سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ الْإِقَامَةِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِيهَا باب: اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْيَاءَ لَمْ يُصْنَعْ مِنْهَا شَيْئًا ، قَالَ : فَأُرِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الأَذَانَ فِي الْمَنَامِ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : " أَلْقِهِ عَلَى بِلالٍ " ، فَأَلْقَاهُ عَلَى بِلالٍ ، فَأَذَّنَ بِلالٌ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَنَا رَأَيْتُهُ وَأَنَا كُنْتُ أُرِيدُهُ ، قَالَ : " فَأَقِمْ أَنْتَ " .محمد بن عبداللہ اپنے چچا سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف صورتیں اختیار کرنے کا ارادہ کیا، لیکن ابھی آپ نے اس میں سے کسی کو بھی اختیار نہیں کیا تھا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر سیدنا عبداللہ بن زید کو خواب میں اذان کا طریقہ سکھایا گیا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا: ”تم یہ بلال کو بتاؤ۔“ انہوں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بتایا تو سیدنا بلال نے اذان دی۔ سیدنا عبداللہ بیان کرتے ہیں: میں انہیں دیکھ رہا تھا، میں خود یہ دینا چاہتا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اقامت کہہ دو۔“