سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
فَضْلُ الصَّلَاةِ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ باب: : یہ جو منقول ہے : سب سے افضل عمل نماز ہے
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أنا شُعْبَةُ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، نا صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ ، وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَلَمْ يُسَمِّهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الصَّلاةُ أَوَّلَ وَقْتِهَا " ، قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " بِرُّ الْوَالِدَيْنِ " ، وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي .عمرو شیبانی بیان کرتے ہیں: ہمیں اس گھر کے مالک نے، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے، لیکن ان کا نام نہیں لیا، یہ بات بیان کی ہے: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: ”کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنا۔“ میں نے عرض کیا: ”پھر کون سا؟“ آپ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔“ میں نے دریافت کیا: ”پھر کون سا؟“ آپ نے فرمایا: ”والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔“ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) اگر میں آپ سے مزید دریافت کرتا تو آپ مجھے مزید جواب عطا کرتے۔