کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب : فجر کی نماز کے بعد اور عصر کی نماز کے بعد نماز ادا کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 964
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، ثنا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَوْمَانِ مِنَ الدَّهْرِ لا تَصُومُوهُمَا ، وَسَاعَتَانِ مِنَ النَّهَارِ لا تُصَلُّوهُمَا ، فَإِنَّ النَّصَارَى وَالْيَهُودَ يَتَحَرُّونَهُمَا ، يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الأَضْحَى ، وَبَعْدَ صَلاةِ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَبَعْدَ صَلاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”دو دن ایسے ہیں جن میں تم روزے نہ رکھو اور دو گھڑیاں ایسی ہیں جن میں نماز ادا نہ کرو، کیونکہ عیسائی اور یہودی اس وقت (عبادت کے) متلاشی ہوتے ہیں، عید الفطر اور عید الاضحیٰ کا دن (روزہ رکھنے کے لیے منع ہے) اور صبح کی نماز کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج غروب ہونے تک (نماز پڑھنا منع ہے)۔“
حدیث نمبر: 965
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ يَزِيدَ الْبَزَّارُ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، نا وَكِيعٌ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا صَلاةَ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلا رَكْعَتَيْنِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”صبح صادق ہو جانے کے بعد (نوافل میں) صرف دو رکعات (یعنی فجر کی سنتیں) ادا کی جائیں گی۔“
حدیث نمبر: 966
ثنا ثنا يَزِيدُ ، ثنا مُحَمَّدٌ ، نا وَكِيعُ ، نا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : كُنَّا نَأْتِي عَائِشَةَ قَبْلَ صَلاةِ الْفَجْرِ ، فَأَتَيْنَاهَا يَوْمًا وَهِيَ تُصَلِّي فَقُلْنَا لَهَا : مَا هَذِهِ الصَّلاةُ ؟ قَالَتْ : " نِمْتُ عَنْ جُزْئِي اللَّيْلَةَ فَلَمْ أَكُنْ لأَدَعَهُ " .
محمد محی الدین
قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں: ہم صبح کی نماز سے پہلے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ایک دن ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ اس وقت نماز ادا کر رہی تھیں۔ ہم نے ان سے دریافت کیا: ”یہ کون سی نماز ہے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”میں رات سو گئی تھی، اور کچھ نوافل ادا نہ کر سکی تھی تو میں انہیں ترک نہیں کرنا چاہتی تھی۔“