سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ بَيَانِ الْمَوَاقِيتِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ باب: : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
حدیث نمبر: 998
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا أحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ أَبْعَدُ رَجُلَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَارا : أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ ، وَأَهْلُهُ بِقُبَاءٍ ، وَأَبُو عُبَيْسِ بْنُ خَيْرٍ ، وَمَسْكَنُهُ فِي بَنِي حَارِثَةَ ، فَكَانَا يُصَلِّيَانِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ، ثُمَّ يَأْتِيَانِ قَوْمَهُمَا وَمَا صَلُّوا لِتَعْجِيلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا " .محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انصار میں سے سب سے زیادہ دور سیدنا ابولبابہ کا گھر تھا، جو قبا میں تھا اور ابوعمیس کا گھر جو بنو حارثہ کے محلے میں تھا، یہ دونوں حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کرتے تھے پھر اپنی اپنی جگہ پہنچ جاتے تھے تو ان لوگوں نے ابھی نماز ادا نہیں کی ہوتی تھی۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جلد یہ نماز ادا کر لیا کرتے تھے۔