کتب حدیث ›
سنن الدارقطني › ابواب
› باب : شرمگاہوں کے مل جانے سے غسل واجب ہوجاتا ہے، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
حدیث نمبر: 392
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ ، نا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، نا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ ، فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔“ میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ایسا کرتے تھے تو ہم دونوں غسل کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 393
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ، أَخْبَرَنِي أبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ الأَوْزَاعِيَّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا " سُئِلَتْ عَنِ الرَّجُلِ يُجَامِعُ الْمَرْأَةَ وَلا يُنْزِلُ الْمَاءَ ؟ قَالَتْ : فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاغْتَسَلْنَا مِنْهُ جَمِيعًا " . رَفَعَهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مَزْيَدٍ . وَرَوَاهُ بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، وَأَبُو الْمُغِيرَةِ ، وَعَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَغَيْرُهُمْ مَوْقُوفًا.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ان سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو بیوی کے ساتھ صحبت کرتا ہے اور اسے انزال نہیں ہوتا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ایسا کرتے تھے تو ہم دونوں ایک ساتھ غسل کیا کرتے تھے۔“ یہی روایت بعض دیگر حوالوں سے ”مرفوع“ روایت کے طور پر منقول ہے اور بعض اسناد کے حوالے سے ”موقوف“ روایت کے طور پر منقول ہے۔
حدیث نمبر: 394
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، نا عَمِّي ، حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي أُمُّ كُلْثُومٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ رَجُلا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُجَامِعُ أَهْلَهُ ثُمَّ يَكْسَلُ ، هَلْ عَلَيْهِ غُسْلٌ ؟ وَعَائِشَةُ جَالِسَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لأَفْعَلُ ذَلِكَ أَنَا وَهَذِهِ ثُمَّ نَغْتَسِلُ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات بتائی ہے، ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرتا ہے اور پھر انزال ہونے سے پہلے (صحبت ختم کر دیتا ہے)، ”کیا اس پر غسل کرنا لازم ہو گا؟“ تو اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی وہاں بیٹھی ہوئی تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ”میں اور یہ (یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) بعض اوقات اس طرح بھی کر لیتے ہیں لیکن پھر ہم غسل کرتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 395
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نا الْمُتَوَكِّلُ بْنُ فُضَيْلٍ أَبُو أَيُّوبَ الْحَدَّادُ بَصْرِيُّ ، عَنْ أَبِي ظِلالٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الصُّبْحِ وَقَدِ اغْتَسَلَ مِنْ جَنَابَةٍ فَكَانَ نُكْتَةٌ مثل الدِّرْهَمِ يَابِسٌ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا الْمَوْضِعَ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ فَسَلَتَ شَعْرَهُ مِنَ الْمَاءِ وَمَسَحَهُ بِهِ وَلَمْ يُعِدِ الصَّلاةَ " . الْمُتَوَكِّلُ بْنُ فُضَيْلٍ ، ضَعِيفٌ . وَرُوِيَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَجْلانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ.
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی۔ آپ نے غسل جنابت کیا ہوا تھا، آپ کے جسم مبارک پر ایک ورمہ جتنا حصہ خشک رہ گیا تھا جہاں تک پانی نہیں پہنچا تھا۔ عرض کی گئی: ”یا رسول اللہ! اس جگہ تک پانی نہیں پہنچا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بالوں میں سے پانی کو اس جگہ ٹپکایا اور وہاں ہاتھ پھیر لیا، آپ نے نماز از سر نو ادا نہیں کی۔ اس روایت کا راوی متوکل بن فضیل ضعیف ہے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، جس کا ایک راوی متروک الحدیث ہے۔
حدیث نمبر: 396
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " اغْتَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَنَابَةٍ فَرَأَى لُمْعَةً بِجِلْدِهِ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ ، فَعَصَرَ خَصْلَةً مِنْ شَعْرِ رَأْسِهِ فَأَمَسَّهَا ذَلِكَ الْمَاءَ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت کیا، پھر آپ کو اپنی جلد پر ایک چھوٹا سا حصہ نظر آیا، جس تک پانی نہیں پہنچا تھا تو آپ نے اپنے سر کے بالوں میں سے کچھ پانی نچوڑا اور وہ پانی اس جگہ پر لگایا۔
حدیث نمبر: 397
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ ، نا عَفَّانُ ، نا هَمَّامُ ، عَنِ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ وَأَجْهَدَ نَفْسَهُ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ أنزل أَوْ لَمْ يُنْزِلْ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”جب کوئی شخص عورت کے ساتھ صحبت کرے تو اس پر غسل واجب ہو جاتا ہے خواہ اسے انزال ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔“
حدیث نمبر: 398
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، نا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَمَطَرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَعَدَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ وَاجْتَهَدَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ " ، قَالَ أَحَدُهُمَا : " وَإِنْ لَمْ يُنْزِلْ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ صحبت کرے تو اس پر غسل واجب ہو جاتا ہے۔“ ایک راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”اگرچہ اس کو انزال نہ ہوا ہو۔“
حدیث نمبر: 399
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُرْشِدٍ ، نا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْغُسْلُ مِنْ أَرْبَعٍ : مِنَ الْجَنَابَةِ ، وَالْجُمُعَةِ ، وَالْحِجَامَةِ ، وَغُسْلِ الْمَيِّتِ " . مُصْعَبُ بْنُ شَيْبَةَ ، لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَلا بِالْحَافِظِ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”چار وجہ سے غسل لازم ہو جاتا ہے: جنابت کی وجہ سے، جمعہ کے دن، پھپنے لگوانے کے بعد اور میت کو غسل دینے کے بعد۔“ اس روایت کا ایک راوی مصعب بن شیبہ مستند نہیں ہے اور حافظ بھی نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 400
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الأُبُلِّيُّ ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْعَسْكَرِيُّ ، نا أَبُو عُمَرَ الْمَازِنِيُّ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، ثنا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عَلَى الْمَاءِ جَنَابَةٌ ، وَلا عَلَى الأَرْضِ جَنَابَةٌ ، وَلا عَلَى الثَّوْبِ جَنَابَةٌ " .
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”پانی پر جنابت لاحق نہیں ہوتی، زمین پر اثر انداز نہیں ہوتی اور کپڑے پر اثر انداز نہیں ہوتی (یعنی کوئی جنبی شخص اگر پانی میں ہاتھ ڈال دے یا زمین پر لیٹ جائے یا کوئی کپڑا پہن لے تو وہ ناپاک نہیں ہوتے)۔“
حدیث نمبر: 401
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ح نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَرْبَعٌ لا يُجْنَبْنَ : الإِنْسَانُ ، وَالْمَاءُ ، وَالأَرْضُ ، وَالثَّوْبُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”چار چیزوں میں جنابت نہیں ہے: انسان میں، پانی میں، زمین میں اور کپڑے میں۔“
حدیث نمبر: 402
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَيُخَلِّلُ بِهَا أُصُولَ شَعْرِهِ ، حَتَّى إِذَا خُيِّلَ إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدِ اسْتَبْرَأَ الْبَشَرَةَ غَرَفَ بِيَدَيْهِ مِلْءَ كَفَّيْهِ ثَلاثًا فَصَبَّهَا عَلَى رَأْسِهِ ، ثُمَّ اغْتَسَلَ فَأَفَاضَ الْمَاءَ عَلَى جَسَدِهِ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کرتے تھے تو سب سے پہلے آغاز میں آپ اپنے دونوں ہاتھ دھوتے تھے، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کیا کرتے تھے، پھر آپ اپنا دست مبارک برتن میں داخل کرتے تھے اور پھر پانی کے ذریعے اپنے بالوں کی جڑوں کا خلال کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ جب آپ کو یہ اندازہ ہو جاتا کہ آپ نے اپنی جلد کو اچھی طرح دھو لیا ہے، تو آپ دونوں ہاتھوں میں پانی بھر کر تین مرتبہ اپنے سر پر بہا دیتے تھے، پھر اس کے بعد پورے جسم کو دھو لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 403
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ سَعِيدٍ ، نا جَمِيعُ بْنُ عُمَيْرٍ أَحَدُ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أُمِّي وَخَالَتِي عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، وَنَحْنُ نُفِيضُ عَلَى رُءُوسِنَا خَمْسًا مِنْ أَجْلِ الضُّفْرَةِ " .
محمد محی الدین
جمیع بن عمیر بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں اپنی والدہ اور خالہ کے ہمراہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (غسل کرتے ہوئے) نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے تھے، پھر اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتے تھے اور ہم (خواتین) اپنے سر پر پانچ مرتبہ پانی بہاتی تھیں، کیونکہ ہم نے بال باندھے ہوئے تھے۔“
حدیث نمبر: 404
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، نا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، نا الأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ ، قَالَتْ : " أَدْنَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلا مِنَ الْجَنَابَةِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الْمَاءِ فَأَفْرَغَ عَلَى فَرْجِهِ وَغَسَلَ بِشِمَالِهِ ، ثُمَّ دَلَكَ بِشِمَالِهِ الأَرْضَ دَلْكًا شَدِيدًا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ ، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ بِمِلْءِ كَفَّيْهِ ، ثُمَّ تَنَحَّى مِنْ مَقَامِهِ فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ وَأَتَيْتُهُ بِالْمِنْدِيلِ فَرَدَّهُ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: مجھے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بتائی ہے، ایک مرتبہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کرنے لگے تو میں آپ کے قریب ہوئی، تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ دو یا شاید تین مرتبہ دھوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک پانی میں داخل کیا اور اپنی شرمگاہ پر پانی ڈال کر بائیں ہاتھ کے ذریعے اسے دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ کو زمین پر اچھی طرح مل کر صاف کیا، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کیا، پھر آپ نے دونوں ہتھیلیوں میں پانی بھر کر اپنے پورے جسم کو دھویا، پھر آپ اس جگہ سے تھوڑا سا ہٹ گئے اور آپ نے اپنے دونوں پاؤں دھو لیے، پھر میں آپ کے پاس رومال لے کر آئی (تاکہ آپ اپنا جسم پونچھ لیں) تو آپ نے اسے قبول نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 405
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا الْحَسَّانِيُّ ، نا وَكِيعٌ ، نا الأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ : " وَضَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلا فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ ، فَأَكْفَأَ الإِنَاءَ بِشِمَالِهِ عَنْ يَمِينِهِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَأَفَاضَ عَلَى فَرْجِهِ ، ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ عَلَى الْحَائِطِ أَوِ الأَرْضِ ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ الْمَاءَ ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ " .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، وہ فرماتی ہیں: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے لیے پانی رکھا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت کرنا تھا۔“ آپ نے اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی انڈیلا اور پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو تین، تین مرتبہ دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اپنی شرمگاہ پر پانی بہایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ دیوار یا زمین پر ملا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے اور بازوؤں کو دھویا اور پھر آپ نے اپنے پورے جسم پر پانی بہالیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ سے ہٹ گئے اور دونوں پاؤں کو دھو لیا۔
حدیث نمبر: 406
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، ثنا سُفْيَانُ ، نا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُ امْرَأَةً أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِيَ عَلَى رَأْسِكِ ثَلاثَ حَثَيَاتٍ ، أَوْ ثَلاثَ حَفَنَاتٍ ثُمَّ تُفْرِغِي عَلَيْكِ فَإِذَا أَنْتِ قَدْ طَهُرْتِ " .
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”میرے بال چوٹیوں کی شکل میں سختی سے بندھے ہوئے ہوتے تھے، میں نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے اتنا کافی ہے، تم اپنے سر پر تین مرتبہ دونوں ہاتھ بھر کر پانی بہا لیا کرو۔ (یہاں حدیث کے لفظ میں راوی کو شک ہے) تم اپنے پورے جسم پر پانی بہا لیا کرو، تو تم پاک ہو جاؤ گی۔“