حدیث نمبر: 947
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ أَبُو مَسْعُودٍ الزَّجَّاجُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ بِلالٍ ، قَالَ : " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُثَوِّبَ فِي الْفَجْرِ ، وَنَهَانِي أَنْ أُثَوِّبَ فِي الْعِشَاءِ " .
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابولیلی، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی تھی: میں فجر کی اذان میں تثویب کہوں، آپ نے مجھے عشاء کی اذان میں تثویب کہنے سے منع کیا تھا۔
حدیث نمبر: 948
حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَبُو عُمَرَ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا مُسْلِمٌ ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ ، ثنا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : صَعِدْتُ إِلَى ابْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ فَوْقَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ بَعْدَمَا أَذَّنَ ، فَقُلْتُ لَهُ أَخْبِرْنِي عَنْ أَذَانِ أَبِيكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَانَ يَبْدَأُ فَيُكَبِّرُ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، حَيِّ عَلَى الصَّلاةِ ، حَيِّ عَلَى الْفَلاحِ مَرَّةً ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَقُولُ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، حَتَّى يَأْتِيَ عَلَى آخِرِ الأَذَانِ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ " . تَفَرَّدَ بِهِ دَاوُدُ.
محمد محی الدین
مالک بن دینار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: جب سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اذان دے کر فارغ ہوئے تو میں بھی ان کے پیچھے مسجد حرام کے مینار تک چڑھا اور میں نے ان سے کہا: مجھے اس اذان کے بارے میں بتائیں جو آپ کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دی تھی۔ انہوں نے جواب دیا: انہوں نے اذان کے آغاز میں تکبیر کہی، پھر یہ کلمات پڑھے: ”اشھد ان لا الہ الا اللہ، اشھد ان محمدا رسول اللہ، حی علی الصلوٰۃ، حی علی الفلاح“۔ یہ ایک مرتبہ پڑھے، پھر دوبارہ یہ کلمات پڑھے: ”اشھد ان لا الہ الا اللہ، اشھد ان لا الہ الا اللہ، اشھد ان محمدا رسول اللہ، اشھد ان محمدا رسول اللہ“۔ یہاں تک کہ اذان کے آخر میں یہ کلمات پڑھے: ”اللہ اکبر اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ“۔ اس روایت کو نقل کرنے میں داؤد رحمہ اللہ منفرد ہیں۔
حدیث نمبر: 949
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْمَحَامِلِيُّ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ جَعْفَرٍ الْكَوْكَبِيُّ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ ، قَالا : نا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ ، " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ هَذَا الأَذَانَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، ثُمَّ يَعُودُ فَيَقُولُ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ مَرَّتَيْنِ ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ مَرَّتَيْنِ ، حَيِّ عَلَى الْفَلاحِ مَرَّتَيْنِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اذان کے یہ کلمات سکھائے: ”اللہ اکبر اللہ اکبر، اشھد ان لا الہ الا اللہ، اشھد ان لا الہ الا اللہ، اشھد ان محمدا رسول اللہ، اشھد ان محمدا رسول اللہ“۔ پھر انہوں نے دوبارہ کہا: ”اشھد ان لا الہ الا اللہ، اشھد ان لا الہ الا اللہ، اشھد ان محمدا رسول اللہ، اشھد ان محمدا رسول اللہ، حی علی الصلوٰۃ، حی علی الصلوٰۃ، حی علی الفلاح، حی علی الفلاح“۔
حدیث نمبر: 950
حَدَّثَنَا الْقَاضِي حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَبُو عُمَرَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالا : نا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : " كَانَ آخِرُ أَذَانِ بِلالٍ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ " .
محمد محی الدین
اسود رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کا اختتام ان کلمات پر ہوتا تھا: اللہ اکبر اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ۔
حدیث نمبر: 951
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، أَنَّ بِلالا ، قَالَ : " آخِرُ الأَذَانِ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ " .
محمد محی الدین
اسود رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کے آخری کلمات یہ ہوتے تھے: لا الہ الا اللہ۔
حدیث نمبر: 952
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا الْحَسَّانِيُّ ، ثنا وَكِيعٌ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ بِلالٍ ، قَالَ : " آخِرُ أَذَانِ بِلالٍ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ " .
محمد محی الدین
اسود رحمہ اللہ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں: ان کی اذان کے آخر میں یہ کلمات ہوتے تھے: اللہ اکبر اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ۔
حدیث نمبر: 953
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ ، ثنا ابْنُ الْجُنَيْدِ ، ثنا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، نا زُهَيْرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ بِلالٍ ، قَالَ : " آخِرُ الأَذَانِ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ " .
محمد محی الدین
اسود رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کے آخر میں یہ کلمات ہوتے تھے: اللہ اکبر اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ۔
حدیث نمبر: 954
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ بِلالا أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَ فَيُنَادِي : أَلا إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ " ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، فَرَجَعَ فَنَادَى : أَلا إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ . تَابَعَهُ سَعِيدُ بْنُ زَرْبِيٍّ ، وَكَانَ ضَعِيفًا ، عَنْ أَيُّوبَ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے صبح صادق ہونے سے پہلے اذان دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ حکم دیا: وہ واپس جا کر تین مرتبہ یہ اعلان کریں: ”خبردار! بندہ سو گیا تھا (یعنی اس سے غلطی ہوئی ہے)۔“ وہ واپس گئے اور بلند آواز میں یہ کہا: ”خبردار! بندہ سو گیا تھا۔“ یہ کلمات انہوں نے تین مرتبہ کہے۔ ایک اور راوی نے اس کی متابعت کی ہے، تاہم یہ راوی ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 955
حَدَّثَنَا ابْنُ مِرْدَاسٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ مُؤَذِّنٍ لِعُمَرَ ، يُقَالُ لَهُ مَسْرُوحٌ ، أَذَّنَ قَبْلَ الصُّبْحِ فَأَمَرَهُ عُمَرُ ، نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا موذن جس کا نام مسروح تھا، اس نے صبح صادق ہو جانے سے پہلے اذان دے دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے حکم دیا۔ اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔
حدیث نمبر: 956
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ : " أَذَّنَ بِلالٌ مَرَّةً بِلَيْلٍ " . هَذَا مُرْسَلٌ.
محمد محی الدین
ایوب بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے رات کے وقت اذان دے دی۔ یہ روایت مرسل ہے۔
حدیث نمبر: 957
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ، ثنا هُشَيْمٌ ، ثنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، " أَنَّ بِلالا أَذَّنَ لَيْلَةً بِسَوَادٍ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى مَقَامِهِ ، فَيُنَادِي : إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ " ، فَرَجَعَ وَهُوَ يَقُولُ : لَيْتَ بِلالا لَمْ تَلِدْهُ أُمُّهُ ، وَابْتَلَّ مِنْ نَضْحِ دَمِ جَبِينِهِ .
محمد محی الدین
حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے رات کے وقت ہی اذان دے دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا: وہ اپنی جگہ واپس جا کر بلند آواز میں یہ اعلان کریں: ”خبردار! بیشک بندہ سو گیا تھا (یعنی اس سے غلطی ہو گئی)۔“ تو وہ واپس گئے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: ”کاش بلال کی ماں نے اسے جنم نہ دیا ہوتا۔“
حدیث نمبر: 958
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ ، ثنا عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ بِلالا أَذَّنَ قَبْلَ الْفَجْرِ ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ : إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ " ، فَوَجَدَ بِلالٌ وَجْدًا شَدِيدًا . وَهِمَ فِيهِ عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ ، وَالصَّوَابُ قَدْ تَقَدَّمَ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنْ مُؤَذِّنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَوْلَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے صبح صادق ہونے سے پہلے ہی اذان دے دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے آپ نے انہیں یہ حکم دیا: وہ یہ اعلان کریں: ”بیشک بندہ سو گیا تھا۔“ تو اس پر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بہت افسوس ہوا۔ اس روایت میں عامر نامی راوی کو وہم ہوا ہے، صحیح روایت وہ ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے وہ ابن حرب نامی راوی کے حوالے سے نافع کے حوالے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے موذن کے بارے میں منقول ہے۔
حدیث نمبر: 959
نا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ السَّمِيعِ الْهَاشِمِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ ، ثنا أبِي ، نا أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ بِلالا أَذَّنَ قَبْلَ الْفَجْرِ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَعُودَ فَيُنَادِيَ : إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ " ، فَفَعَلَ ، وَقَالَ : لَيْتَ بِلالا لَمْ تَلِدْهُ أُمُّهُ ، وَابْتَلَّ مِنْ نَضْحِ دَمِ جَبِينِهِ . تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو يُوسُفَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وَغَيْرِهِ يُرْسِلُهُ عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے صبح صادق ہونے سے پہلے ہی اذان دے دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا: واپس جا کر یہ اعلان کریں: ”بیشک بندہ سو گیا تھا۔“ تو انہوں نے ایسا ہی کیا اور یہ کہا: ”کاش بلال کی ماں نے اسے جنم نہ دیا ہوتا۔“ اور ان کی پیشانی عرق آلود ہو گئی۔ اس روایت کو نقل کرنے میں ابویوسف نامی راوی منفرد ہیں۔ دیگر راویوں نے اسے مرسل روایت کے طور پر نقل کیا ہے جو قتادہ سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 960
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ثنا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ بِلالا أَذَّنَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَسًا ، وَالْمُرْسَلُ أَصَحُّ.
محمد محی الدین
قتادہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، اس کی سند میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا تذکرہ نہیں ہے۔ اس کا مرسل ہونا درست ہے۔
حدیث نمبر: 961
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمِ الأَوْدِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الأَسَدِيُّ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ صُبَيْحٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " أَذَّنَ بِلالٌ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ ، فَرَقَى بِلالٌ وَهُوَ يَقُولُ : لَيْتَ بِلالا ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ ، وَابْتَلَّ مِنْ نَضْحِ دَمِ جَبِينِهِ يُرَدِّدُهَا حَتَّى صَعِدَ ، ثُمَّ قَالَ : أَلا إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ أَذَّنَ حِينَ أَضَاءَ الْفَجْرُ " . مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الأَسَدِيُّ ضَعِيفٌ جِدًّا.
محمد محی الدین
حسن بصری، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا وہ دوبارہ اس کو دہرائیں، تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ مینار پر چڑھے اور وہ یہ کہہ رہے تھے: ”کاش بلال کی ماں اسے روتی۔“ اور ان کی پیشانی عرق آلود ہو گئی۔ وہ اس جملے کو دہراتے ہوئے مینار پر چڑھے اور یہ کہا: ”خبردار! بندہ سو گیا تھا۔“ انہوں نے یہ جملہ دو مرتبہ دہرایا، پھر جب صبح صادق ہو گئی تو انہوں نے اذان دی۔ اس روایت کا راوی محمد بن قاسم اسدی نہایت ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 962
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْيَاءَ لَمْ يُصْنَعْ مِنْهَا شَيْئًا ، قَالَ : فَأُرِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الأَذَانَ فِي الْمَنَامِ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : " أَلْقِهِ عَلَى بِلالٍ " ، فَأَلْقَاهُ عَلَى بِلالٍ ، فَأَذَّنَ بِلالٌ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَنَا رَأَيْتُهُ وَأَنَا كُنْتُ أُرِيدُهُ ، قَالَ : " فَأَقِمْ أَنْتَ " .
محمد محی الدین
محمد بن عبداللہ اپنے چچا سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف صورتیں اختیار کرنے کا ارادہ کیا، لیکن ابھی آپ نے اس میں سے کسی کو بھی اختیار نہیں کیا تھا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا عبداللہ بن زید کو خواب میں اذان کا طریقہ سکھایا گیا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا: ”تم یہ بلال کو بتاؤ۔“ انہوں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بتایا تو سیدنا بلال نے اذان دی۔ سیدنا عبداللہ بیان کرتے ہیں: میں انہیں دیکھ رہا تھا، میں خود یہ دینا چاہتا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اقامت کہہ دو۔“
حدیث نمبر: 963
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : كَانَ جَدِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ بِهَذَا الْخَبَرِ فَأَقَامَ جَدِّي . وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو مَدَنِيٌّ ، وَابْنُ مَهْدِيّ لا يُحَدِّثُ عَنِ الْبَصْرِيِّ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ محمد بن عبداللہ بن محمد کے حوالے سے، سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔