حدیث نمبر: 967
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أنا شُعْبَةُ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، نا صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ ، وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَلَمْ يُسَمِّهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الصَّلاةُ أَوَّلَ وَقْتِهَا " ، قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " بِرُّ الْوَالِدَيْنِ " ، وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي .
محمد محی الدین
عمرو شیبانی بیان کرتے ہیں: ہمیں اس گھر کے مالک نے، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے، لیکن ان کا نام نہیں لیا، یہ بات بیان کی ہے: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: ”کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنا۔“ میں نے عرض کیا: ”پھر کون سا؟“ آپ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔“ میں نے دریافت کیا: ”پھر کون سا؟“ آپ نے فرمایا: ”والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔“ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) اگر میں آپ سے مزید دریافت کرتا تو آپ مجھے مزید جواب عطا کرتے۔
حدیث نمبر: 968
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَبُو مُوسَى ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ ، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ خَلادٍ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، ثنا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدٌ الْمُكْتِبُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ شُعْبَةُ : أَوْ قَالَ : " أَفْضَلُ الْعَمَلِ الصَّلاةُ عَلَى وَقْتِهَا " . وَقَالَ الْمَعْمَرِيُّ فِي حَدِيثِهِ : " الصَّلاةُ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا ".
محمد محی الدین
ابوعمرو شیبانی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: ”کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟“ تو آپ نے فرمایا: ”سب سے زیادہ فضیلت والا عمل، نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا ہے۔“ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”نماز اس کے ابتدائی وقت پر ادا کرنا ہے۔“
حدیث نمبر: 969
حَدَّثَنَا ابْنُ خَلادٍ ، ثنا الْمَعْمَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ثنا الْحَجَّاجُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، ذَكَرَ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَبُّ هَذِهِ الدَّارِ ، يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الصَّلاةُ لِمِيقَاتِهَا الأَوَّلِ " .
محمد محی الدین
ابوعمرو شیبانی بیان کرتے ہیں: اس گھر کے مالک نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے، ان کی مراد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔ وہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، میں نے عرض کی: ”کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟“ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنا۔“
حدیث نمبر: 970
حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ الْحَافِظُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ الأَعْمَالِ الصَّلاةُ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”بہترین عمل نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنا ہے۔“
حدیث نمبر: 971
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ خَلادٍ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ شَبِيبٍ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، نا أَبُو يَحْيَى التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الصَّلاةُ لِمِيقَاتِهَا الأَوَّلِ " . خَالَفَهُ جَمَاعَةٌ ، عَنِ الْعُمَرِيِّ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: ”کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟“ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنا۔“ محدثین کی ایک جماعت نے اس کے برخلاف نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 972
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيِّ ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ غَنَّامٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ فَرْوَةَ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَفْضَلُ الأَعْمَالِ عِنْدَ اللَّهِ الصَّلاةُ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا " .
محمد محی الدین
سیدہ ام فروہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ فضیلت والا عمل یہ ہے کہ نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کر لیا جائے۔“
حدیث نمبر: 973
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدٍ ، أنا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ أَبُو مَسْعُودٍ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، عَنْ أُمِّ فَرْوَةَ ، قَالَتْ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الصَّلاةُ لأَوَّلِ وَقْتِهَا " . وَقَالَ وَكِيعٌ ، عَنِ الْعُمَرِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامِ ، عَنْ بَعْضِ أُمَّهَاتِهِ ، عَنْ أُمِّ فَرْوَةَ ، وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعْنَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
محمد محی الدین
سیدہ ام فروہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: ”کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟“ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کر لینا۔“
حدیث نمبر: 974
حَدَّثَنَا ابْنُ خَلادٍ ، ثنا الْمَعْمَرِيُّ ، نا عُثْمَانُ ، نا وَكِيعٌ ، وَقَالَ اللَّيْثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ الدُّنْيَا ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ فَرْوَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ بات بھی مذکور ہے: سیدہ ام فروہ رضی اللہ عنہا ان خواتین میں سے ایک ہیں جنہوں نے درخت کے نیچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی تھی۔
حدیث نمبر: 975
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسَ ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ الدُّنْيَا أُمِّ أَبِيهِ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ فَرْوَةَ ، وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الأَعْمَالَ يَوْمًا ، فَقَالَ : " إِنَّ أَحَبَّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ تَعْجِيلُ الصَّلاةِ لأَوَّلِ وَقْتِهَا " .
محمد محی الدین
سیدہ ام فروہ رضی اللہ عنہا جو ان خواتین میں سے ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا تھا، وہ بیان کرتی ہیں: میں نے ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اعمال کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا آپ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنا ہے۔“
حدیث نمبر: 976
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، إِمْلاءً ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ الْعَتَكِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، عَنْ أُمِّ فَرْوَةَ ، كَذَا قَالَ ، قَالَتْ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ أَفْضَلِ الأَعْمَالِ ، فَقَالَ : " الصَّلاةُ لأَوَّلِ وَقْتِهَا " .
محمد محی الدین
سیدہ ام فروہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا، میں یہ بات سن رہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ فضیلت والے عمل کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنا ہے۔“
حدیث نمبر: 977
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ ، عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ ، عَنْ أُمِّ فَرْوَةَ ، وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ . ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ الرَّقَاشِيُّ ، ثنا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ ، نا عبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامِ ، عَنْ بَعْضِ أُمَّهَاتِهِ ، عَنْ أُمِّ فَرْوَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَحَبَّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الصَّلاةُ لأَوَّلِ وَقْتِهَا " . لَفْظُ الْعُمَرِيِّ.
محمد محی الدین
سیدہ ام فروہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنا ہے۔“ روایت کے یہ الفاظ عمری نامی راوی کے ہیں۔
حدیث نمبر: 978
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الَّرَبِيْعِ الْحَارِثِيِّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامِ الْبَيَاضِيِّ ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنَ الْمُبَايِعَاتِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ : أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الإِيمَانُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " ، قِيلَ : ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الصَّلاةُ لِوَقْتِهَا " .
محمد محی الدین
قاسم بن غنام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام قبول کرنے والی خاتون کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: ”کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟“ تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا۔“ عرض کی گئی: ”یا رسول اللہ! پھر کون سا ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔“
حدیث نمبر: 979
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُصَلِّي الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا وَقَدْ تَرَكَ مِنَ الْوَقْتِ الأَوَّلِ مَا هُوَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ ".
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”کوئی شخص نماز کو اس کے وقت کے اندر ادا کر لیتا ہے لیکن اس کے ابتدائی وقت میں ادا نہیں کرتا، اس شخص کے لیے اس کے اہل خانہ اور مال سے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 980
ثنا ابْنُ مَنِيعٍ ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ثنا قُتَيْبَةُ ، ثنا لَيْثٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا الآخِرِ إِلا مَرَّتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی بھر کبھی بھی نماز آخری وقت میں ادا نہیں کی یہاں تک کہ آپ کا وصال ہو گیا، صرف دو مرتبہ ایسا ہوا۔
حدیث نمبر: 981
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ صَاحِبِ أَبِي صَخْرَةَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ ، ثنا مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا الآخِرِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی نماز آخری وقت میں ادا نہیں کی یہاں تک کہ آپ کا وصال ہو گیا۔
حدیث نمبر: 982
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ ، ثنا الْوَاقِدِيُّ ، ثنا رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ . قَالَ : وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ وَثَّابٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ صَلاةً إِلَى الْوَقْتِ الآخِرِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نماز آخری وقت میں ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ کا وصال ہو گیا۔
حدیث نمبر: 983
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَقْتُ الأَوَّلُ مِنَ الصَّلاةَ رِضْوَانُ اللَّهِ ، وَالْوَقْتُ الآخِرِ عَفْوُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کر لینا اللہ کی رضامندی کے حصول کا باعث ہے اور آخری وقت میں ادا کرنا اللہ کی طرف سے ملنے والی معافی کا باعث ہے۔“
حدیث نمبر: 984
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنِي فَرَجُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُهَلَّبِيُّ ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ الْوَقْتِ رِضْوَانُ اللَّهِ ، وَآخِرُ الْوَقْتِ عَفْوُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
محمد محی الدین
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”نماز کا ابتدائی وقت اللہ کی رضامندی (کے حصول کا باعث) ہے اور اس کا آخری وقت اللہ کی معافی (کے ملنے کا) باعث ہے۔“
حدیث نمبر: 985
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ عِيسَى الْفَامِيُّ ، قَالا : نا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا مِنْ أَهْلِ عَبْدَسِيٍّ ، نا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ الْوَقْتِ رِضْوَانُ اللَّهِ ، وَوَسَطُ الْوَقْتِ رَحْمَةُ اللَّهِ ، وَآخِرُ الْوَقْتِ عَفْوُ اللَّهِ " .
محمد محی الدین
ابراہیم بن عبدالملک اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ”نماز کا ابتدائی وقت اللہ کی رضامندی، درمیانہ وقت اللہ کی رحمت اور آخری وقت اللہ کی معافی (کے حصول کا باعث ہوتا ہے)۔“