سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ بَيَانِ الْمَوَاقِيتِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ باب: : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا ابْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالا : نا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْمَسْجِدِ الأَعْظَمِ ، وَالْكُوفَةُ يَوْمَئِذٍ أَخْصَاصٌ ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ ، فَقَالَ : الصَّلاةُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لِلْعَصْرِ ، فَقَالَ : " اجْلِسْ " ، فَجَلَسَ ، ثُمَّ عَادَ فَقَالَ ذَلِكَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " هَذَا الْكَلْبُ يُعَلِّمُنَا بِالسُّنَّةِ " ، فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَصَلَّى بِنَا الْعَصْرَ ، ثُمَّ انْصَرَفْنَا فَرَجَعْنَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي كُنَّا فِيهِ جُلُوسًا ، فَجَثَوْنَا لِلرُّكَبِ لِنُزُولِ الشَّمْسِ لِلْمَغِيبِ نَتَرَآهَا . زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيُّ مَجْهُولٌ ، لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ.زیاد بن عبداللہ نخعی بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد اعظم میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کوفہ ان دنوں اخصاص تھا، موذن ان کے پاس آیا اور بولا: ”امیر المؤمنین! عصر کی نماز کا وقت ہو گیا ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ وہ بیٹھ گیا، اس نے پھر دوبارہ یہی عرض کی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ گدھا ہمیں سنت کی تعلیم دے گا۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی، پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد پھر اسی جگہ پر آکر بیٹھ گئے، جہاں پہلے بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر ہم نے گھٹنوں کے بل اٹھ کر اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کی کہ سورج غروب تو نہیں ہو گیا۔ اس روایت کا راوی زیادہ بن عبداللہ نخعی مجہول ہے، اس کے حوالے سے صرف عباس نامی راوی نے روایت نقل کی ہے۔