍ ، وَأَبُو عُبَيْسِ بْنُ خَيْرٍ ، وَمَسْكَنُهُ فِي بَنِي حَارِثَةَ ، فَكَانَا يُصَلِّيَانِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ، ثُمَّ يَأْتِيَانِ قَوْمَهُمَا وَمَا صَلُّوا لِتَعْجِيلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انصار میں سے سب سے زیادہ دور سیدنا ابولبابہ کا گھر تھا، جو قبا میں تھا اور ابوعمیس کا گھر جو بنو حارثہ کے محلے میں تھا، یہ دونوں حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کرتے تھے پھر اپنی اپنی جگہ پہنچ جاتے تھے تو ان لوگوں نے ابھی نماز ادا نہیں کی ہوتی تھی۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جلد یہ نماز ادا کر لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 998
تخریج حدیث «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 699، 5543، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 998، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 13686، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 1133، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4515، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 7946»
حدیث نمبر: 999
وَقَالَ الْعَلاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا أُخْبِرُكُمْ بِصَلاةِ الْمُنَافِقِ ، يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتْ فَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ ، قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلا قَلِيلا " .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کیا میں تمہیں منافق کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ سورج کی طرف دیکھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب سورج زرد ہو جاتا ہے اور شیطان کے دو سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے تو وہ شخص اٹھ کر چار مرتبہ ٹھونگے مارتا ہے اور وہ اس نماز میں اللہ کا ذکر بہت تھوڑا سا کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 999
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 622، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 743 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 333، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 259، 260، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 509 ، ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 413، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 160، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 999، 1000، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12181»
حدیث نمبر: 1000
وَقَالَ حَفْصُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ ذَلِكَ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1000
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 622، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 743 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 333، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 259، 260، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 509 ، ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 413، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 160، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 999، 1000، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12181»
حدیث نمبر: 1001
وَقَالَ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِي حُجْرَتِي لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ بَعْدُ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے جبکہ دھوپ ابھی میرے حجرے میں باقی ہوتی تھی اور سایہ ڈھلا نہیں ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1001
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 522، 544، 545، 546، 3103، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 611، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 5 ، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 332، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1450، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 504 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 407، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 159، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1223، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 683، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 170، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1001، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24729»
«»
حدیث نمبر: 1002
حَدَّثَنَا الْقَاضِيَانِ : أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، وَأَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالا : نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، نا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، نا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّ عِنْدِي جَزُورًا أُرِيدُ أَنْ أَنْحَرَهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَهَا ، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْصَرَفْنَا فَنُحِرَتِ الْجَزُورُ وَصُنِعَ لَنَا مِنْهَا ، وَطَعِمْنَا مِنْهَا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ ، وَكُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَسِيرُ الرَّاكِبُ سِتَّةَ أَمْيَالٍ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ " .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں عصر کی نماز ادا کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کر لی تو بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے پاس ایک اونٹ ہے میں اسے قربان کرنا چاہتا ہوں میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ بھی وہاں موجود ہوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے روانہ ہوئے ہم بھی چل پڑے، پھر اس اونٹ کو قربان کیا گیا پھر اسے ہمارے لیے تیار کیا گیا تو سورج غروب ہونے سے پہلے ہی ہم نے اس کا گوشت بھی کھا لیا (سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) ہم لوگ عصر کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ادا کرتے تھے اس کے بعد کوئی شخص چھ میل کا فاصلہ سورج غروب ہونے سے پہلے طے کر لیا کرتا تھا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1002
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 624، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1516، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2117، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1002، 1003»
حدیث نمبر: 1003
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِي ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، نا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ مُوسَى بْنَ سَعْدٍ الأَنْصَارِيَّ ، حَدَّثَهُ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَنْحَرَ جَزُورًا لَنَا فَنُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَنَا ، قَالَ : نَعَمْ " ، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ فَوَجَدْنَا الْجَزُورَ لَمْ تُنْحَرْ ، فَنُحِرَتْ ، ثُمَّ قُطِعَتْ ، ثُمَّ طُبِخَ مِنْهَا فَأَكَلْنَا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی جب ہم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ہم اونٹ قربان کرنا چاہتے ہیں ہم یہ چاہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں تشریف لائیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے آپ کے ساتھ ہم بھی چلے گئے تو وہاں ہم نے یہ صورت حال پائی کہ اونٹ کو ابھی قربان نہیں کیا گیا تھا، پھر اسے قربان کیا گیا پھر اس کا گوشت بنایا گیا پھر اسے پکایا گیا تو سورج غروب ہونے سے پہلے ہم نے اسے کھا بھی لیا۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1003
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 624، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1516، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2117، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1002، 1003»
حدیث نمبر: 1004
حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا الْحَسَّانِيُّ ، نا وَكِيعٌ ، نا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، قَالَ : " إِنَّمَا سُمِّيَتِ : الْعَصْرُ لأَنَّهَا تَعْصَرُ " .
محمد محی الدین
ابوقلابہ کہتے ہیں: عصر کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ اسے نچوڑ لیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1004
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1004، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 3337، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 1155»
حدیث نمبر: 1005
حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَبُو عُمَرَ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، أَنَّ الْحَسَنَ ، وَابْنَ سِيرِينَ ، وَأَبَا قِلابَةَ " كَانُوا يُمْسُونَ بِالْعَصْرِ " .
محمد محی الدین
خالد حذاء بیان کرتے ہیں: حسن بصری، ابن سیرین اور ابوقلابہ تاخیر سے عصر ادا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1005
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1005، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 2087، 2088»
حدیث نمبر: 1006
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَيْلانَ ، ثنا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، ثنا عَمِّي كَثِيرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا ابْنُ شُبْرُمَةَ ، قَالَ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَنَفِيَّةِ : " إِنَّمَا سُمِّيَتِ الْعَصْرُ لِتَعْصُرَ " .
محمد محی الدین
محمد بن حنفیہ کہتے ہیں: عصر کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ اسے نچوڑ لیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1006
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1006، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 1007
حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَبُو عُمَرَ ، نا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، ثنا أَبُو عَامِرٍ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ : أَخَّرَ طَاوُسٌ الْعَصْرَ جِدًّا ، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا سُمِّيَتِ الْعَصْرُ لِتَعْصُرَ " .
محمد محی الدین
ایک مرتبہ طاؤس نے عصر کی نماز تاخیر سے ادا کی ان سے اس بارے میں بات کی گئی تو وہ بولے: عصر کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ اسے نچوڑ لیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1007
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1007، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر: 1008
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا الْحَسَّانِيُّ ، ثنا وَكِيعٌ ، ثنا إِسْرَائِيلُ ، وَعَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : " كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُؤَخِّرُ الْعَصْرَ " .
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ عصر کی نماز تاخیر سے ادا کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 1008
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1008، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 2089، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 3329، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 9279»