حدیث نمبر: 669
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، نا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جُعِلَتِ الأَرْضُ كُلُّهَا لَنَا مَسْجِدًا ، وَجُعِلَتْ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُورًا ، وَجُعِلَتْ صُفُوفُنَا مثل صُفُوفِ الْمَلائِكَةِ " .
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”پوری روئے زمین کو ہمارے لیے نماز پڑھنے کی جگہ بنا دیا گیا ہے اور اس کی مٹی کو ہمارے لیے طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے اور ہماری صفوں کو فرشتوں کی صفوں کی مانند بنا دیا گیا ہے۔“
حدیث نمبر: 670
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَيْلانَ ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ الْجُنَيْدِ ، نا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَقَالَ : " جُعِلَتِ الأَرْضُ كُلُّهَا لَنَا مَسْجِدًا ، وَتُرْبَتُهَا طَهُورًا إِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ " .
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں: ”تمام روئے زمین کو ہمارے لیے نماز کی جگہ بنا دیا گیا ہے اور طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے جب ہمیں پانی نہ ملے۔“
حدیث نمبر: 671
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الأَنْصَارِيِّ ، فَقَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ : " أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلامَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ ، فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَذِرَاعَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلامَ " .
محمد محی الدین
عمیر، جو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام تھے، فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں اور عبداللہ بن یسار، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے غلام ہیں، ہم دونوں سیدنا ابوجہم بن حارث انصاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو سیدنا ابوجہم رضی اللہ عنہ نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمل کے کنویں کی طرف سے تشریف لا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص آیا، اس نے آپ کو سلام کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب نہیں دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیوار کے پاس تشریف لے گئے، آپ نے اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں کا مسح کیا (یعنی تیمم کیا) اور پھر اسے سلام کا جواب دیا۔
حدیث نمبر: 672
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ ، ثنا عَمِّي ، نا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، عَنْ أَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ نَحْوَ بِئْرِ جَمَلٍ لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ وَهُوَ مُقْبِلٌ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ ، فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوجہم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمل کے کنویں کی طرف جا رہے تھے تاکہ آپ قضائے حاجت کریں، آپ کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی جو سامنے سے آ رہا تھا، اس نے آپ کو سلام کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سلام کا جواب نہیں دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیوار کے پاس تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک اور دونوں بازوؤں کا مسح کیا (یعنی تیمم کیا) پھر سلام کا جواب دیا۔
حدیث نمبر: 673
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ، حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ ، نا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، نا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الأَعْرَجُ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : وَكَانَ عُمَيْرٌ مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ ثِقَةً ، فِيمَا بَلَغَنِي عَنْ أَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ نَحْوَ بِئْرِ جَمَلٍ ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى الْجِدَارِ وَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " وَعَلَيْكَ السَّلامُ " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوجہم بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے جمل کے کنویں کی طرف تشریف لے جا رہے تھے۔ ایک شخص نے سامنے کی طرف سے (آ کر) آپ کو سلام کیا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب نہ دیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دست مبارک دیوار پر رکھا اور اس کے ذریعے اپنا چہرہ مبارک اور دونوں بازوؤں کا مسح کیا (یعنی تیمم کیا) پھر آپ نے فرمایا: ”تم پر بھی سلام ہو۔“
حدیث نمبر: 674
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ ، نا أَبُو حَاتِمٍ أَحْمَدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ مِهْرَانَ الْمَرْوَزِيُّ ، ثنا أَبُو مُعَاذٍ ، نا أَبُو عِصْمَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي جُهَيْمٍ ، قَالَ : " أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بِئْرِ جَمَلٍ ، إِمَّا مِنْ غَائِطٍ أَوْ مِنْ بَوْلٍ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلامَ ، فَضَرَبَ الْحَائِطَ بِيَدِهِ ضَرْبَةً فَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ ، ثُمَّ ضَرَبَ أُخْرَى فَمَسَحَ بِهَا ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيَّ السَّلامَ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوجہم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمل کے کنویں کی طرف تشریف لا رہے تھے، شاید پاخانہ کر کے یا پیشاب کر کے آ رہے تھے۔ میں نے آپ کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سلام کا جواب نہ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک دیوار پر پھیرا اور اس کے ذریعے اپنا چہرہ مبارک اور دونوں بازوؤں کا مسح کیا (یعنی تیمم کیا) پھر آپ نے مجھے سلام کا جواب دیا۔
حدیث نمبر: 675
قَالَ أَبُو مُعَاذٍ : وَحَدَّثَنِي خَارِجَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي جُهَيْمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوجہم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں منقول ہے۔
حدیث نمبر: 676
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، إِمْلاءً ، نا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ ، نا نَافِعٌ ، قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي حَاجَةٍ لابْنِ عُمَرَ ، فَقَضَى ابْنُ عُمَرَ حَاجَتَهُ ، وَكَانَ مِنْ حَدِيثِهِ يَوْمَئِذٍ أَنْ قَالَ : مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِكَّةٍ مِنَ السِّكَكِ ، وَقَدْ خَرَجَ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلامَ حَتَّى إِذَا كَادَ الرَّجُلُ يَتَوَارَى فِي السِّكَّةِ ، ضَرَبَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْحَائِطِ فَمَسَحَ وَجْهَهُ ثُمَّ ضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَمَسَحَ ذِرَاعَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَى الرَّجُلِ السَّلامَ ، وَقَالَ : " إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ السَّلامَ إِلا أَنِّي لَمْ أَكُنْ عَلَى طُهْرٍ " .
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے کسی کام کے سلسلے میں ان کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، جب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا مقصد بیان کر دیا، تو اس کے بعد اس دن کی گفتگو میں انہوں نے یہ بات بیان کی: ایک مرتبہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، یہ گلی کی بات ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت پاخانہ کر کے یا پیشاب کر کے تشریف لا رہے تھے۔ اس شخص نے آپ کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب نہ دیا، یہاں تک کہ وہ شخص گلی سے باہر نکلنے والا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک دیوار پر پھیر کر اپنا چہرہ مبارک کا مسح کیا، پھر دوبارہ پھیر کر اپنے دونوں بازوؤں کا مسح کیا (یعنی تیمم کیا) پھر آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے تمہیں اس لیے سلام کا جواب نہیں دیا، کیونکہ میں باوضو حالت میں نہیں تھا۔“
حدیث نمبر: 677
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَتَّابٍ ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَرَوِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْمَعَافِرِيُّ ، نا حَيْوَةُ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، أَنَّ نَافِعًا ، حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَائِطِ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ عِنْدَ بِئْرِ جَمَلٍ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْحَائِطِ ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، ثُمَّ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجُلِ السَّلامَ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ بات بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاخانہ کر کے تشریف لا رہے تھے۔ جمل کے کنویں کے قریب ایک شخص آپ کے سامنے آیا، اس نے آپ کو سلام کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیوار کے پاس تشریف لے گئے اور اپنا چہرہ مبارک اور دونوں بازوؤں کا مسح کیا (یعنی تیمم کیا) پھر اس شخص کے سلام کا جواب دیا۔
حدیث نمبر: 678
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ : " وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ سورة النساء آية 43 ، قَالَ : إِذَا كَانَتْ بِالرَّجُلِ الْجِرَاحَةُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوِ الْقُرُوحُ أَوِ الْجُدَرِيُّ فَيُجْنِبُ فَيَخَافُ أَنْ يَمُوتَ إِنِ اغْتَسَلَ يَتَيَمَّمُ " .
محمد محی الدین
سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ کے فرمان کے بارے میں کہا: ”اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو“، کہ جب آدمی کو اللہ کی راہ میں زخم لگے، یا اسے پھوڑا نکلے، یا خارش کی بیماری ہو، پھر اسے جنابت لاحق ہو یا اسے اندیشہ ہو کہ غسل کرنے سے وہ مر سکتا ہے، تو ایسا شخص تیمم کرے گا۔
حدیث نمبر: 679
حَدَّثَنَا بَدْرُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سَلْمَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " رُخِّصَ لِلْمَرِيضِ التَّيَمُّمُ بِالصَّعِيدِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”بیمار شخص کو مٹی کے ذریعے تیمم کرنے کی اجازت ہے۔“
حدیث نمبر: 680
حَدَّثَنَا الْمَحَامِلِيُّ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيْنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، نَحْوَهُ . رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَوَقَفَهُ وَرْقَاءُ ، وَأَبُو عَوَانَةَ وَغَيْرُهُمَا . وَهُوَ الصَّوَابُ.
محمد محی الدین
عطاء نے یہ روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک، مرفوع، حدیث کے طور پر نقل کی ہے، جبکہ دیگر روایوں نے اسے موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 681
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَالِكِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ ، ثنا أَبُو مُوسَى ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ أَخُو كَرْخَوَيْهِ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَبُو الأَزْهَرِ ، قَالُوا : نا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، نا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ وَأَنَا فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السَّلاسِلِ ، فَأَشْفَقْتُ إِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلَكَ ، فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِي الصُّبْحَ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ " يَا عَمْرُو ، صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ وَأَنْتَ جُنُبٌ ؟ " ، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي مَنَعَنِي مِنَ الاغْتِسَالِ ، فَقُلْتُ : إِنِّي سَمِعْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، يَقُولُ : وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا سورة النساء آية 29 ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يَقُلْ لِي شَيْئًا . وَالْمَعْنَى مُتَقَارِبٌ.
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ مجھے سردیوں کی رات میں احتلام ہوا۔ یہ غزوہ ذات السلاسل کی بات ہے۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے غسل کیا تو ہلاک ہو جاؤں گا، اس لیے میں نے تیمم کر کے اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔ بعد میں اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ نے دریافت کیا: ”اے عمرو! تم نے جنابت کی حالت میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی؟“ میں نے آپ کو وہ وجہ بتائی جس نے مجھے غسل سے روکا تھا۔ میں نے عرض کیا: میں نے اللہ تعالیٰ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تمہارے بارے میں بڑا رحم فرمانے والا ہے۔“ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور کچھ نہ فرمایا۔
حدیث نمبر: 682
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، ثنا عَمِّي ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، كَانَ عَلَى سَرِيَّةٍ ، وَأَنَّهُمْ أَصَابَهُمْ بَرْدٌ شَدِيدٌ ، لَمْ يَرَوْا مِثْلَهُ ، فَخَرَجَ لِصَلاةِ الصُّبْحِ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَقَدِ احْتَلَمْتُ الْبَارِحَةَ ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ بَرْدًا مثل هَذَا مَرَّ عَلَى وُجُوهِكُمْ مِثْلُهُ ، فَغَسَلَ مَغَابِنَهُ وَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ ، ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ فَلَمَّا ، قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ : " كَيْفَ وَجَدْتُمْ عَمْرًا وَصَحَابَتِهِ لَكُمْ ؟ " ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا ، وَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّى بِنَا وَهُوَ جُنُبٌ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرٍو ، فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ وَبِالَّذِي لَقِيَ مِنَ الْبَرْدِ ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ قَالَ : وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ سورة النساء آية 29 ، فَلَوِ اغْتَسَلْتُ مِتُّ ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرٍو .
محمد محی الدین
ابوقیس، جو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں، بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ایک سریہ میں گئے ہوئے تھے۔ اس دوران انہیں شدید سردی کا سامنا کرنا پڑا، جو اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ جب وہ صبح کی نماز کے لیے تشریف لے جانے لگے تو انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھے کل رات احتلام ہوا تھا۔ ایسی سردی، اللہ کی قسم! میں نے کبھی نہیں دیکھی۔“ پھر انہوں نے اپنے زانوں کو (جہاں احتلام کا نشان تھا) دھویا، نماز کا سا وضو کیا، اور اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی۔ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان کے ساتھیوں سے پوچھا: ”تم نے عمرو کو کیسا پایا، اس کا ساتھ کیسا رہا؟“ انہوں نے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کی بہت تعریف کی اور بتایا: ”یا رسول اللہ! ایک مرتبہ انہوں نے جنابت کی حالت میں ہمیں نماز پڑھائی تھی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو کو بلایا۔ انہوں نے آپ کو صورت حال بتائی اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔‘ اگر میں اس وقت غسل کر لیتا تو مر جاتا۔“ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے۔
حدیث نمبر: 683
وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ دَبُوقَا ، نا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالا : نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ، نا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَبُو عَلِيٍّ بِشْرُ بْنُ مُوسَى ، نا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالا : نا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ الأَسْلَعِ ، قَالَ : أَرَانِي كَيْفَ عَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّيَمُّمَ " فَضَرَبَ بِكَفَّيْهِ الأَرْضَ ثُمَّ نَفَضَهُمَا ، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ ، ثُمَّ أَمَّرَ عَلَى لِحْيَتِهِ ، ثُمَّ أَعَادَهُمَا إِلَى الأَرْضِ فَمَسَحَ بِهِمَا الأَرْضَ ، ثُمَّ دَلَكَ إِحْدَاهُمَا بِالأُخْرَى ثُمَّ مَسَحَ ذِرَاعَيْهِ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا " . هَذَا لَفْظُ إِبْرَاهِيمَ الْحَرْبِيِّ ، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ فِي حَدِيثِهِ : فَأَرَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَمْسَحُ فَمَسَحْتُ ، قَالَ : فَضَرَبَ بِكَفَّيْهِ الأَرْضَ ثُمَّ رَفَعَهُمَا لِوَجْهِهِ ، ثُمَّ ضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَمَسَحَ ذِرَاعَيْهِ بَاطِنَهُمَا وَظَاهِرَهُمَا حَتَّى مَسَّ بِيَدَيْهِ الْمِرْفَقَيْنِ.
محمد محی الدین
ربیع بن بدر اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا اسلع نے کہا: ”آپ مجھے دکھائیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کس طرح تیمم کرنے کا طریقہ سکھایا تھا۔“ تو انہوں نے اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر ملیں، پھر ان پر پھونک ماری، پھر ان دونوں کے ذریعے اپنا چہرہ مبارک کا مسح کیا، یہاں تک کہ اپنی داڑھی کا بھی مسح کیا، پھر دونوں ہاتھوں کو زمین پر لگایا، ان کے ذریعے زمین کا مسح کیا، ان میں سے ایک کو دوسرے پر مل لیا۔ انہوں نے اپنی ہتھیلی کے باہر والے حصے اور اندرونی حصے کا مسح کیا۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھایا کہ میں کس طرح مسح کروں؟ راوی بیان کرتے ہیں: پھر انہوں نے اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر رکھیں، پھر انہیں اپنا چہرہ مبارک کی طرف بلند کیا، پھر دوسری ضرب لگائی، پھر دونوں ہاتھوں کے ظاہری اور اندرونی حصے کا مسح کیا، یہاں تک کہ اپنے ہاتھوں کے ذریعے کہنیوں کا مسح کیا۔
حدیث نمبر: 684
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالا : نا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، نا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا أَكَانَ يَتَيَمَّمُ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لا يَتَيَمَّمُ ، وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى : فَكَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الآيَةِ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ : فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة المائدة آية 6 ، فَقَالَ لَهُ : لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذَا لأَوْشَكُوا إِذَا بَرُدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا بِالصَّعِيدِ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى : فَإِنَّمَا كَرِهْتُمْ هَذَا لِهَذَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى : أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَرَ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ ، ثُمَّ جِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ عَلَى الأَرْضِ ثُمَّ تَمْسَحَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى ثُمَّ تَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ " . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَلَمْ تَرَ عُمَرُ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ ، وَقَالَ يُوسُفُ : " أَنْ تَضْربَ بِكَفَّيْكَ عَلَى الأَرْضِ ثُمَّ تَمْسَحَهُمَا ثُمَّ تَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ وَكَفَّيْكَ " ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَلَمْ تَرَ عُمَرَ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ.
محمد محی الدین
شقیق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا تھا۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے ابوعبدالرحمن! آپ کا کیا خیال ہے اگر کوئی شخص جنبی ہو جائے اور اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے، کیا وہ تیمم کرتا رہے گا؟“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ تیمم نہیں کرے گا، اگرچہ اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے۔“ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پھر آپ سورۃ مائدہ کی اس آیت کے بارے میں کیا کہیں گے: ’اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو‘؟“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو اس کی اجازت دے دی گئی تو عنقریب وہ پانی ٹھنڈا لگنے پر بھی تیمم کرنے لگیں گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ نے پوچھا: ”آپ اس وجہ سے اسے ناپسند کرتے ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں۔“ سیدنا ابوموسیٰ نے کہا: ”کیا آپ نے وہ بات نہیں سنی جو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہی تھی؟“ انہوں نے بیان کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک کام کے سلسلے میں بھیجا۔ میں جنبی ہو گیا اور پانی نہ ملا۔ میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا جیسے کوئی جانور ہوتا ہے۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کا تذکرہ کیا۔ آپ نے فرمایا: ”تمہارے لیے اتنا کافی تھا کہ تم اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مار کر ایک سے دوسرے پر مسح کر لیتے، پھر ان سے اپنے چہرے کا مسح کر لیتے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بیان پر قناعت نہیں کی؟“ یوسف رحمہ اللہ کے الفاظ ہیں: ”تم اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مار کر ان کا مسح کرو، پھر ان سے اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں کا مسح کر لو۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بیان پر اکتفا نہیں کیا؟“
حدیث نمبر: 685
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ جَابِرٍ ، نا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ظَبْيَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " التَّيَمُّمُ ضَرْبَتَانِ ضَرْبَةً لِلْوَجْهِ ، وَضَرْبَةً لِلْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ " . كَذَا رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ ظَبْيَانَ مَرْفُوعًا ، وَوَقَفَهُ يَحْيَى بْنُ الْقَطَّانِ ، وَهُشَيْمٌ وَغَيْرُهُمَا . وَهُوَ الصَّوَابُ.
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”تیمم میں دو ضربیں ہوتی ہیں۔ ایک ضرب چہرہ مبارک کے لیے ہوتی ہے اور ایک دونوں بازوؤں کے لیے کہنیوں تک (مسح) کرنے کے لیے ہوتی ہے۔“ علی بن ظبیان نامی راوی نے اس کو مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا ہے، جسے دیگر آدمیوں نے موقوف کے طور پر نقل کیا ہے اور یہی درست ہے۔
حدیث نمبر: 686
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، نا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نا هُشَيْمٌ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَيُونُسُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " التَّيَمُّمُ ضَرْبَتَانِ ضَرْبَةً لِلْوَجْهِ وَضَرْبَةً لِلْكَفَّيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ فرماتے ہیں: ”تیمم میں دو ضربیں ہوتی ہیں۔ ایک ضرب چہرہ مبارک کے لیے اور ایک ضرب دونوں بازوؤں پر کہنیوں تک (مسح کرنے کے لیے) ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 687
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، " كَانَ يَتَيَمَّمُ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ " .
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہنیوں تک تیمم کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 688
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الأُبُلِّيُّ ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " تَيَمَّمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبْنَا بِأَيْدِينَا عَلَى الصَّعِيدِ الطِّيبِ ، ثُمَّ نَفَضْنَا أَيْدِيَنَا فَمَسَحْنَا بِهَا وُجُوهَنَا ، ثُمَّ ضَرَبْنَا ضَرْبَةً أُخْرَى الصَّعِيدَ الطِّيبَ ، ثُمَّ نَفَضْنَا أَيْدِيَنَا فَمَسَحْنَا بِأَيْدِينَا مِنَ الْمَرَافِقِ إِلَى الأَكُفِّ عَلَى مَنَابِتِ الشَّعْرِ مِنْ ظَاهِرٍ وَبَاطِنٍ " .
محمد محی الدین
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ کے زمانہ اقدس میں تیمم کیا۔ ہم اپنے ہاتھ صاف مٹی پر مارتے تھے اور پھر اپنے ہاتھوں کو جھاڑتے تھے اور پھر اس کے ذریعے اپنا چہرہ مبارک کا مسح کرتے تھے، پھر ہم دوبارہ صاف ہاتھ مٹی پر مارتے تھے اور پھر ان کو جھاڑتے تھے اور اپنے بازوؤں کا کہنیوں سے لے کر ہتھیلیوں تک بالوں کی جڑوں تک اندرونی اور بیرونی حصے کا مسح کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 689
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيٍّ الْمَكْرَمِيُّ ، نا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ التُّسْتَرِيُّ ، نا يَحْيَى بْنُ غَيْلانَ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَزِيعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " تَيَمَّمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَرْبَتَيْنِ : ضَرْبَةً لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ ، وَضَرْبَةً لِلذِّرَاعَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ " . سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ضَعِيفَانِ.
محمد محی الدین
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (یعنی آپ کے زمانہ میں) تیمم کیا ہے۔ اس میں دو ضربیں ہوتی ہیں۔ ایک ضرب چہرہ مبارک کے لیے اور دونوں ہتھیلیوں کے لیے ہوتی تھی، جبکہ ایک ضرب دونوں بازوؤں کے لیے کہنیوں تک ہوتی تھی۔ اس روایت کے دو راوی سلیمان بن ارقم، سلیمان بن ابوداؤد ضعیف ہیں۔
حدیث نمبر: 690
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالا : نا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ثنا شَبَابَةُ ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، وَنَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فِي التَّيَمُّمِ ضَرْبَتَيْنِ : ضَرْبَةً لِلْوَجْهِ ، وَضَرْبَةً لِلْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تیمم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ”اس میں دو ضربیں ہوں گی۔ ایک ضرب چہرے کے لیے ہو گی، دوسری ضرب کہنیوں تک ہاتھوں کے لیے ہو گی۔“
حدیث نمبر: 691
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَعَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، قَالُوا : نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ ، نا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَنْمَاطِيُّ ، ثنا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " التَّيَمُّمُ : ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ ، وَضَرْبَةٌ لِلذِّرَاعَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ " . رِجَالُهُ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ ، وَالصَّوَابُ مَوْقُوفٌ.
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تیمم میں ایک ضرب چہرے کے لیے ہو گی، ایک ضرب کلائی سے کہنیوں تک کے لیے ہو گی۔“ اس کے تمام راوی ثقات ہیں تاہم درست یہ ہے کہ یہ روایت موقوف ہے۔
حدیث نمبر: 692
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَعَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ قَالُوا : نا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، نا أَبُو نُعَيْمٍ ، نا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ : أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ ، وَإِنِّي تَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ ، قَالَ : اضْرِبْ ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ فَمَسَحَ وَجْهَهُ ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ أُخْرَى فَمَسَحَ بِهِمَا يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ایک شخص آیا اور بولا: ”مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے، میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا۔“ تو انہوں نے فرمایا: ”تم (ہاتھ) زمین پر مارو۔“ تو اس نے اپنا ہاتھ زمین پر مار کر دونوں ہاتھوں کے ذریعے چہرے کا مسح کیا پھر اس نے دوسرا ہاتھ زمین پر مارا اور اس کے ساتھ ہاتھوں سے کہنیوں تک کا مسح کیا۔
حدیث نمبر: 693
حَدَّثَنَا الْقَاضِيَانِ الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالا : نا إبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، نا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا أَبَانُ ، قَالَ : سُئِلَ قَتَادَةُ عَنِ التَّيَمُّمِ فِي السَّفَرِ ، فَقَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ ، يَقُولُ : " إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ " ، وَكَانَ الْحَسَنُ ، وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ يَقُولانِ : " إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ " . وَحَدَّثَنِي مُحَدِّثٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ " . قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : فَذَكَرْتُهُ لأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فَعَجِبَ مِنْهُ ، وَقَالَ : مَا أَحْسَنَهُ.
محمد محی الدین
ابان نامی راوی بیان کرتے ہیں: قتادہ سے سفر کے دوران تیمم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ بیان کرتے تھے کہ کہنیوں تک کیا جائے گا۔ حسن بصری اور ابراہیم نخعی فرماتے ہیں: کہنیوں تک (مسح کیا جائے گا)۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کہنیوں تک (تیمم) کیا جائے گا۔“ ابواسحاق نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اس روایت کا تذکرہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے کیا تو انہیں یہ روایت بہت پسند آئی۔ انہوں نے فرمایا: ”یہ کتنی بہترین روایت ہے۔“
حدیث نمبر: 694
حَدَّثَنَا الْقَاضِي حَدَّثَنَا الْقَاضِي أَبُو عُمَرَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ إِذَا تَيَمَّمَ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ ضَرْبَةً فَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ ضَرْبَةً أُخْرَى ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ وَلا يَنْفُضُ يَدَيْهِ مِنَ التُّرَابِ " .
محمد محی الدین
سالم، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: جب وہ تیمم کرتے تھے تو دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارتے تھے۔ ان کے ذریعے ہاتھوں سے دونوں کہنیوں تک مسح کیا کرتے تھے۔ وہ اپنے ہاتھوں سے مٹی نہیں جھاڑتے تھے۔
حدیث نمبر: 695
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَشُجَاعٌ ، قَالا : نا هُشَيْمُ ، نا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " ضَرْبَتَانِ : ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ ، وَضَرْبَةٌ لِلذِّرَاعَيْنِ " .
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ”(تیمم میں) دو ضربیں ہوں گی۔ ایک ضرب چہرے کے لیے ہو گی، ایک ضرب دونوں بازوؤں کے لیے ہو گی۔“
حدیث نمبر: 696
حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَنَّاطُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي مَذْعُورٍ ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَهُ بِالتَّيَمُّمِ بِالْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چہرے اور دونوں بازوؤں کا تیمم کرنے کی ہدایت کی تھی۔
حدیث نمبر: 697
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِي نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا إبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، قَالُوا : نا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، نا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، ثنا قَتَادَةُ ، عَنْ عَزْرَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمَّارٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّيَمُّمُ ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تیمم چہرے اور دونوں بازوؤں کے لیے ضرب لگانے (یعنی ان پر مسح کرنے) کا نام ہے۔“
حدیث نمبر: 698
نا نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيًّ ، وَعَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ قَالُوا : نا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، نا أَبُو نُعَيْمٍ ، نا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ : أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَإِنِّي تَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ ، قَالَ : اضْرِبْ ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ الأَرْضَ فَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ أُخْرَى فَمَسَحَ بِهِمَا يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ایک شخص آیا اور بولا: ”مجھے جنابت لاحق ہو گئی ہے اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا۔“ تو انہوں نے فرمایا: ”تم زمین پر ہاتھ مارو۔“ اس نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا اور پھر اس کے ذریعے چہرے کا مسح کیا اور پھر دوبارہ اپنا ہاتھ زمین پر مارا پھر ان دونوں ہاتھوں کے ذریعے کہنیوں تک دونوں بازوؤں کا مسح کیا۔
حدیث نمبر: 699
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ . ح حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الْقَاضِي ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالا : نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " التَّيَمُّمُ ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ " . قَالَ الرَّمَادِيُّ : قَالَ يَزِيدُ : مَنْ أَخَذَ بِهِ فَلا بَأْسَ.
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تیمم میں ایک ہی ضرب ہو گی جو چہرے اور دونوں بازوؤں کے لیے ہو گی۔“ رمادی نامی راوی بیان کرتے ہیں: یزید نامی راوی بیان کرتے ہیں: جو شخص اس حدیث کو اختیار کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 700
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، وَعُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالا : نا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نا غُنْدَرٌ ، نا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمَّارٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ " ، وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الأَرْضَ ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا وَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ .
محمد محی الدین
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک زمین پر مارا، پھر آپ نے اس پر پھونک ماری اور اس کے ذریعے اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں کا مسح کیا۔
حدیث نمبر: 700/1
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا جَرِيرٌ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، نا ابْنُ كَرَامَةَ ، نا ابْنُ نُمَيْرٍ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمَّارٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 701
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْمُقْرِئُ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَيَّارٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُسْتَوْرِدِ ، قَالا : نا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، أَنَّهُ أَجْنَبَ فِي سَفَرٍ لَهُ فَتَمَعَّكَ فِي التُّرَابِ ظَهْرًا لِبَطْنٍ ، فَلَمَّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : " يَا عَمَّارُ ، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِكَفَّيْكَ فِي التُّرَابِ ، ثُمَّ تَنْفُخَ فِيهِمَا ثُمَّ تَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ وَكَفَّيْكَ إِلَى الرُّسْغَيْنِ " . لَمْ يَرْوِهِ عَنْ حُصَيْنٍ مَرْفُوعًا ، غَيْرُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ ، وَوَقَفَهُ شُعْبَةُ ، وَزَائِدَةُ وَغَيْرُهُمَا ، وَأَبُو مَالِكٍ فِي سَمَاعِهِ مِنْ عَمَّارِ نَظَرٌ ، فَإِنَّ سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ قَالَ فِيهِ عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ أَبْزَى ، عَنْ عَمَّارٍ ، قَالَهُ الثَّوْرِيُّ عَنْهُ.
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ وہ سفر کے دوران جنبی ہو گئے تو مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گئے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ کو اس بارے میں بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عمار! تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہوتا کہ تم اپنے دونوں ہاتھوں کو مٹی پر مارتے پھر ان پر پھونک مارتے پھر ان دونوں کے ذریعے اپنے چہرے اور کلائیوں تک اپنے دونوں ہاتھوں کا مسح کر لیتے۔“ اس روایت کو مرفوع روایت کے طور پر ابراہیم نامی راوی نے نقل کیا ہے، جبکہ دیگر راویوں نے اس کو موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے اور اس کے راوی ابومالک کا سیدنا عمار سے احادیث کا سماع محل نظر ہے کیونکہ دیگر راویوں نے اس ابومالک کے حوالے سے ابن ابزی کے حوالے سے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 702
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا شَبَابَةُ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مَالِكٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يَخْطُبُ بِالْكُوفَةِ ، وَذَكَرَ التَّيَمُّمَ " فَضَرَبَ بِيَدِهِ الأَرْضَ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ " .
محمد محی الدین
ابومالک نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو کوفہ میں خطبہ دیتے ہوئے سنا، تو انہوں نے تیمم کا ذکر کرتے ہوئے بتایا: ”اس میں ایک مرتبہ اپنے ہاتھ کو زمین پر مارا جائے گا اور اس کے ذریعے اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں کا مسح کر لیا جائے گا۔“
حدیث نمبر: 703
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا مُعَاوِيَةُ ، نا زَائِدَةُ ، نا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ عَمَّارٍ ، أَنَّهُ غَمَسَ بَاطِنَ كَفَّيْهِ فِي التُّرَابِ ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمُفَصَّلِ ، وَقَالَ عَمَّارٌ : " هَكَذَا التَّيَمُّمُ " . وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ عَمَّارٍ مَرْفُوعًا.
محمد محی الدین
ابومالک، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: انہوں نے اپنی ہتھیلیوں کو مٹی پر مارا پھر اس پر پھونک ماری اور اپنے چہرے پر پھیرا اور دونوں بازوؤں کا جوڑوں تک مسح کیا، پھر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تیمم اس طرح ہوتا ہے۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مرفوع حدیث کے طور پر منقول ہے۔
حدیث نمبر: 704
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَعَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، قَالا : نا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يَحْيَى ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : " مَا أُمِرَ فِيهِ بِالْغُسْلِ فَعَلَيْهِ التَّيَمُّمُ وَمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِالْغُسْلِ تُرِكَ " .
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں: جس عضو کو دھونے کا حکم ہے اس پر تیمم کرنا لازم ہو گا۔ جس عضو کو دھونے کا حکم نہیں اسے تیمم میں ترک کر دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 705
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، وَعَبْدُ الْبَاقِي ، قَالا : نا إِبْرَاهِيمُ ، نا أَبُو بَكْرٍ ، نا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : " أُمِرْنَا بِالتَّيَمُّمِ لِمَا أُمِرْنَا فِيهِ بِالْغُسْلِ " .
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں: ہمیں اپنے ان اعضاء کا تیمم کرنے کا حکم دیا گیا ہے جن کو (وضو) میں دھونے کا حکم دیا گیا ہے۔