سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ بَيَانِ الْمَوَاقِيتِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ باب: : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
حدیث نمبر: 993
ح وحدثني أبي ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، ثنا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، يَقُولُ : قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا أُخْبِرُكُمْ بِصَلاةِ الْمُنَافِقِ ؟ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعَصْرَ ، حَتَّى إِذَا كَانَتْ كَثَرَبِ الْبَقَرَةِ صَلاهَا " .وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَغَيْرِهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ الْعَصْرِ .محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”کیا میں تمہیں منافق کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ عصر کی نماز کو موخر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ گائے کے منہ مارنے کی طرح سے ادا کرتا ہے۔“ اسی طرح سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عصر کی نماز کو جلدی پڑھنے کی حدیث روایت کی ہے۔