حدیث نمبر: 198
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا أَبُو صَالِحٍ ، نا اللَّيْثُ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُرُّ بِهِ الْهِرُّ فَيُصْغِي لَهَا الإِنَاءَ ، فَتَشْرَبُ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ بِفَضْلِهَا " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَعْقُوبُ هَذَا أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي ، وَعَبْدُ رَبِّهِ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بعض اوقات کوئی بلی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ جاتی تھی تو آپ برتن اس کی طرف بڑھا دیتے تھے اور وہ اس میں پانی پی لیتی تھی اور پھر آپ بلی کے جوٹھے پانی سے وضو کر لیا کرتے تھے۔ ابوبکر نامی راوی بیان کرتے ہیں: اس روایت کے راوی یعقوب ہیں، یہ قاضی ابویوسف ہیں، اور عبدربہ نامی راوی عبداللہ بن سعید مقبری ہیں، جو ضعیف ہیں۔
حدیث نمبر: 199
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، أنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، نا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " فِي سُؤْرِ الْهِرِّ يُهَرَاقُ وَيُغْسَلُ الإِنَاءُ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ " . مَوْقُوفٌ.
محمد محی الدین
بلی کے جوٹھے کے بارے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان ہے: ”اس پانی کو بہا دیا جائے اور اس برتن کو ایک مرتبہ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) دو مرتبہ دھولیا جائے۔“ یہ روایت ”موقوف“ ہے۔
حدیث نمبر: 200
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " إِذَا وَلَغَ الْهِرُّ فِي الإِنَاءِ فَاهْرِقْهُ وَاغْسِلْهُ مَرَّةً " .
محمد محی الدین
محمد بن سیرین، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا ہے: ”جب کوئی بلی کسی برتن میں منہ ڈال دے تو تم اس میں موجود پانی کو بہا دو اور اسے ایک مرتبہ دھو لو۔“
حدیث نمبر: 201
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، نا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " فِي الْهِرِّ يَلَغُ فِي الإِنَاءِ ، قَالَ : اغْسِلْهُ مَرَّةً وَأَهْرِقْهُ " .
محمد محی الدین
محمد بن سیرین، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: انہوں نے بلیوں کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اگر وہ کسی برتن میں منہ ڈال دے تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم اسے ایک مرتبہ دھولو اور اس میں موجود پانی کو بہا دو۔“
حدیث نمبر: 202
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، نا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، وَثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ ، نا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالا : نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ فِي السِّنَّوْرِ : " إِذَا وَلَغَتْ فِي الإِنَاءِ يَغْسِلُهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ " . لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ لَيْسَ بِحَافِظٍ ، وَهَذَا مَوْقُوفٌ ، وَلا يَصِحُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، هَذَا أَشْبَهُ أَنَّهُ مِنْ قَوْلِ عَطَاءٍ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بلی کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب وہ کسی برتن میں منہ ڈال دے تو آدمی اسے سات مرتبہ دھولے۔“ اس روایت کا راوی لیث بن ابوسلیم حافظ نہیں ہیں اور یہ روایت ”موقوف“ ہے، اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مستند طور پر منقول نہیں ہے، زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ یہ عطاء کا اپنا قول ہے۔
حدیث نمبر: 203
قَالَ جَعْفَرٌ نا مُوسَى قَالَ : وَثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ثنا أَبُو بَكْرٍ ، نا وَكِيعٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً ، يَقُولُ : " فِي الْهِرِّ يَلَغُ فِي الإِنَاءِ ، قَالَ : يَغْسِلُهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ " .
محمد محی الدین
حسن بن علی بیان کرتے ہیں: میں نے عطاء کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: انہوں نے بلیوں کے بارے میں یہ فرمایا ہے: ”جب وہ کسی برتن میں منہ ڈال دے تو آدمی اسے سات مرتبہ دھولے۔“
حدیث نمبر: 204
وَثنا أَبُو بَكْرٍ ، نا غُنْدَرٌ ، ثنا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : " يَغْسِلُهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثَةً " .
محمد محی الدین
سعید بن مسیب فرماتے ہیں: ”آدمی اسے دو مرتبہ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) تین مرتبہ دھولے۔“
حدیث نمبر: 205
نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ ، وبَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالا : نا أَبُو عَاصِمٍ ، نا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " طَهُورُ الإِنَاءِ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ يُغْسَلُ سَبْعَ مَرَّاتٍ ، الأُولَى بِالتُّرَابِ وَالْهِرُّ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ " . قُرَّةُ يَشُكُّ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : كَذَا رَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ مَرْفُوعًا . ورَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ قُرَّةَ وُلُوغُ الْكَلْبِ مَرْفُوعًا ، وَوُلُوغُ الْهِرِّ مَوْقُوفًا.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی برتن میں کوئی کتا منہ ڈال دے تو اسے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے، اسے سات مرتبہ دھولیا جائے، اور پہلی مرتبہ اسے مٹی کے ذریعے صاف کیا جائے، اور بلی کے بارے میں حکم یہ ہے، اسے ایک مرتبہ یا دو مرتبہ دھولیا جائے۔“ یہ شک قرہ نامی راوی کو ہے۔ ابوبکر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: ابوعاصم نامی راوی نے اس روایت کو ”مرفوع“ حدیث کے طور پر نقل کیا ہے، جبکہ دیگر راویوں نے کتے کے بارے میں حکم کو ”مرفوع“ حدیث کے طور پر نقل کیا ہے اور بلی کے منہ ڈالنے کے حکم کو ”موقوف“ روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 206
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، قَالا : نا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا قُرَّةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْهِرِّ يَلَغُ فِي الإِنَاءِ ، قَالَ : " اغْسِلْهُ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ " . وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بلی کے بارے میں یہ ارشاد فرماتے ہیں: ”جب وہ کسی برتن میں منہ ڈال دے تو تم اسے ایک مرتبہ دھولو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) دو مرتبہ دھو لو۔“ یہ روایت اسی طرح سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ”موقوف“ روایت کے طور پر منقول ہے۔
حدیث نمبر: 207
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا عَلانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، نا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، أَخْبَرَنِي خَيْرُ بْنُ نُعَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " يُغْسَلُ الإِنَاءُ مِنَ الْهِرِّ ، كَمَا يُغْسَلُ مِنَ الْكَلْبِ " . هَذَا مَوْقُوفٌ وَلا يُثْبَتُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ فِي بَعْضِ أَحَادِيثِهِ اضْطِرَابٌ.
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ ارشاد فرماتے ہیں: ”بلی کے منہ ڈالنے پر برتن کو دھو لیا جائے گا، بالکل اسی طرح جس طرح کتے کے منہ ڈالنے پر دھویا جاتا ہے۔“ یہ روایت ”موقوف“ ہے اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مستند طور پر ثابت نہیں ہے۔ یحییٰ بن ایوب نامی راوی کی بعض روایات میں اضطراب پایا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 208
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ، نا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُغْسَلُ الإِنَاءُ مِنَ الْهِرِّ كَمَا يُغْسَلُ مِنَ الْكَلْبِ " . لا يُثْبَتُ هَذَا مَرْفُوعًا ، وَالْمَحْفُوظُ مِنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَاخْتُلِفَ عَنْهُ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلی کے منہ ڈالنے پر برتن کو اسی طرح دھویا جائے گا جیسے کتے کے منہ ڈالنے پر دھویا جاتا ہے۔“ شیخ (امام دارقطنی) فرماتے ہیں: یہ روایت ”مرفوع“ طور پر مستند نہیں ہے اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر زیادہ مستند ہے اور اس بارے میں بھی اختلاف کیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 209
ثنا الْمَحَامِلِيُّ ، نا الصَّاعَانِيُّ ، نا ابْنُ عُفَيْرٍ ، بِإِسْنَادٍ مِثْلَهُ مَوْقُوفًا.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ ”موقوف“ روایت کے طور پر منقول ہے۔
حدیث نمبر: 210
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَبُو الأَزْهَرِ ، نا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، نا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " إِذَا وَلَغَ السِّنَّوْرُ فِي الإِنَاءِ غُسِلَ سَبْعَ مَرَّاتٍ " . مَوْقُوفٌ لا يُثْبَتُ ، وَلَيْثٌ سِيءَ الْحِفْظِ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”بلی جس برتن میں منہ ڈال دے تو اس برتن کو سات مرتبہ دھولیا جائے۔“ یہ روایت ”موقوف“ ہے اور مستند طور پر منقول نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 211
نا بُو بَكْرٍ ، نا إبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، نا أبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي شَيْبَةَ ، نا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ لَيْثٍ ، بِهَذَا مِثْلَهُ.
محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 212
نا أَبُو بَكْرٍ ، نا أَبُو الأَزْهَرِ ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّهُ كَانَ يَجْعَلُ الْهِرَّ مثل الْكَلْبِ يُغْسَلُ سَبْعًا " .
محمد محی الدین
طاؤس کے صاحبزادے اپنے والد کے بارے میں یہ بات بیان کرتے ہیں: وہ بلی کے منہ ڈالنے پر بھی کتے کے منہ ڈالنے کی طرح برتن کو سات مرتبہ دھویا کرتے تھے۔ ابن جریج بیان کرتے ہیں: میں نے عطاء سے دریافت کیا: بلی کا کیا حکم ہے؟ تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ”کتے کی مانند ہے۔“ یا شاید انہوں نے یہ فرمایا تھا: ”یہ اس سے زیادہ بری ہے۔“
حدیث نمبر: 213
قَالَ : وَنا قَالَ : وَنا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ : قُلْتُ لِعَطَاءٍ : الْهِرُّ ، قَالَ " هِيَ بِمَنْزِلَةِ الْكَلْبِ أَوْ شَرٌّ مِنْهُ " . نا أَبُو بَكْرٍ ، نا هِلالُ بْنُ الْعَلاءِ ، ثنا أبِي ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وَثنا أَبُو بَكْرٍ ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ ، نا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، قَالُوا : نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، أَنَّهُ قَالَ فِي الإِنَاءِ تَلِغُ فِيهِ السِّنَّوْرُ ، قَالَ : " اغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ " .
محمد محی الدین
مجاہد برتن میں بلی کے منہ ڈالنے کے بارے میں یہ فرماتے ہیں: ”اس برتن کو سات مرتبہ دھولو۔“
حدیث نمبر: 214
نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، نا حَارِثَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَتَوَضَّأُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، وَقَدْ أَصَابَتْ مِنْهُ الْهِرَّةُ قَبْلَ ذَلِكَ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات ایک ہی برتن سے وضو کر لیا کرتے تھے، جس میں سے بلی پہلے پانی پی چکی ہوتی تھی۔ یہ روایت ”صحیح“ ہے۔
حدیث نمبر: 215
نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ، نا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، نا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنِ الْهَيْثَمِ يَعْنِي الصَّرَّافَ ، عَنْ حَارِثَةَ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ قَدْ أَصَابَتْ مِنْهُ الْهِرَّةُ قَبْلَ ذَلِكَ " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن کے ذریعے وضو کر لیا کرتے تھے، جس میں سے بلی پہلے پانی پی چکی ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 216
نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ أَبُو حَاتِمٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ مُسَافِعٍ الْحَجَبِيُّ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ هِيَ كَبَعْضِ أَهْلِ الْبَيْتِ " ، يَعْنِي الْهِرَّ .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ (بلی) ناپاک نہیں ہے بلکہ یہ گھر میں (بسنے والے جانوروں) کی طرح ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بلی کے بارے میں ہے۔
حدیث نمبر: 217
نا الْحُسَيْنُ ثنا الرَّمَادِيُّ ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، نا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ هِرَّةً أَكَلَتْ مِنْ هَرِيسَةٍ فَأَكَلَتْ عَائِشَةُ مِنْهَا ، وَقَالَتْ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِفَضْلِهَا " . رَفَعَهُ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ صَالِحٍ ، وَرَوَاهُ عَنْهُ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، وَوَقَفَهُ عَلَى عَائِشَةَ.
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ایک مرتبہ ایک بلی نے ”ہریسہ“ میں سے کچھ کھا لیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بعد میں اس میں سے کھا لیا اور یہ فرمایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، آپ بلی کے جوٹھے (پانی) کے ذریعے وضو کر لیا کرتے تھے۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تک ”موقوف“ ہے۔
حدیث نمبر: 218
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، نا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ كَانَ يُصْغِي إِلَى الْهِرَّةِ الإِنَاءَ حَتَّى تَشْرَبَ ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ بِفَضْلِهَا " .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم برتن کو بلی کی طرف انڈیل دیتے تھے اور بلی اس میں سے پانی پی لیتی تھی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بلی کے جوٹھے کے ذریعے وضو کر لیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 219
نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السَّهْمِيُّ ، نا مَالِكٌ ، وَثنا الْحُسَيْنُ ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، نا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدٍ ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ الأَنْصَارِيَّ ، دَخَلَ فَسَكَبْتُ لَهُ وُضُوءًا فَجَاءَتْ هِرَّةٌ لِتَشْرَبَ مِنْهُ ، فَأَصْغَى لَهَا أَبُو قَتَادَةَ الإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ ، قَالَ : فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ ، قَالَ : أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي ؟ قَالَتْ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ ، إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ " .
محمد محی الدین
سیدہ کبشہ بنت کعب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے ایک صاحبزادے کی اہلیہ تھیں: ایک مرتبہ سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ گھر میں داخل ہوئے تو اس خاتون نے ان کے لیے وضو کا پانی رکھا۔ اس دوران ایک بلی آئی تاکہ وہ اس میں سے پانی پی لے تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے برتن اس کی طرف انڈیل دیا، اس بلی نے پانی پی لیا۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: جب سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے میری طرف دیکھا کہ میں ان کی طرف بڑے غور سے دیکھ رہی ہوں تو انہوں نے دریافت کیا: ”اے میری بھتیجی! کیا تم اس بات پر حیران ہو رہی ہو؟“ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: یہ (بلی) ناپاک نہیں ہے، بلکہ یہ تمہارے ہاں آنے جانے والے (پالتو) جانوروں میں سے ایک ہے۔“
حدیث نمبر: 220
نا نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا مَسْعَدَةُ بْنُ الْيَسَعَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَلِيًّا ، سُئِلَ عَنْ سُؤْرِ السِّنَّوْرِ ، فَقَالَ : " هِيَ مِنَ السِّبَاعِ ، وَلا بَأْسَ بِهِ " .
محمد محی الدین
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام محمد باقر رحمہ اللہ) کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ (یا شاید امام زین العابدین رحمہ اللہ) سے بلی کے جوٹھے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ درندوں میں شامل ہے اور اس میں (یعنی اس کے جوٹھے میں) کوئی حرج نہیں ہے۔“