حدیث نمبر: 967
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أنا شُعْبَةُ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، نا صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ ، وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَلَمْ يُسَمِّهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الصَّلاةُ أَوَّلَ وَقْتِهَا " ، قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، قُلْتُ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : " بِرُّ الْوَالِدَيْنِ " ، وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي .
محمد محی الدین

عمرو شیبانی بیان کرتے ہیں: ہمیں اس گھر کے مالک نے، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے، لیکن ان کا نام نہیں لیا، یہ بات بیان کی ہے: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: ”کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کرنا۔“ میں نے عرض کیا: ”پھر کون سا؟“ آپ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔“ میں نے دریافت کیا: ”پھر کون سا؟“ آپ نے فرمایا: ”والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔“ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) اگر میں آپ سے مزید دریافت کرتا تو آپ مجھے مزید جواب عطا کرتے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 967
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 527، 2782، 5970، 7534، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 85، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 327، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1474، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 679، 680، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 609 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 173، 1898، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1261، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 2302، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 103،والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 455، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 967، 968، 969، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3967»
« قال البیھقی: صحيح على شرطهما ، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (3 / 116)»