سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ بَيَانِ الْمَوَاقِيتِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ باب: : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
حدیث نمبر: 997
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبِي الأَبْيَضِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ " ، ثُمَّ آتِي عَشِيرَتِي وَهُمْ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ جُلُوسٌ لَمْ يُصَلُّوا ، فَأَقُولُ : مَا يُجْلِسُكُمْ قُومُوا صَلُّوا ، فَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھا دی جبکہ سورج ابھی روشن اور چمکدار تھا، پھر میں اپنے خاندان والوں کے پاس آیا، وہ مدینہ منورہ کے کنارے میں بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے ابھی نماز ادا نہیں کی تھی، میں نے کہا: ”تم لوگ کیوں بیٹھے ہو، اٹھو، نماز پڑھ لو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو نماز ادا کر چکے ہیں۔“