سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ بَيَانِ الْمَوَاقِيتِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ باب: : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ قَاعِدًا عَلَى الْمِنْبَرِ فَأَخَّرَ صَلاةَ الْعَصْرِ شَيْئًا ، فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ : أَمَا إِنَّ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ قَدْ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَقْتِ الصَّلاةِ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : أَعْلَمُ مَا تَقُولُ ، قَالَ عُرْوَةُ سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " نزل جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ فَأَخْبَرَنِي بِوَقْتِ الصَّلاةِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ " ، يَحْسِبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حِينَ يَشْتَدُّ الْحَرُّ ، وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَهَا الصُّفْرَةُ ، فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَأْتِي ذَا الْحُلَيْفَةِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسُ ، وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ حِينَ تَسْقُطُ الشَّمْسُ ، وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ حِينَ يَسْوَدُّ الأُفُقُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حَتَّى يَجْتَمِعَ النَّاسُ ، قَالَ الرَّبِيعُ : سَقَطَ مِنْ كِتَابِي ، حَتَّى فَقَطْ ، وَصَلَّى الصُّبْحَ مَرَّةً بِغَلَسٍ ، ثُمَّ صَلَّى مَرَّةً أُخْرَى ، فَأَسْفَرَ ثُمَّ كَانَتْ صَلاتَهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِالْغَلَسِ حَتَّى مَاتَ ، ثُمَّ لَمْ يَعُدْ إِلَى أَنْ يُسْفِرَ .ابن شہاب بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ عمر بن عبدالعزیز منبر پر بیٹھے ہوئے تھے (یعنی خطبہ دے رہے تھے) انہوں نے عصر کی نماز میں ذرا تاخیر کر دی، تو عروہ بن زبیر بولے: جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے وقت کے بارے میں بتایا تھا۔ عمر بن عبدالعزیز نے ان سے کہا: ”آپ ذرا سمجھنے کی کوشش کریں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔“ تو عروہ نے کہا: میں نے بشیر بن ابومسعود کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے انہوں نے یہ فرمایا ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ایک مرتبہ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے تو انہوں نے مجھے نماز کے وقت کے بارے میں بتایا، میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی پھر میں نے ان کے ساتھ اگلی نماز ادا کی پھر میں ان کے ساتھ اگلی نماز ادا کی، انہوں نے اپنی انگلیوں پر پانچ نمازوں کا حساب لگا کر بتایا۔“ (سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات یاد ہے آپ ظہر کی نماز اس وقت ادا کر لیتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا البتہ جب گرمی زیادہ ہوتی تھی تو آپ اس نماز کو موخر کر دیا کرتے تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عصر کی نماز اس وقت ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے جب سورج بلند اور روشن ہوتا تھا، ابھی اس میں زردی نہیں آئی ہوتی تھی (یعنی دھوپ ماند نہیں ہوئی تھی) اور کوئی شخص نماز ادا کرنے کے بعد سورج غروب ہونے سے پہلے ذوالحلیفہ پہنچ سکتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج غروب ہو جاتا تھا۔ عشاء کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ادا کرتے تھے، جب افق سیاہ ہو جاتا تھا، بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اتنی دیر تک موخر کر دیتے تھے تاکہ لوگ اکٹھے ہو جائیں۔ (راوی کہتے ہیں: ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں) صبح کی نماز کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں ادا کر لیتے تھے اور کبھی روشنی میں ادا کیا کرتے تھے لیکن پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اندھیرے میں ہی ادا کرنا شروع کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک یہی معمول رہا۔ دوبارہ آپ نے کبھی روشنی میں یہ نماز ادا نہیں کی۔