سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ بَيَانِ الْمَوَاقِيتِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ باب: : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، ثنا مُحَمَّدُ أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ، ثنا أَبُو صَالِحٍ ، ثنا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَقَالَ : الْعَصْرُ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُرْتَفِعَةٌ يَسِيرُ الرَّجُلُ حَتَّى يَنْصَرِفَ مِنْهَا إِلَى ذِي الْحُلَيْفَةِ سِتَّةَ أَمْيَالٍ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ ، وَقَالَ فِيهِ أَيْضًا : وَيُصَلِّي الصُّبْحَ فَيُغَلِّسُ بِهَا ، ثُمَّ صَلاهَا يَوْمًا آخَرَ فَأَسْفَرَ ، ثُمَّ لَمْ يَعُدْ إِلَى الإِسْفَارِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: جب آپ عصر کی نماز ادا کرتے تھے اس وقت سورج روشن اور بلند ہوتا تھا، کوئی شخص چلتا ہوا جاتا تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد ذوالحلیفہ پہنچ سکتا تھا جو چھ میل کے فاصلے پر تھا اور وہ سورج غروب ہونے سے پہلے وہاں پہنچ سکتا تھا۔ اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: صبح کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں ادا کیا کرتے تھے پھر کسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے روشنی میں بھی ادا کر لیتے تھے (لیکن پھر اس کے بعد آپ نے اسے اندھیرے میں ہی ادا کرنے کا معمول اختیار کیا)۔ دوبارہ کبھی روشنی میں آپ نے یہ نماز ادا نہیں کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک آپ کا یہی معمول رہا۔